54

تجھے سب ہے پتا میری ماں – سیدہ عروج معراج

“نہیں ماما آپ نہیں سمجھ سکتیں”
اس نے مجھے موبائل واپس کرتے ہوئے کہا۔
” میں کیوں نہیں سمجھ سکتی؟ تم سمجھآؤ گے تو سمجھ جاؤ نگی ۔”
” نہیں !”اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“یہ موبائل ووبائل آپ کے بس کا نہیں, آپ عیشہ سے کہہ دیا کریں۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوا
“اچھا چلتا ہوں ,میری کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے ۔”
“اچھا…. تو مجھے اب اس کی باتیں دیر سے سمجھ آتی ہیں۔”
میں بے دم ہو کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ میں وہ ہوں جو بن کہے سمجھ جاتی تھی کے یہ رو رہا ہے تو کیوں؛ بے چین ہے تو کیوں؛ ابھی اس کے پیٹ میں تکلیف ہے, ابھی کان کا درد پریشان کر رہا ہے ,ابھی اس کو ایسے لٹانا ہے کہ پرسکون رہے ,اس کی ایک آواز پر دنیا کا ہر اہم کام چھوڑ کر بھاگی آتی تھی ۔جوانی کے خوبصورت دن اور رات اس کو سلانے اور جگانے میں خرچ کرکے عمر کے اس حصے میں پہنچ گئی ہوں کہ مجھے اس کی باتیں سمجھ نہیں آتیں
” ٹھیک ہے۔” میں نے صوفے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندیں تو ایک دم ایک قطرہ میری آنکھ سے ٹپکا ۔
“افوہ! امی اب رونے نہ بیٹھ جائیں۔” اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا۔
” میں آتا ہوں کچھ دیر میں۔”
مجھے پتا تھا آج اس کا دوستوں کے ساتھ بھی پروگرام ہے۔ پتہ نہیں کیوں میرا دل بھر آیا آج مدرز ڈے تھا میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھے مجھے اس سے باتیں کرنی تھی بالکل اسی طرح جیسے دنیا میں آنے کے بعد شروع کے دنوں میں اسے آدھی رات کو مجھ سے باتیں کرنی ہوتی تھی اور میں اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے دیکھتے پوری رات بتا دیتی تھی۔ چھوٹا سا سالار میری گود میں سما جاتا تھا اور آج شاید میں اس کے کندھے تک نہیں پہنچتی۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں مجھے دنیا کی سب سے حسین چیز لگتے تھے …جس کو میں نے دنیا کی ایک ایک چیز سکھائی آج اسے ہی میں کم عقل لگتی ہوں۔ میں نے تکیہ میں منہ دے دیا ۔
“عروج!”
” اٹھ جاؤ صبح کے دس بج گئے ہیں۔ کیا ہوا؟کل پھر رات بھر جگایا ہےاس نے؟”
میں جو سوا مہینہ پورا کرنے امی کے گھر آئی ہوئی تھی اٹھ بیٹھی۔
” جی!” میں نے جمائی لی۔
“سب بچے ایسے ہی پلتے ہیں, تم لوگ بھی ایسے ہی پلے ہو۔”
میں اٹھ کر امی کے گلے لگ گئی۔
” سوری امی !”
“کس بات کے لئے؟”
“ہر اس دفعہ کے لیے جب میں نے آپ سے کہا ہو کہ آپ نہیں سمجھیں گی ۔”

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں