1,641

ایک دن “استاد” کے ساتھ – جہانزیب راضی

دوران امتحان اسکول کی ایک کلاس میں موجود ممتحن نے دیکھا کہ کلاس کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا بچہ کوئی سکہ اچھال رہا ہے ۔ممتحن کا تجسس بڑھا اور وہ بچے کے پاس پہنچ گیا۔انہوں نے جاتے ہی بچے سے پوچھا “بیٹا! آپ یہ سکہ کیوں اچھال رہے تھے؟بچے نے معصومیت سے جواب دیا “سر! میں صحیح/غلط پر نشان لگا رہا ہوں جب چاند آتا ہے تو صحیح اور جب مسجد آتی ہے تو غلط پر نشان لگا دیتا ہوں”۔ممتحن حیران رہ گیا لیکن کیوں کہ بچہ کسی کو تنگ نہیں کر رہا تھا اس لئے وہ واپس اپنی جگہ پر آ کر کھڑا ہوگیا۔جب پیپرختم ہونے میں آخر کے کچھ منٹ باقی رہ گئے تو انہوں نے بچے کو پھر وہی حرکت کرتے دیکھا اور دوبارہ اس کے پاس پہنچ کر پوچھا بیٹا! اب کیا کر رہے ہو؟بچے نے اپنا سر اٹھائے بغیر کہا “سر! ابھی ری – چیک بھی تو کرنا ہے نا”۔
آپ یقین کریں یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہمارا طریقہ امتحان۔کبھی آپ ٹرو/ فالس(true/false) میں اسپینش(spanish) کے دس جملے لوگوں کو تھمادیں لوگ اس میں سے بھی چار یا پانچ ٹھیک کردیں گے کیونکہ “تکا” ہی تو لگانا ہے۔ہمارے اسکول اپنے اساتذہ کے ساتھ اور اساتذہ اپنے بچوں کے ساتھ دانستہ یا نادانستہ طور پر ظلم کرتے ہیں۔ایک استاد کی اسکول میں سب سے بڑی ذمہ داری سلیبس کی کتاب کو “ختم” کروانا ہوتا ہے۔اس کے سامنے ہفتہ وار،مہینہ وار،سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کے ٹائم ٹیبل پہلے سے ہی موجود ہوتے ہیں۔ان بیچاروں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ بچہ کیا “سیکھے” گا؟ ان کو تو ہر حال میں سلیبس مکمل کروانا ہوتا ہے اور کاپیاں بھروانی ہوتی ہیں۔اگر کسی استاد کو اس سے کوئی غرض ہے بھی تو اسکول کو استاد کی اس سوچ سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
ایک کلاس کے تقریبا 4 سے 5 سیکشنز ہوتے ہیں، ہر سیکشن میں 30 سے 35 بچے پڑھتے ہیں۔ایک ٹیچر کو تقریبا آٹھ سے دس سیکشنز پڑھانے ہوتے ہیں اور اس طرح 280 سے 300 بچوں میں “منتقلی علم” کا عظیم الشان بیڑا ایک استاد کے کاندھوں پر ہوتا ہے۔سلیبس کی ایک کتاب میں 10 سے 12 اسباق ہوتے ہیں، ایک سبق میں کم سے کم آٹھ سے دس سوالات،صحیح/ غلط، خالی جگہ، الفاظ معنی، الفاظ جملے، درست پر نشان لگائیں، صحیح کو صیح سے ملائیں وغیرہ وغیرہ جیسی سینکڑوں مشقیں بھی استاد کی ہی منتظر ہوتی ہیں۔ ان مظلوموں کے پاس ایک کلاس میں 45 منٹ کا پیریڈ ہوتا ہے اور 35 بچے ہوتے ہیں۔اس طرح ایک منٹ 28 سیکنڈ ایک بچے پر بمشکل انفرادی حیثیت میں صرف ہو پاتا ہے۔انھیں اوقات میں اس استاد کو ان تمام 300 بچوں کی کاپیاں بھی ہر ہفتے چیک کرنی ہوتی ہیں۔ اور اسکول سمیت ماں باپ کے یہ شکوے بھی برداشت کرنے ہوتے ہیں کہ آپ “صحیح” سے کام چیک نہیں کرتے ہیں۔ ہر صفحے پر لال قلم سے “لالی” سجانا پھر اس پر اپنے دستخط کرنا، روز بچوں کو ڈائری لکھوانا، ہر ہفتے ایک نیا ٹیسٹ بنانا،ہر مہینے ایک نیا پیپر بنانا اور پھر انہیں پرچوں کو ملا کر سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کے پرچے تیار کرنا۔ گرمیوں کی چھٹیوں پر جانے سے پہلے ان 300 بچوں کی کاپیوں پر “کام مکمل ہے” کی مہر ثبت کرنا۔سلیبس ختم کروانے کے بعد پھر تمام کاپیوں پر دوبارہ یہی مہر لگانا۔ بریک ٹائم کے دوران بچوں کو سنبھالنا اور چھٹی میں ان کے جانے تک کلاس کے دروازے پر کھڑے رہنا۔
یہ تمام فرائض ایک استاد کو انہیں چھ گھنٹوں کے اندر اندر انجام دینے ہوتے ہیں۔آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ان سارے کاموں کے نتیجے میں ایک استاد اور ایک بچے نے سوائے “ٹینشن” کے اور کیا حاصل کیا؟ اس تھکا دینے والی مشق اور ہوا کے گھوڑے پر سواری کا نتیجہ کیا نکلا؟بچے کتنے کندن بنے؟ اور استاد کی “لرننگ” کہاں پہنچی؟ آپ خود سوچیں اس ساری دوڑ دھوپ اور تگ و دو کے نتیجے میں بچے کتنے بااخلاق اورباکردار بنے؟ کتنا ڈسپلن ان کی زندگی میں آیا؟ سوائے اس کے کہ اسکول ایک خوفناک جگہ معلوم ہونے لگی ٹھیک اسی طرح جس طرح ایک مجرم کو جیل معلوم ہوتی ہے ۔ وہ استاد اور اسکول سے دور بھاگنے لگے اور ہم ان پر زبردستی اس سب کو مسلط کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔
آپ خود سوچیں اگر ایک پنکچر لگانے والا روز صبح سے شام تک گاڑیوں میں پنکچر لگاتا ہے،اگر ایک مستری روز صبح سے شام تک دیواروں پر پلستر کرتا ہے اور وہ 20، 22 سالوں تک یہی ایک کام کرتا رہتا ہے تو کیا آپ اس کو “تجربہ” اور “سیکھنا” بولتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ آپ اس کو 22 سال تک ایک ہی کام کو “دہرا نہ” بولتے ہیں۔تجربہ نئی نئی چیزوں سے آتا ہے اور اسی کو “سیکھنا” کہتے ہیں۔ اگر یہی کام ایک استاد کرے وہ 22 سال تک ایک ہی کتاب کو حفظ کر کے اپنے سے زیادہ تجربے کار لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرے، روز نئی نئی کتابیں نہ پڑھیں، گوگل اور یو ٹیوب کو “شغل اور مستی”کے بجائے اپنے مضمون اور اس کے متعلقات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنائے اور اپنے اس روز کی بنیاد پر حاصل کئے گئے علم، تجربے، مشاہدے اور عمل کو اپنے شاگردوں میں منتقل نہ کرے تو ایک پنکچر لگانے والے، دیواروں پر پلستر کرنے والے اور ایک استاد میں بظاہر کیا فرق ہے؟ کہ وہ سارے ہی اپنے کاموں کو “دہرانے” میں مصروف ہیں۔
انسانی دماغ بہت ہی عجیب انداز میں کام کرتا ہے ہم جو کچھ سنتے ہیں وہ ہمیں صرف دس فیصد یاد رہ پاتا ہے لیکن جو کچھ ہم دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھتے ہیں وہ 80 فیصد تک ہمارےدماغ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ایک بچہ اپنے استاد کو 45 منٹ تک صرف چیختے چلاتے، کام کرواتے، “چپ ہو جاؤ”، “اب آواز نہ آئے”، “ابھی بتاؤں” اور “پٹنا ہے کیا؟” جیسے جملے بولتے سنتا ہے اور کتاب کو بورڈ پر نقل کرواتے دیکھتا ہے تو بھلا وہ کیا سیکھے گا؟
پہلے کے استاد اور شاگرد میں جذباتی تعلق ہوتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ استاد کے مارنے پیٹنے کے باوجود بھی استاد کا ادب احترام اورعزت دل میں موجزن رہتی تھی۔ اساتذہ بچوں کو اپنا بچہ سمجھتے تھے، گھروں پرآتے جاتے تھے۔مائیں بچوں کے ہاتھوں سے استاد کو گھر کا بنا سالن اور روٹیاں بھجواتی تھیں۔بچے استاد کے گھر پر آنے اور ان کے گھر کا بنا کھانا کھانے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے، اساتذہ کا بھی سارا زور کتاب سے زیادہ اپنے عمل اور نصیحتوں کو بچوں میں منتقل کرنا ہوتا تھا لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہے تعلیمی ادارے “سکھانے” اور “تربیت” کے بجائے بس معلومات منتقل کرنے کا ذریعہ بن گئے ہیں،جبکہ اصل میں تو ہم جس دور میں داخل ہو گئے ہیں اس دور میں بچہ اور استاد دونوں سیکھنے سکھانے کے مرحلے میں ہیں۔گوگل کا دعویٰ ہے کہ اگر کوئی بچہ بڑا یا بوڑھا تین گھنٹے کسی ایک ہی موضوع پر گوگل کر لے تو وہ اسی موضوع پر دس سال کا تجربہ رکھنے والے کے برابر آ جائے گا۔
اب استاد معلومات دینے کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ تعلیم و تربیت دونوں منتقل کرنے کا ذریعہ ہے۔ہمارے بچوں کو پانچ چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔
1) خودشناسی: اقبالیات کو اسکولوں میں لازم کرنا چاہیے۔رٹے لگوانے اور کاپیاں بھروانے کے بجائے اقبال کے کلام کی روح کو بچوں میں اتارنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
2 ) خود انتظامی۔
3 ) فیصلہ لینے کی صلاحیت۔
4 ) تعلقات بنانے اور نبھانے کا ہنر۔
اور اسی طرح اپنے معاشرے کی مشکلات،ضرورتوں اور پریشانیوں کا ادراک۔
ایک بچے کی شخصیت تیرہ سال کی عمر میں مکمل ہوجاتی ہے لیکن مختلف اسکلز اور ہنر سیکھنے کے لیے زندگی پڑی ہے۔اس لیے اسکولز اور اساتذہ ان کی تعلیمی ضروریات کے بجائے ان کی تربیتی ضروریات کو فوکس کریں۔لکھنے پڑھنے اور مختلف ہنر وہ کہیں بھی ، کبھی بھی اور کسی سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔یہ بات یاد رکھیں ہمیں روبوٹس اور مشینوں کی نہیں دل دماغ، جذبات اور احساسات رکھنے والے انسانوں کی ضرورت ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں