1,667

ایوارڈز اور میڈلز محض ایک دھوکہ؟ – جہانزیب راضی

ہم نے جب سے ہوش سنبھالا کبھی اپنے گھر میں ایوارڈز کی تقریب سجتے نہیں دیکھی۔ میں نے کبھی بھی “پپا آف دی ڈے” یا “ممی آف دی منتھ” نام کی کوئی چیز نہیں سنی۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ہم چار بہن بھائی ہیں لیکن کبھی بھی ہمارے امی ابو نے ہمیں “بیٹا آف دی ائیر” یا “بیٹی آف دی ائیر” کا خطاب بھی نہیں دیا۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ میری بہنیں مجھ سے زیادہ کام کرتی ہیں اور میں آرام و سکون کے ساتھ رہتا ہوں۔ہوسکتا ہے کہ میری بہنوں کو بھی ایسا ہی لگتا ہو کہ انکا بھائی بہت محنتی ہے۔ امی نے ہمیشہ ہمیں یہی بتایا کہ “بیٹا! تمھارے ابا بہت محنت کرتے ہیں”، اور ابو نے ہمیشہ یہی سکھایا کہ “بیٹے! امی کی خدمت کیا کرو، ان کی نافرمانی مت کرو، دیکھو! صبح سے شام تک ہماری خاطر لگی رہتی ہیں، پہلے ہم سب کو کھلاتی ہیں اور آخر میں خود کھاتی ہیں”۔
مہینے کے یا سال کے آخر میں بھی کبھی کسی کو اس کی “خدمات”، صفائی ستھرائی، برتن یا کپڑوں کی دھلائی اور دس دس گھنٹے گھر سے باہر محنت کرنے کی بنیاد پر بھی کوئی “میڈل” نہیں دیا گیا۔ ہم نے اپنے گھر کو ہمیشہ اپنا سمجھا اور کبھی سستی دکھائی تو امی نے کہا “اللہ کا شکر کرو اور اپنے گھر کی قدر کرو، لوگوں کے پاس سر چھپانے کو چھت نہیں ہے اور تمھیں اللہ نے مفت میں گھر دے رکھا ہے”۔
بہرحال، لیکن اسکول میں داخل ہونے کے بعد ہمیں پتا چلا کہ وقت کی پابندی، صفائی ستھرائی کا خیال کھیلوں میں شرکت اور اچھا طالبعلم ہونا ہفتے، مہینےاور سال میں صرف ایک ہی بچہ کرسکتا ہے۔جب آپ “اسٹودنٹ آف دی منتھ” کا خطاب دیتے ہیں تو آپ باقی سارے بچوں کو واضح طور پر یہ پیغام دیتے ہیں کہ اس پورے اسکول یا کلاس میں ایک وقت میں بس ایک ہی بچہ “یہ کرسکتا ہے”۔ آپ ٹیم ورک کی ، مل جل کر کام کرنے کی ، پیچھے رہ جانے والوں کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کی ترغیب کے بجائے ان ایوارڈز اورمیڈلز کے ذریعے سے باقی سارے بچوں کو احساس محرومی میں مبتلا کر رہے ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہمارا امتحان میں کامیابی اور اس پر دینے والے انعامات کا معیار اتنا ناقص اور گھٹیا ہے کہ آپ کسی بھی حال میں اسے “منصفانہ” اور “دیانتدارانہ” نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ایک بچے کے 80 فیصد نمبر ہیں تو وہ کامیاب اور “اے – ون گریڈ” ہے لیکن 1 نمبر کے فرق سے اگر اس کی 79 پرسنٹ آگئی تو وہ زندگی بھر احساس محرومی کا شکار رہیگا۔دنیا کاکوئی انسان بھی “پرفیکٹ” نہیں ہے چاہے وہ استاد ہی کیوں نہ ہو۔اس نے کسی بچے کی طرف جھکاؤ کی بنیاد پر اچھے نمبرز دئیے ہوں یا کسی بچے سے کسی بھی وجہ سے “خار” کھا کر کم نمبر دئیے ہوں ، ہوسکتا ہے کہ جب کچھ بچوں کے پیپرز چیک ہورہے ہوں تو ٹیچر کا موڈ بہت اچھا ہو اور وہ گنگنا گنگنا کر کاپیاں چیک کر رہا ہو اور ہوسکتا ہے کہ جس دن کسی بھی وجہ سے چڑچڑا پن ، غصہ یا ذہنی دباؤ ہو تو اس دن کچھ بچوں کے پیپرز چیک کئیے ہوں تو آپ کے خیال میں وہ سب کے ساتھ انصاف سے کام لے سکتا ہے؟
اس کو بھی چھوڑیں، ایک بچے کے ابا کی تنخواہ 2 لاکھ روپے ہے۔ اس کے گھر میں جنریٹر ، یو پی ایس سمیت اے – سی بھی لگا ہوا ہے۔صبح سے شام تک ہر خواہش پوری ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک بچے کا باپ 15 ہزار روپے کماتا ہے، کرائے کے مکان میں ٹین کی چھتوں سے بنے گھر میں رہتا ہے۔ کبھی بارش میں گھر ٹپکتا ہے اور کبھی گرمیوں میں گرمی دانے نکل آتے ہیں ۔ 3، 3 گھنٹے لائٹ جاتی ہے، گھر میں کوئی پڑھا لکھا بھی نہیں ہے یا مان لیں کہ کسی بچے کا باپ ہی نہیں ہے وہ سارا سارا دن اپنی ماں کے ساتھ کام کرواتا ہے، گھر کے سارے کام بھی خود ہی کرتا ہے ، رات میں تھکن سے چور سوتا ہے اور صبح 8 بجے ناشتے کے بغیر اسکول آجاتا ہےلیکن آپ المیہ ملاحظہ کریں صبح سے شام تک محنت مزدوری کرنے والے بچے کی توہین کی جاتی ہے اور عیاشی سے پڑھنے والے کو اکیڈمکس کے نام پر پوزیشن، گریڈز، ایوارڈز اور میڈلز سے نوازا جاتا ہے۔آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس بچے پر اس وقت کیا گذرتی ہوگی؟ ایک بچے کے باپ کے پاس نیا یونیفارم لینے کے پیسے نہیں ہیں، وہ نیا جوتا خریدنے کی حثیت بھی نہیں رکھتا ہے اور دوسرے کے گھر میں پورے ہفتے کے یونیفارم اور جوتے جمے رکھے ہیں آپ کے تعلیمی نظام میں صفائی ستھرائی کے نام پر ایوارڈ، میڈلز، انعامات اور سرٹیفکیٹس کس کو ملیں گے؟ اور کیا یہ دوسرے بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی؟
ہر بچے کا شوق دوسرے سے مختلف ہے، ہر کسی کی دلچسپی دوسرے سے الگ ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی بچہ صبح سے شام تک آرٹ میں لگا رہتا ہو، کوئی پالتو جانوروں کے ساتھ وقت گذارتا ہو، کوئی سرکٹس میں اور کوئی پرانی چیزوں کو ری- سائیکل کر کے ڈیکوریٹ کرنے کا شوقین ہو لیکن ہمارا تعلیمی نظام تو “رٹو طوطوں” اور لکیر کے فقیروں کو پیدا کرنے میں تن، من، دھن سے مصروف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ساری زندگی کبھی کسی کو “مادی” چیزوں کی بنیاد پر عمل کے لئیے آمادہ نہیں کیا ۔ ہمیشہ ان کے اندر سے تڑپ اور شوق پیدا کیا ہے۔ ہمیں اس غلط فہمی سے بھی باہر آجانا چاہئیے کہ جس بچے کو میڈل، ایوارڈ اور سرٹیفکٹ مل جاتا ہے وہ واقعی منظم، صاف ستھرااور وقت کا پابند بن جاتا ہے۔ وہ یہ سب کام ایوارڈز،میڈلز ، سرٹیفکٹس اور نام نہاد نمبروں کے لئیے کرتا ہے۔اسکول سے باہر وہ پھر اسی طرح سے کچرا پھینکنے والا، وقت کی ناقدری کرنے والا،لائن توڑ کر اپنے کام نکلوانے والا اور قانون کی دھجیاں اڑانے والا بن جاتا ہے کیونکہ یہ سارے کام آپ نے اس کو ایوارڈز، میڈلز اور سرٹفیکٹس کے لئیے کروائے تھے اور اس نے ان سب کے لئیے ہی وہ کیا تھا۔
آپ نے اسے ایک بہترین مسلمان، ایک اچھا انسان اور ایک منظم شہری بننے کے لئیے نہیں سکھائے تھے۔یہ ایوارڈز، میڈلز، سرٹیفکٹس اور صفائی کے “10 نمبرز” بچوں میں “دیہاڑی کی سوچ” پیدا کرتے ہیں، وہ انھیں آج کے گریڈ، آج کی پوزیشن، آج کے سرٹیفکیٹ اور موجود کلاس میں نمبروں کے حصول کے لئیے تیار کرتے ہیں۔لانگ ٹرم میں یا ان کی زندگی کے لئیے تو یہ سب کسی کام کے نہیں ہیں۔
اسکولوں میں “گھریلو ماحول” پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرکسی کے کام، اس کی صلاحیت اور اس کی محنت کی عزت، قدر اور احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر کسی کے شوق، ہنر اور صلاحیت کے مطابق کام لینے اور اس کے کئیے ہوئے کاموں کو سراہنے کی ضرورت ہے۔یورپ کے کئی اسکولوں میں سال کے آخر میں “شوکیس” تقریب منعقد ہوتی ہے۔ بچے اپنے کئیے ہوئے کاموں کو لے کر آتے ہیں، اسٹالز لگاتے ہیں اور اپنی اپنی صلاحیتوں ، ہنر اور کاموں کو سب کے سامنے پیش کرتے ہیں، کوئی بچہ پورا گیمنگ اسٹیشن لگا کر بیٹھا ہوتا ہے، کوئی اپنے پالتو جانور لے کر آیا ہوتا ہے، کوئی بچہ اپنی تحریریں لوگوں کو دکھا رہا ہوتا ہے ، کہیں پر نظمیں سنانے کا میلہ لگا ہوتا ہے تو کہیں بچے اپنا آرٹ ورک لوگوں کو دکھاتے ہیں۔آخر میں اسکول ہر بچے کو اس کے کئیے ہوئے کاموں پر،اس کی محنت، شوق، ہنر اور صلاحیت پر سرٹیفیکٹ دیتا ہے۔
بچوں کے اندر خود سے کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔ اللہ کی رضا کے لئیے، جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کی فکر پیدا کریں۔ ایک کلاس ، محض میٹرک، کالج یا یونیورسٹی کے بجائے دنیا اور آخرت کی زندگی کے لئیے اس کو تیار کریں ۔کوئی دیکھےنہ دیکھے “اللہ” تو دیکھ رہا ہے اور خبردار! اللہ کی آنکھ ہر لمحہ آپ کو دیکھ رہی ہے کی سوچ ، اسی سے محبت اور اسی کاخوف اس کے اندر پیدا کریں۔ وہ کہیں اکیلا بھی کھڑا ہو تو کچرا فٹ پاتھ پر نہ پھینکے، اسے اپنا سکول، اپنا کالج، اپنی یونیورسٹی ، اپنا آفس بھی اپنے گھر کی طرح “اپنا ” لگنا چاہئیے۔
آپ ڈنڈے کی بنیاد پر یا ایوارڈز، میڈلز، انعامات، نمبرز، گریڈز اور پوزیشنز کی لالچ کی پر کسی لمبے عرصے کے لئیے اور دل سے کام نہیں کرواسکتے ہیں۔ اس کے دو ہی طریقے ہیں ایک تو یہ کہ اسے ان سب کاموں میں اپنا “مفاد” نظر آئے یا پھر اللہ کی رضا کا حصول اس کے پیش نظر ہو۔ یورپ کی کامیابی پہلے نکتے پر عمل کا نتیجہ ہے اور ہمارے ذلیل و رسوا ہونے کی بنیادی وجہ ان دونوں ہی طریقوں سے راہِ فرار ہے ۔ اسلئیے بچوں کو جزوقتی نہیں کل وقتی زندگی کے لئیے تیار کریں۔ ایوارڈز، میڈلز، گریڈز، نمبرز اور پوزیشنز کے بجائے رب کی رضا کے حصول کو ہدف بنائیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں