319

اسکول کیوں بھیجیں؟ – جہانزیب راضی

آپ کو کتنے فون نمبرز زبانی یاد ہیں؟ مشکل سے دو ہی ہونگے ایک اپنا اور دوسرا اپنے شوہر کا، لیکن آپ کے ابو اور امی وغیرہ کو تو 100، 150 نمبرز زبانی یاد ہوتے تھے جو دماغ کے لئے بہت اچھا تھا، اس طرح سے دماغ ورزش میں رہتا تھا اور مسلسل کام میں لگا رہتا تھا۔ آپ کیوں یاد نہیں کر لیتیں؟
میں آپ کو بیوقوف نظر آرہی ہوں جو اتنے سارے نمبرز بلاوجہ یاد کروں ؟ میرے پاس اسمارٹ فون ہے، اس میں سارے نمبرز “save” ہیں۔ اگر فون خراب ہوگیا تو؟ میں نے فورا اگلا سوال کر دیا، تو کیا ہوا! میرا gmail پر اکاؤنٹ موجودہے۔ نئے فون میں سارا ڈیٹا دوبارہ سے “sync” ہوجائے گا۔
اب تک وہ خاصی جھنجلا چکی تھیں، لیکن اس سب کو چھوڑیں۔ آپ میرے سوال کا جواب دیں، بچے اسکول نہ جائیں تو کیا گھر میں جاہل رہ جائیں؟ آپ اتنے بڑے بڑے “بھاشن” اپنے مضامین میں دیتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ بچہ اسکول نہ جائے تو کیا کرے؟ وہ اپنے سوال کا جواب چاہتی تھیں اور میں ان سے اپنے سوال کا جواب چاہ رہا تھا۔
میں نے ان سے دوسرا سوال پوچھا؛ بچے سکول جاتے کیوں ہیں؟ ان کے جوابات وہی روایتی قسم کے تھے جن کا عملی زندگی سے حقیقت میں بھی کوئی دور کا تعلق نہیں تھا۔ شعور، آگاہی، علم اور تعلیم و تربیت وغیرہ ۔۔۔ میں نے زور کا قہقہ لگایا اور بولا “میٹرک چھوڑیں، یونیورسٹی کی ڈگری لینے کے بعد بھی اتنے ثقیل اور مشکل الفاظ تو بچوں کے منہ سے نہیں نکل پاتے عمل میں کہاں سے نکلیں گے؟”۔
میں نے پوری سنجیدگی سے کہا؛ “ہمارا تعلیمی نظام اور یہ سارے کا سارا ایجوکیشن سسٹم معلومات کو “ذہن نشین” کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مونٹیسوری سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک طلبا و طالبات کو “انفارمیشن کو میمورائز” کروایا جاتا ہے۔ آپ کو دوسرے سے تیسرا فون نمبر یاد کرنا بے وقوفی لگتا ہے لیکن اسمارٹ فون، انٹرنیٹ، گوگل اور یوٹیوب کی موجودگی میں Periodic table کا رٹا لگانا،Idioms کے رٹے مارنا، اپنی ہی مادری زبان کے سوالات و جوابات کو بار بار دہراتے رہنا، math اور arithmetic کے سوالات کو آئی فون اور ٹیب کی موجودگی میں، جو انڈے سے نکلے بچے کے ہاتھ میں پہلے سے ہی موجود ہے اسکول بھیج کر خوامخواہ کاپیاں کالی کروانا کہاں کی عقلمندی ہے؟
میں کلاس1 میں تھا۔ میری کلاس میں پہلی پوزیشن تھی۔ میری پرنسپل کلاس کے دورے پر آئیں، انہوں نے میری خوشخطی دیکھی، ایک برا سا منہ بنایا اور اس بات کا لحاظ تک نہ کیا کہ میں کلاس کا پوزیشن ہولڈر بچہ ہوں میری پینسل انگلیوں کے درمیان میں رکھ کر اتنی زور سے دبائی کے آنکھوں سے آنسو اور منہ سے ایک زور کی چیخ نکلی، لیکن میں آج تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ انہوں نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟
میں پچھلے ڈیڑھ پونے دو سال سے ہر ہفتے ایک مضمون لکھ کر سوشل میڈیا اور اپنی ویب سائٹ پراپلوڈ کرتا ہوں۔ پہلے مجھے پورا بلاگ ٹائپ کرنا پڑتا تھا اور مجھے وہاں بھی اپنی نام نہاد “خوشخطی” کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ صرف اردو کے 500سے زیادہ فانٹس میرے لیپ ٹاپ میں موجود ہیں، لیکن اب تو کچھ عرصے سے میں صرف گوگل keyboard استعمال کرتے ہوئے اپنا بلاگ پڑھتاجاتا ہوں اور گوگل ٹائپ کرتا جاتا ہے، اور میں آخر میں اس کو ایڈٹ کر لیتا ہوں۔
انٹرنیٹ اور گوگل نے ان پڑھ لوگوں کو پڑھا لکھا اور قلم سے عاری لوگوں کو لکھاری بنا دیا ہے۔ آپ کو پڑھنا نہیں آتا تو آپ اسے گوگل کے حوالے کر دیں، گوگل آپ کو سب کچھ پڑھ کر سنا دے گا لیکن آپ بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ آج بھی ہمارے اسکولوں میں “ہینڈ رائٹنگ” اور “خوشخطی” کے نمبرز کاٹے جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس صدی میں بچوں کی تعلیم وتربیت کی ساری ذمہ داری والدین کےسر آگئی ہے اور المیہ یہ ہے کہ والدین اس ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کرکے اس ساری ذمہ داری کو اسکول کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
اسکولزتو چھوڑیں یونیورسٹیز تک کی ڈگریاں بے معنی اور بے مقصد ہوچکی ہیں۔ پچھلے دنوں نوکریوں کی تلاش کی سب سے بڑی ویب سائٹ “glassdoor” نے CNBC نیوز کا سروے جاری کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کی چودہ بڑی کمپنیوں نے اپنی جاب vacancies میں سے ڈگری کی شرط ہی ختم کردی ہے۔ ان اداروں میں گوگل، مائیکرو سافٹ، فیس بک، ایپل، دی بینک آف امریکا، آئی- بی – ایم اور اسٹاربکس شامل ہیں۔
آئی- بی -ایم کی 62 سالہ خاتون سی- ای – او “Ginni Rometty” کا دعویٰ ہے کہ آئی- بی- ایم کے ایک تہائی ملازمین بغیر ڈگری کے ہیں اور ان میں سے کئی ایک بھاری تنخواہیں لیتے ہیں جن میں سے ایک ہندوستانی نژاد 15سال تن – مے بخشی بھی شامل ہے جو ایک کروڑ 25 لاکھ تنخواہ پر آئی – بی -ایم میں موجود ہے۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ”glassdoor” ویب سائٹ کے خود اپنے سی – ای –او نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ کسی ایک کی ڈگری پر انحصار مت کرنا بلکہ زندگی میں تین، چار کام اور صلاحیتیں ضرور اپنے اندر پیدا کرنا چاہے اس کے لیے تمہیں ایک اوسط طالب علم بن کر رہنا پڑے۔
اب محض رٹے لگوا لگوا کر، امتحانات کی ٹینشن دے کر، نمبروں سے بلیک میل کرکے اور رزلٹ کا ڈنڈا اٹھا کر آپ زیادہ عرصے تک اس تعلیمی نظام کو” گھسیٹ” نہیں سکتے ہیں۔ اگر پرنٹر کے دور میں آپ اپنے بچے کو ٹائپ رائٹر دلاتے ہیں تو اس سے زیادہ بیوقوفی اور بھلا کیا ہو گی؟
جس “انفارمیشن” کو ذہن نشین کروانے کے لیے آپ نے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز بنائی تھیں وہ تو اب آپ کے ہاتھ، گھر، آفس اور تعلیمی ادارے میں ہر لمحہ اور ہر وقت موجود ہے۔ مادی معلومات اور مادی چیزوں کی فکر میں بچوں کو ہلکان کرنے کے بجائے، ان کے اندر موجود صلاحیتوں، خوبیوں اور ہنر کو تلاش کریں۔ ان کی سافٹ اسکلز پر کام کریں، ہینڈرائٹنگ سے زیادہ” کریٹیو رائٹنگ” کو نکھاریں، ٹیم ورک کرنا، نت نئے خیالات پیش کرنے والا بنائیں۔
اب نصاب اور سلیبس کو بند کرکے رکھ دیں اور ان کو ان کی پسند کی کتابیں پڑھ کر انھیں اپنے ذاتی تاثرات اور خیالات کو قلمبند کرنا سکھائیں۔ بند کمروں اور لگے لپٹے “پیریڈز” سے ان کی جان چھڑوا کر اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے کام پر لگائیں۔
ہم جتنی جلدی اس کام کو کرلیں گے آنے والی نسل اس قوم، ملک اور امت کے لیے سرمایہ ثابت ہوگی ورنہ دوسری صورت میں یہ وہ بوجھ بنے گا جس کو اپنے کندھے پر لے کر چلنا آپ کی کمر دوہری کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں