45

اردو ایک زبان، ایک تہذیب – مریم وزیر

کمرۂ جماعت میں موجود استاد انگریزی زبان میں سبق کی وضاحت کر رہی تھی. اس کی توجہ کا اہم ترین مرکز ، اس کے شاگرد تھے . بچوں کو ایک غیر زبان میں سکھانا, پڑھانا، سمجھانا، اور اس سے آشنا کرنا اہم اور مشکل کام ہے.

بلکل یہی کام اردو کی استاد بھی کر رہی ہوتی ہے. فرق یہ ہے کہ اردو ماحول میں موجود ہے. اس کو سمجھنا آسان ہے، خصوصاً “کراچی” جیسے شہر میں جہاں اردو با خوبی بولی اور سمجھی جاتی ہے.اس کو لکھنا مشکل ترین!

کہاں، کون سا لفظ استعمال ہوگا؟ کہاں “ہے” یا “ہیں” آئے گا. حروف کیسے بنیں گے؟ . ادا کیسے ہونگے؟املا کیا ہوگا؟

جملوں کو لکھنا کس طرح ہے؟ الفاظ کی ہجے، بناوٹ کیا ہوگی؟ قواعد کون سے استعمال ہونگے. محاورات، ضرب المثال کب؟ ، کہاں؟ استعمال کیے جاسکتے ہیں. یہ سب کام بھی اردو کے اساتذہ سکھاتے ہیں. یہ سب کام ایک اردو کے استاد کو ہی کرنا ہوتے ہیں .

زبانیں اپنے ساتھ اپنا پس منظر اور تہذیب لے کر آتی ہیں. اچھی اردو پڑھانے کے لیے اچھی اردو آنا ضروری ہے. مطالعہ پر گرفت اور زبان سے گہری واقفیت کا ہونا ضروری ہے.

کسی بھی زبان کو اس کے قواعد کے ساتھ بولنا، اس میں لکھنا، بات کرنا، سمجھنا الگ الگ کام ہیں.ان میں سے ہر ایک میں مہارت حاصل کرنا صرف اس کے مسلسل استعمال کے بعد ہی ممکن ہوگا. اسی کلیہ کواردو پر بھی لاگو کرنے کی ضرورت ہے.

اردو کو قطعاً ایک ایسی زبان سمجھنے کی کوشش نہیں کریں کہ یہ غیر اہم زبان ہے. اس زبان کو ہر کوئی پڑھا بھی نہیں سکتا. مگر اسکول انتظامیہ کو اس کا ادراک نہیں ہوتا.

اردو ایک پھلنے پھولنے والی زبان ہے جس کو رومن میں لکھ کر اس کے اصل کو گم کیا جارہا ہے. اردو پڑھانے والی استاد موبائل استعمال کرلے گی، مگر اردو کی بورڈ اور اردو رسم الخط استعمال کرنا نہیں آتا اس کی کچھ وجوہات ہیں:

*سیکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی.

*اس کی اہمیت نہیں ہوتی ان کی نظر میں.

*معاشرے کی نظر میں اس کی پذیرائی اور حیثیت نہیں ہے .

* حکومتی سطح پر اس کی اہمیت صرف بولنے کی حد تک ہے کہ سرکاری اداروں میں سارے تحریری کام انگریزی میں ہوتے ہیں.

پاکستان میں ایک وجہ اردو کی حیثیت کم ہونے کی یہ بھی ہے کہ یہاں اردو پڑھانے والے استاد کی اہمیت کا نہ ہونا ہے. وہ زبان جس کو ٹوٹا پھوٹا ہر پاکستانی فرد بول اور سمجھ لیتا ہے. اس کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی جاتی کہ دیگر زبانوں کے اساتذہ کے برابر تنخواہیں دی جائیں. عموماً قدرے کم تنخواہ پر آرام سے ایک اردو استاد کو رکھا جاسکتا ہے اور اردو کے ساتھ عربی، اسلامیات، معاشرتی علوم، اور دیگر کسی بھی مضمون کو نتھی کیا جاتا ہے.

حکومت وقت، اسکول انتظامیہ، معاشرے
کے اہل علم افراد اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں. تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں اردو نہ صرف سمجھ، پڑھ اور لکھ لیں اسی کے رسم الخط میں بلکہ دنیا بھر میں اس کی پہچان کرواسکیں. جو بھارتی ڈراموں کے ذریعے سنی گئی ہندی کو اردو نہ سمجھیں بلکہ اس کو اردو اساتذہ اور معاشرے سے اسے سیکھیں

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں