98

بچوں میں کمیونیکشن اسکلز – جہانزیب راضی

آپ کمال ملاحظہ کریں۔ امریکہ کے 6 صدور ایسے ہیں جنہوں نے اسکول ہائی اسکول یا یونیورسٹی کی ڈگری تک مکمل نہیں کی اور وہ امریکہ کے صدر بن گئے۔ ونسٹن چرچل اور جان میجر یہ برطانیہ کے وہ دو وزرائےاعظم ہیں جنہوں نے اپنا ہائی اسکول تک مکمل نہیں کیا، فلورنس نائٹ اینگل نرسنگ کی دنیا میں سب سے معتبر نام ہے لیکن ان کے پاس بھی کالج کی ڈگری نہیں تھی۔
میکڈونلڈ کے بانی رئےکروک، مشہور زمانہ فیشن ڈیزائنر رالف لارین، لٹریچر میں نوبل پرائز حاصل کرنے والے ڈورس لیسنگ، جارج برنارڈ شاہ، کرسٹوفرکولمبس، سی-این-این جیسے ادارے کے بانی ٹیڈ ٹرنر، شہرت یافتہ امریکی مصنف اور فلاسفر مارک ٹوئن۔
فیراری کمپنی کے مالک، اٹلانٹک ائرویز کے اونر، ایچ-پی کمپنی کے سی-ای-او، کیمرے کی مشہورِ زمانہ کمپنی کوڈک کے فاؤنڈر جارج ایسٹ مین، اینڈریو کارنیگی، فورڈ برانڈ کے مالک ہینری فورڈ۔
جبکہ فیس بک، ایپل، مائیکروسافٹ اور اوریکل سمیت ان تمام اداروں کے فاؤنڈرز اور کو-فاؤنڈرز تک اپنی یونیورسٹی کی ڈگری تک مکمل کرنے سے قاصر رہے۔
اللہ تعالی نے ہر انسان کو دو ایسی شاندار خصوصیات دی ہیں جو اسکول کالج اور یونیورسٹی بننے سے پہلے بھی انسان کے پاس موجود تھیں اور یہ تمام نظام بن جانے کے بعد بھی اسی طرح انسان کے پاس موجود ہیں۔ ابابیل اور کبوتر یہ وہ دو پرندے ہیں کہ اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ کسی انسان نے انڈے سے نکلتے ہی ان کے بچوں کو ہاتھ لگایا ہے تو یہ خود ہی انہیں جان سے مار دیتے ہیں۔ اسی طرح تتلی کے انڈے میں سے نکلنے والا بچہ خود جتنی محنت سے اپنے انڈے میں سوراخ کرکے نکلنے میں کامیاب ہوگا اتنا ہی خوبصورت نکلے گا اور لمبی عمر پائے گا لیکن اگر کسی انسان کے دل میں “رحم” آگیا اور اس نے تتلی کے بچے کو نکلنے میں مدد دے دی تو وہ اتنا ہی بدصورت نکلے گااور چند دن میں ہی مرجائیگا۔
ٹھیک اسی طرح جب تک انسان کے پاس یہ لگا بندھا 8 سے 2 والا نظام تعلیم نہیں تھا، 6 مضامین اور 45 منٹ پر پیریڈ اور چھٹی کا گھنٹہ نہیں تھا تو دن کے 24 گھنٹے اس کا دل، دماغ اور کان کھلے رہتے تھے۔ اس کے مشاہدے، تجربے، تجزیے اور نت نئی نتیجوں پر کوئی قدغن لگانے والا نہیں ہوتا تھا۔
آپ خود سوچیں جس استاد نے خود کبھی چاردیواری سے باہر نکل کر کوئی نیا تجربہ، مشاہدہ اور تجزیہ نہ کیا ہو اس کو تو وہ شاگرد سراسر بے وقوف، احمق اور پڑھائی چور ہی نظر آئےگا جس کا دھیان ہر وقت کلاس سے باہر لگا رہتا ہو۔
آپ لطف دیکھیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن میں جابجا فرماتا ہے کہ “تم اس کائنات میں غور و فکر کرو، اس کا مشاہدہ کرو، جانوروں اور چرند پرند کو دیکھو، یہ پیٹ کے بل چلنے والے، یہ دو پائے اور چارپایوں والے جانوروں کو دیکھو، تم نے کبھی اس پانی پر غور کیا جو ہم آسمان سے برساتے ہیں، اگر ہم اسے کھارا کر دیتے تو کیا ہوتا؟
“کیا تم اس شہد کی مکھی پر غور و فکر نہیں کرتے؟ کیا تم کبھی اپنی پیدائش پر غور نہیں کرتے کہ تم کیا تھے؟ پھر ہم تمہیں کڑیل جوان بناتے ہیں اور پھر ہم تمہیں دوبارہ پہلے جیسی کیفیت میں لے جائیں گے”۔ ان درختوں، پھلوں، پھولوں، باغات، سمندروں، دریاؤں اور آبشاروں پر غور و فکر کرو”۔
سمندر میں چلنے والی کشتیوں، جہازوں جبکہ دن اور رات کے آنے جانے میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں”۔
اللہ تعالی قرآن میں دو ہی چیزوں کو نشانیاں اور غوروفکر کے لائق بتاتا ہے؛
1) آفاق(کائنات)
2) انفس(انسان)
اور آپ ہمارے تعلیمی نظام کا کمال دیکھیں کہ ہم نے بچوں کو ان دونوں سے ہی کاٹ کر الگ کردیا ہے۔ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ دنیا میں کبھی بلب ایجاد نہ ہوتا، کشش ثقل کا قانون دریافت نہ ہوتا اور نہ ہی اوورول اور ولبر رائٹ جہاز کی اڑان بھر پاتے اگر انکی اوہایو میں پنکچر کی دوکان نہ ہوتی۔ جن دو صلاحیتوں کا ذکر میں نے شروع مضمون میں کیا تھا وہ؛
لکھنے اور بولنے
کی صلاحیت ہے اور انھی کو انگریزی میں “کمیونیکیشن اسکلز” کہا جاتا ہے۔
اگر آپ فی البدیہہ چار لوگوں کے سامنے بول کر اپنا مافی الضمیر بیان کر سکتے ہیں اور چار الفاظ لکھ کر اپنے دل کا نقشہ کھینچ سکتے ہیں تو یقین کریں آپ دنیا کے 90 فیصد لوگوں سے زیادہ خوش قسمت ہیں۔
دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ خوف، ماتھے پر پسینہ، ٹانگوں میں تھرتھراہٹ، ہونٹوں پر کپکپاہٹ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا اور دل کی بے قابو دھڑکنیں اس وقت ہوتی ہیں جب لوگوں کی کوئی بڑی یا چھوٹی تعداد ان کے سامنے ہو اور انہیں ان کے سامنے فی البدیہہ یا تیاری سے ہی کسی موضوع پر مخاطب ہونے کا بول دیا جائے۔
دماغ کے ماؤف ہونے، ہاتھوں میں پسینہ آنے اور ذہن کی ساری بتیاں گل ہوجانے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہوتی ہے جب آپ کو کسی موضوع پر کچھ بھی لکھنے کو دے دیا جائے۔
آپ یقین کریں میں نے1 کلاس میں قائد اعظم محمد علی جناح پر مضمون “رٹا” تھا۔ میٹرک اور انٹر میں بھی وہی رٹا تھا، اس معاملے میں انگریزی اور اردو دونوں کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھا باوجود اس کے کہ مجھے معلوم تھا کہ قائداعظم ان دس سالوں میں ایک ہی دن اور ایک ہی سن میں پیدا ہوئے تھے، پڑھائی بھی ایک ہی جگہ سے کی تھی، شادی بھی رتن بائی سے ہی کی تھی، بیٹی بھی ایک ہی تھی۔ وہ گورنر جنرل بھی رہے تھے اور پاکستان کے بانی بھی تھےاور ان کا انتقال بھی 1948 میں کراچی میں ہی ہوا تھا، لیکن آپ المیہ ملاحظہ کریں کہ ہمارا ہر بچہ ہر جماعت میں قائداعظم کو ہرسال یاد کرتا ہے اور پیپر کے بعد سب بھول جاتا ہے۔
سندھ ٹیکسٹ بورڈ سے میٹرک کرنے والے اکثر بچے مطالعہ پاکستان انگریزی میں لیتے ہیں، بھلا وہ بھی کیا “مطالعہ” ہوا جو غیر کی زبان میں اپنے بارے میں کیا جائے؟ کراچی میں ہی کچھ اسکولز ایسے بھی ہیں جنہوں نے قوم کی تربیت کی خاطر چھٹی جماعت سے مطالعہ پاکستان اردو میں ہی لازم کر رکھی ہے تو والدین وہاں آ کر باقاعدہ لڑائی کرتے ہیں کہ بچوں کو “چوائس” دی جائے تاکہ ان کو “رٹنے” میں آسانی ہو اور مطالعہ ہو یا نہ ہو نمبر ضرور پورے ہونے چاہئیں اور ویسے بھی ہمارے بچے کو اردو کی نسبت انگریزی زیادہ “آسان” لگتی ہے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ دونوں صلاحیتیں بچوں میں فطری طور پر موجود ہوتی ہیں آپ کبھی کسی بچے کے ہاتھوں میں قلم دے کر چھوڑ دیں وہ آپ کو ہر جگہ لکھ کر دکھائے گا، اور جس دن اسے تتلا کر بھی بولنا آگیا تو وہ ایک لمحے کیلئے بھی آپ کے کانوں کو آرام نہیں لینے دے گا۔مگر پھر آہستہ آہستہ ہمارا تعلیمی نظام ان کی “مت” مار دیتا ہے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچوں کے اندر فطری طور پر موجود لامحدود مشاہدے کی صلاحیت، بار بار تجربہ کرنے کی ہمت اور نت نئے نتیجے نکالنے کی اہلیت بچپن ہی کی طرح قائم رہے تو ان کی صلاحیتوں کو ان اسکولز، سلیبس، نمبرز، گریڈز، پوزیشنز، 6 گھنٹوں اور کلاس روم کی چار دیواری سے ناپنا چھوڑ دیں کیونکہ ان تمام کے مقابلے میں آپ کے بچےکی “کمیونیکیشن اسکلز” کا سرے سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں