151

اب کس کا شکار کیا جائے؟ – ام ارحم

صبح کا وقت تھا جنگل کے سارے جانور چرند پرند سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے بی چڑیا کو آنے والی سردیوں میں اپنے بچوں کے لیے گھر بنانے کی فکر تھی اسی لیے وہ تنکے جمع کرنے کے ساتھ ساتھ روئ اور نرم نرم پتے بھی جمع کر رہی تھی ،جنگل کا بادشاہ شیر بہادر چند روز پہلے ہی ایک معصوم سے ہرن کا شکار کرکے اپنی کچھار میں مزے سے آرام کررہا تھا ۔بندر میاں کو کیلے جمع کرنے کا شوق سوار تھا ۔سارے جانور جانتے تھے کہ جب تک شیر بہادر کو پھر سے بھوک نہیں ستائے گی وہ باہر نہیں آئیں گے اسی لیے سب جلدی جلدی اپنے کام نمٹانے میں مگن تھے کہ اچانک آسمان پہ کالے کالے بادل نمودار ہوتے ہیں اور رِم جِھم رم جھم برسنا شروع ہوجاتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے سارا جنگل جل تھل ہوجاتا ہے بھالو بابا اور گیدڑ صاحب بھاگ بھاگ کہ ہرنی اور اس کے بچوں کو پہاڑ کے نیچے پہنچاتے ہیں جبکہ بندر میاں ایک ڈالی سے دوسری ڈالی اور دوسری سے تیسری ڈالی سے درخت کے جُھنڈ میں پہنچ جاتے ہیں سب ہی جانور کہیں نا کہیں چُھپ گئے تھے کہ اچانک کہیں دور سے ایک میمنے کے رونے کی آواز سنائ دیتی ہے بجلی کی کڑک اور چمک میمنے کو ڈرائے جارہی تھی سب ہی سوچ رہے تھے کہ ایسے موسم میں کون بچاکے لاسکتا ہے میمنے کو تھوڑی ہی دیر میں درختوں کے جُھنڈ سے پتوں کی آواز آتی ہے کیا دیکھتے ہیں کہ بندر میاں اپنے بغل میں میمنے کو سنبھالے آرہے ہیں بکری بی بی بھاگ کے اپنے میمنے کو دبوچ لیتی ہیں سارے جانور بندر میاں کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور بندر میاں شرماکے درختوں میں چُھپ جاتے ہیں ۔سارے جانور حیران تھے کہ نٹ کھٹ سے بندر میاں آج کیسے اتنی بہادری دکھاگئے ابھی سب سوچ ہی رہے تھے کہ بندر میاں درخت کی اوٹ سے سرَ نکال کہ کہتے ہیں ہوں تو میں تھوڑا سا شرارتی مگر کسی کو مصیبت میں نہیں دیلھ سکتا اور سبھی جانور ہنسنے لگتے ہیں ۔
اور پھر کئ روز کی بارش کے بعد آج بڑی چمکیلی دھوپ نکلی تھی سارے ہی جانور اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے بی چڑیا کے گھونسلے میں ننھے مہمان بھی آگئے تھے اور بندر میاں کیلوں کی چاٹ بنا کے کھا رہے تھے ۔ادھر شیر بہادر سوچ رہے تھے اب کس کا شکار کیا جائے !!

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں