146

تلاش کا سفر – محمد اطیب

میری نظریں اپنے سامنے رکھی چائے کی پیالی پر مرکوز تھی جبکہ وہ تیزی سے اپنے دفتری کاغذات کا جائزہ لے رہے تھے ۔
دراصل یہ میرے ایک سفر کی ابتدا تھی جس کے لئے میں مختلف لوگوں سے ملاقات کررہا تھا۔ اس سفر کی آج پہلی ملاقات تھی۔ سلام کے بعد میں نے بات کا آغاز کیا،
” پاکستان میں اکثر طالب علم پریشانی کا شکار رہتے ہیں کہ وہ میٹرک میں کن سبجیکٹس کا انتخاب کریں اور بڑے ہوکر کیا بنیں ؟ یہ فیصلہ کیسے ہو؟ اور اس میں بچے کا شوق اور مرضی جانی جائے یا نہیں یا اسکول یہ فیصلہ کرے ؟ یا پھر کوئی ماہر نفسیات سے مشورہ لیا جائے ؟ میں نے ذہن میں آنے والے سوالات ایک ہی سانس میں کردیے ۔۔
وہ جو بہت غور سے میری بات سن رہے تھے ، میری بات مکمل ہونے پر انہوں نے ایک گہری سانس لی اور گویا ہوئے ’’اطیب اس مسئلے کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے مگر اس کا آغاز بحیثیت قوم بچوں اور نوجوانوں سے ہمارے رویے کی درستگی سے ہوگا اور اس سلسے کی پہلی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں میری آپکی یا کسی کی بھی مرضی کا کوئی دخل سرے سے ہے ہی نہیں ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ہمارا بلڈ گروپ ۔ کیا ہم اپنی مرضی سے اسے رکھتے یا تبدیل کر سکتے ہیں ؟” میں نے انکار میں سر ہلادیا۔۔
“ہم یہ مانتے ہیں نا کہ اللہ ہمارا اور اس دنیا کا Creator، Owner اور Manager ہے ۔ وہیں ہم یہ بھی یقین رکھیں کہ اپنی بہت محبت سے بنائی اشرف المخلوقات یعنی انسانوں میں سے ہر ایک فرد کے لیے اللہ کا ایک الگ انفرادی منصوبہ ہے جسے ہم تقدیر یعنی Divine Plan بھی کہتے ہیں۔ہم ایمان مفصل میں اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا اقرار کرتے ہیں ۔ کرتے ہیں نا؟ انہوں نے پوچھا تو میں نے جلدی سے بچپن میں یاد کیے ایمان مفصل کے الفاظ ذہن میں دہرائے ۔
’’مگر ہمارے یہاں بچوں کے لیے تعلیم اور کیریر کا فیصلہ تو والدین کے شوق اور خواہش کے مطابق ہوتا ہے ” میں نے پھر ایک سوال کردیا۔
ایک معنی خیز مسکراہٹ کے بعد وہ کہنے لگے کہ ” ہر انسان کسی خاص کام کے لیے پیدا ہوا ہے اور اس ہی کام کے لیے اللہ نے اسے خاص جسم ، قد، رنگت، آواز ، بال ، آنکھیں ، دل کی امنگیں ، سوچنے کا انداز دیا ہے ۔ خاندان، بہن بھائیوں میں پیدائشی ترتیب ، زندگی میں جن تجربات سے اسے گزارا جارہا ہے یہ سب فیکٹرز اس فرد کے لیے اللہ کے بنائے انفرادی پلان کے گردا گرد گھومتے ہیں ۔ والدین اور اساتذہ کو یہ کرنا ہے کہ اپنے ہر ہر بچے کے لیے خالق و مالک کے منصوبہ کو کھوجیں اور سمجھیں اور اس کے ہی مطابق بچے کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں کیونکہ ایک خاص عمر تک بچہ یہ کام خود نہیں کرسکتا ۔ ، جیسا کہ ہم بلڈ گروپ معلوم کرتے ہیں ضرورت پڑنے پر اسکے مطابق میچنگ بلڈ لگاتے ہیں ‘‘
“بلڈ گروپنگ کو تو سب جانتے ہیں مگرکیرئر سے متعلق آپ کے پاس کوئی سائنٹفک توجیہ ؟ ‘‘ میں نے چیلنجنگ لہجے میں پوچھا
ایک معنی خیز مسکراہٹ کے بعد وہ کہنے لگے کہ ’’ جو کچھ ابھی تک کہا وہ بھی سائنٹفک ہی تو ہے ۔ چلو میں آپکا تعارف گزشتہ ۵۰ برس کی چند Ground Breaking Researches میں سے ایک تحقیق سے کرواتا ہوں جس نے اس معاملے کو نہایت آسان کردیا ہے ۔ اب والدین ، اساتذہ حتی کہ بچہ خود اپنے بارے میں یہ جان سکتا ہے کہ اسکی شخصیت کیا ہے اور اس سے میچنگ تعلیم اور شعبہ جات کیا ہیں جن میں وہ مستقبل میں کام کر سکتا ہے ۔ میرا تجسس بھی بڑھ چکا تھا کہ ایسی کونسی اچھوتی تحقیق ہے ۔
“۱۹۸۳ میں ہارورڈ یونیورسٹی میں ڈاکٹر ہاورڈ گارڈنر نے ایک طویل تحقیق کے بعد دنیا کو یہ بتایا کہ انسان کی شخصیت آٹھ ذہانتوں پہ مشتمل ہوتی ہے۔ یعنی ہر انسان آٹھ طرح سے ذہین ہوتا ہے اور ہمیں بچوں کو انکی ذہانتوں کے مطابق ہینڈل کرنا چاہیے ۔ کیرئیر ، پڑھائ، فارغ اوقات میں مشاغل ان ہی آٹھ ذہانتوں مے متعلق ہیں ”
میں نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے دوسرا سوال داغا’’ ایک انسان ایک ہی شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ آٹھ شعبہ جات اور وہ بھی ایک انسان میں کیسے ممکن ہیں؟ اُنہوں نے اپنی دل آویز مسکراہٹ کے ساتھ مارکر اُٹھا کر بورڈ پر ایک لکیر کھینچ دی ۔میں ابھی تک اچنھبے کا شکار تھا کہ وہ خود ہی گویا ہوئے ’ ’ یہ لکیر ہمارا تدریسی اور امتحانی طریقہ ہے جو محض رٹے پر مبنی ہے ۔ جو اس لکیر کو پھلانگ لے اُسے ذہین ، پوزیشن ہولڈر یا جینیئس بچہ کہہ کر اُسکی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور جو لکیر کے اُس پار رہ جائے اُسے کم عقل، ڈفر، ناکام کہہ کر اُس کےحوصلے کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ہاورڈ کا کہنا ہے کہ ذہانت ، رٹ لینے کا نام نہیں ہے بلکہ انسان کی شخصیت زبان دانی، تجزیاتی ، غنائی ،جسمانی ، تصویری ، نیچر، دوسروں کو سمجھنے والی اورانفرادی ذہانتوں سے مل کر بنتی ہے ۔ان ذہانتوں کو پروان چڑھانا ذہانت کو پروان چڑھانا ہے”
میرا سر ایک لمحے کو چکرا گیا کیونکہ ہم نے بچپن سے محض گریڈز کی دوڑ دیکھی تھی جس کے بعد ہم یا تو نوٹوں کے حقدار ٹھرتے تھے یا پھر چپلوں کے۔ وہ مزید کہنے لگے ” انسان کی قابلیت کو اگر ان جہتوں کے مطابق سمجھا ، نشونما اور جانچا جائے تو ہمارا ہر ایک بچہ اپنی ذات اور معاشرے کے لیے نفع بخش ثابت ہوگا۔ اطیب کامیابی کسی خاص نسل ، جغرافیہ ، مالی بیک گراونڈ کے بچوں کے لیے نہیں ، ہر بچہ کامیابی کے لیے پیدا ہوا ہے ”
میں نے پوچھا ’’ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ہم آج تک اس تھیوری کے مطابق عمل نہیں کرپائے‘‘
آپ گویا ہوئے ’’ والدین بچوں کو مستقبل میں کیش کمانے کی مشین دیکھنا چاہتے ہیں ۔ بچے کی فطری صلاحیتوں کو جاننے اور اس کو تعمیر کے موقع فراہم کرنے کے بجائے کچھ خاص پروفیشنز اور انکے لیے ڈگری اور اسکی جانب نمبروں کی دوڑ کو کامیابی کا راستہ سمجھ لیا گیا ہے ۔ مگر نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان ڈگریاں لیے بے روزگار گھوم رہے ہیں دوسری جانب کارپوریٹ سیکٹر چیخ چیخ کر کہ رہا ہے کہ نوکری ہے مگر کام کے نوجوان نہیں ۔ تعلیمی نظام Functional Illiterates پیدا کررہا ہے جو کاروبار اور زندگی کے عملی مسائل کے حل تلاش کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں ۔
اگر اب بھی ہم نے گھروں اور اسکولوں میں Total Child Development اور کرئیر کانسلنگ اور پلاننگ پر کام نہیں کیا تو مجھے خدشہ ہے کہ مستقبل میں ہم اس کا بہت نقصان اُٹھائیں گے کیونکہ پاکستان اس وقت تاریخ کی سب سے ذیادہ نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے ۔ بچوں اور نوجوانوں کی درست رہنمائ نہ کرکے ہم بچوں ، والدین اور قوم کا وقت ، وسائل اور توانائی ضائع کر رہے ہیں ۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی اور اپنی شخصیت سے مطابقت نہ رکھنے والی تعلیم اور کرئیرز میں جب نوجوان جاتے ہیں تو انہیں مشکل ہوتی ہے ، وہ آگے نہیں بڑھ پاتے اور ان میں ناکامی کا احساس فروغ پا تا ہے ۔ ”
میں نے اثبات میں سر ہلایا اور جانے کی اجازت چاہی ۔ ہاتھ ملا کے دروازے کی طرف مڑا ہی تھا کہ انکی آواز نےمیرے قدم روک لیے’’اطیب ، ہر انسان کے لیے اس کے رب نے ایک کامیابی کی منزل رکھی ہے ، انسانوں کو انکی طرف رہنمائی کرنا نیکی ہے کیونکہ شیطان انفرادی اور اجتماعی طور پر اولاد آدم کو Distract کرنا اور ناکام دیکھنا چاہتا ہے‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور اس عزم کے ساتھ وہاں سے نکلا کہ نوجوانوں کو کامیابی کی شاہراہوں تک رہنمائی کو اپنا فرض سمجھوں گا ۔ جب تک اس قلم میں سیاہی باقی ہے معاشرے کی سیاہی کو ختم کرنے کا عزم رکھنے والا ہر شخص اپنے محاذ پر ڈٹا رہے۔میری یہ ملاقات شہزاد قمر صاحب سے ہوئی جو کہ ممتاز ماہر تعلیم و تربیت ہیں اور گذشتہ بیس برس تعلیم و تحقیق سے وابستہ ہیں۔ آج کل اتالیق پاکستان کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ بچوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے کی ترقی کے مشن پر کام کر رہے ہیں۔ والدین اور اسکولوں کے لیے Total Child Development ، تربیت پروگرام اور کرئیرکانسلنگ کے متعدد پراجیکٹس کے روح رواں ہیں ۔ والدین اور اسکول ان سے بچوں کی تعلیم و تربیت کے شعبہ میں خوب فائدہ ااٹھا سکتے ہیں ۔ قارئین کی آسانی کے لیے میں محترم شہزاد قمر صاحب کا نمبر دے رہا ہوں
0334-5502506

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں