62

اندھیروں کی پرورش کی خاطر – رمشا جاوید

لسانیت عصبیت کے پالے شب ستم کے پجاریوں نے
اندھیروں کی پرورش کی خاطر چراغ الفت بجھا دیا ہے
محمد طفیل کی شہادت کی خبر سنتے ہی دل ڈوب سا گیا۔
الہی ۔۔ کیسے بےرحم لوگ ہوتے ہیں جو انسانوں کی قیمتی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ آخر جمعیت کی سرگرمیوں سے اتنی بے چینی کیوں؟ ۔۔۔ 2016 میں NED یونیورسٹی کے کتب میلے پر حملہ،
2017 میں PU کے فیسٹیول پر حملہ،
2018 میں پشاور یونیورسٹی کے پروگرام پر حملہ،
اور اب 2019 میں IIUI کے ایکسپو پر حملہ، اور افسوس کے میڈیا اس یک طرفہ حملے کو دو تنظیموں کے درمیان تصادم کا نام دیتا رہا۔ بےشرمی اور بےغیرتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ جھوٹ کا سہارا لینے والے یہ بھول گئے کے اسلامی جمیعت طلبہ نے اپنے پروگرام میں اپنے لیڈروں اور سابقین کو بلوایا تھا سینکڑوں ان کے مہمان موجود تھے۔ کوئی بھی ذی شعور اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کے ایسے موقعوں پر جمیعت کو کیا پڑی ہے کے وہ تصادم پر اترے ؟؟؟
اتنا سستا ہے کیا جمیعت کا خون یا پھر یہ صرف جمیعت طلبہ کی شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ ؟؟؟ انہیں دہشت گرد کہنے والوں کے منہ پر بھی اسلامی جمیعت طلبہ کا یہ ردم عمل ایک طمانچہ ہے کے محمد طفیل کو شہید کرنے اور ان کے متعدد ساتھیوں کو زخمی کرنے والے غنڈوں کو اسلامی جمیعت طلبہ کے لڑکوں نے اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ یہ چوزے کیا جانیں کے اگر ان طلبہ کو اجازت دے دی جائے تو موت سے بےخوف یہ شیر ان گیدرڑوں کو چن چن کر ختم کردیں۔ اسلامی جمیعت طلبہ سے اگر اختلاف ہے تو انہیں عملی میدان میں شکست دو، شہر شہر اللہ کی محبت میں نکلو اور نسل نو کی تعمیر کرکے دکھاو ۔۔جمعیت کے بنیادی بیانیہ کو چیلینج کرو۔ جگہ جگہ کیمپ لگا کر مفت لوگوں کا علاج کرو، طلبہ و طالبات کی فیسیں اپنی جیبوں سے بھرو، جگہ جگہ مثالی پروگرامز کرواکر لوگوں میں دین اور علم کا شوق پیدا کرکے دکھاو ۔۔ خون بہانے سے کیا ہوگا ؟؟؟ اسلامی جمیعت طلبہ کو اس میدان میں شکست دے کر دکھاو تو بات بنے۔ خون تو تحریکوں کی آبیاری کرتا ہے۔ خون بہاکر ہی تو صحابہ نے اسلام کی دعوت کو پھیلایا تھا۔ پھر دیکھو کے خون بہانے والے کس مقام پر ہیں اور خون لینے والے کیا عمدہ عبرت کی نشان بن چکے ہیں۔ محمد طفیل کی شاہدت کی خبر ان کے والد نے سوشل میڈیا پر دیکھی۔ انہوں نے کمال ہمت کا مظاہر کیا اور اپنے باقی بیٹوں کو بھی اسلامی جمیعت طلبہ کی حفاظت کے لیے دے دیا ۔ تو بتاو کیسے مٹاپاو گے تم ان جزبوں کو ؟؟؟؟؟ ۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کے یہ معصوم جانیں اور لسانیت و عصبیت کے نام پر بہایا جانے والا یہ خون تم پر تمہاری زندگی تنگ کردے اور تم بھی جب عبرت کی مثال بنو تو اسلامی جمیعت طلبہ کی خداداد صلاحیتوں ، محبتوں اور کمالات کو دیکھتے ہوئے دیوانہ وار یہ کہتے رہ جاو
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں!
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں؟

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں