158

جاوید بسام – رازدان کے قلم سے

مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اور جاوید بسام کو اس سے زیادہ جانتا ہے؟

آپ غالب کے پڑوسی ہیں۔ مطلب دِلّی میں آپ کے آباو اجداد غالب کے پڑوس میں رہتے تھے۔ جس طرح خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ اس طرح اِنھوں نے بھی رنگ پکڑنا بلکہ بکھیرنا شروع کیے۔ جاوید بسام کی خاص بات یہ ہے کہ انھیں زیادہ تفصیل سے کوئی قلمکار، شاعر، مصنف اور مدیر نہیں جانتا سواے ان کی بیگم کے۔ بچوں نے جب سے رسائل پڑھنا شروع کیے انھیں شک تھا کہ یہ ہمارے والد محترم ہیں…. یقین نہیں…. اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اِنھوں نے اپنے نام کے ساتھ جو ’بسام‘ لگا یا ہے۔ وہ کوئی ذات، قبیلے کی نشانی نہیں ہے۔ بلکہ ایک دن موصوف لُغت دیکھ رہے تھے کہ لفظ ’بسام‘ پر نظر پڑی۔ مارے خوشی کے باچھیں کِھل اُٹھیں۔ سوچا کہ ایسا ہی ہمارا تخلص ہونا چاہیے تاکہ انفرادیت قائم رہے۔
جاوید بسام کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ ’خود‘ لکھتے ہیں۔ باقی سب بھی خود لکھتے ہیں لیکن ان کی اکثر تحریروں پر انگریزی ادب کا عکس نظر آتا ہے۔ خصوصاً میاں بلاقی ان کا مشہور کردار ہے۔ اطہر ہاشمی نے کہا کہ انگریزی ادب سے ماخوذ لگتی ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ۔یہ کردار بھی ان کا اپنا تخلیق کردہ ہے۔ آج تک کوئی کہانی ترجمہ نہیں کی۔ ہے نا مزے کی بات …. ساتھی ۲۰۱۳ءکے ۳۵ سالہ نمبر میں ’قصہ ایک جادوگرنی‘ کا ایک نظم سے ماخوذ آئیڈیا تھا۔اس کے علاوہ شاید ہی کوئی کہانی ماخوذ ہو۔
۲۰۰۸ءسے ساتھی میں کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ ابتدا میں ساتھی والوں نے اسکول کا طالب علم سمجھا لیکن تحریر میں پختگی دیکھ کر یقین نہ آتا تھا لیکن کچھ عرصے بعد ہی اِن کی بیٹی نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ آپ میرے ابو کی کہانیاں آخر میں کیوں لگاتے ہیں۔ خیر یہ تو ساتھی والے ہی جانتے ہیں کھانے کے آخر میں میٹھا مل جائے تو میٹھا کھلانے والے کے لیے دل سے جو دعائیں نکلتی ہیں وہ یقینا اثر رکھتی ہیں۔
جاوید بسام نے صرف بچوں کے لیے نہیں لکھا بلکہ بڑوں کے لیے بھی اب تک ۲۲ افسانے لکھ چکے ہیں۔ ویسے ان کی کہانیوں کا انداز دیکھ کر لگتا ہے یہ اُردو ادب کے ”اینیڈ بلیٹن“( برطانیہ میں بچوں کی مشہور خاتون قلمکار تاریخِ پیدائش: ۱۱اگست ۷۹۸۱ئ۔ تاریخِ وفات: ۸۲ نومبر ۸۶۹۱ئ) ہیں۔ جس طرح اینیڈ بلیٹن کی کہانیاں آج بھی عمدہ اور تروتازہ ہیں، اسی طرح جاوید بسام کی تحریریں بھی عمدہ، مزے دار اور صدیوں یاد رکھی جانے والی ہیں۔
جاوید بسام کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ بیٹوں کی نسبت بیٹی میں بھی لکھنے کے جراثیم پائے گئے ہیں۔ نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے ’دیس دیس کی کہانیوں‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی تھی ۔ جس میں جاوید بسام کی بھی تحریریں شامل تھیں۔فرانس سے موسوم کہانی دہلی کالونی کراچی کے ایک گھر میں اختراع کی گئی تھی-

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں