77

خاک ڈالو ایسے خیر خواہوں پر – ام ہشام

یہ آپ کے ان دشمنوں میں سے ہیں جو آنکھوں سے نظر نہیں آتے لیکن ان کی نظریں برابر آپ پر گڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ بڑے ہی غیر محسوس طریقے سے ایسے لوگ اپنا زہر آپ کے اندر انڈیلتے رہتے ہیں اور آپ کے دفاعی نظام کو بیکار کرتے رہتے ہیں۔اور پھر ایک دن آتا ہے جب اس زہر کے اثرات سے آپ کی مکمل شخصیت ناکارہ ہو کر رہ جاتی ہے کیونکہ آپ نے اپنی زندگی کے تمام اختیارات اب تک ایسے لوگوں کو سونپ رکھے تھے جن کی ہر چار باتوں میں سے تین باتیں منفی ہی ہوا کرتی ہیں۔ ایسے لوگوں کو آپ کے تئیں مکمل اختیار ہوتا ہے کہ وہ یہ طے کریں آپ کو کیا کرنا چاہیے کیا نہیں کرنا چاہیے؟ آپ پر کیا اچھا لگے گا اور کیا اچھا نہیں لگے گا، آپ کو کہاں جانا چاہیے آپ کے حلقہ احباب میں کون لوگ ہونے چاہئیں اور کن لوگوں سے ناطقہ بند کرلینا چاہیے۔اسی پر بس نہیں، ہمیں لے کر ہمہ وقت ان کا ضرورت سے زیادہ ججمنٹل باتیں کرنا اور ہماری نیتوں پر شک کرنا، ہمارے اندر کی دنیا کے حال و احوال کے بارے میں اس قطعیت کے ساتھ بات کرنا گویا وہ عالم الغیب ہیں اور دلوں کے حال سے بخوبی واقف ہیں۔ غرضیکہ آپ کی زندگی کی ہر ایک چھوٹی بڑی بات میں یہ سب سے بڑے دخیل ہوتے ہیں۔اس بات پر غور ضرور کرنا چاہیے کہ ایسے لوگ کہاں ہوتے ہیں؟ بلکہ یہ پوچھیے کہ کہاں نہیں ہوتے؟دوست، بچپن کے ساتھی، کولیگز، کزنز، قریبی و دور کے رشتے دار، پڑوسی اور فیملی فرینڈز، سوشل میڈیائی فرینڈز اور آپ کے ہم مسلک ہم مشرب ساتھی بھی، شاذ و نادر آپ کے اساتذہ، آپ کے ہم پیشہ سینئرز، ایج فیلوز اور کلاس فیلوز یہاں تک کہ منفی لوگ آپ کے اپنے گھر تک میں بھی پائے جاسکتے ہیں۔ آپ کا کوئی بہت قریبی بھی منفیت پھیلانے کا فرض ادا کررہا ہوتا ہے۔یہ نیگیٹیوٹی پھیلانے والوں کی کچھ قسمیں تھیں اور یہ لسٹ مزید لمبی ہوسکتی ہے۔ ایسے لوگوں کی باتیں سننا اور ہمیشہ سنتے رہ جانا ایک خوف کے سوا کچھ نہیں جسے جبرا آپ نے اوپر مسلط کررکھا ہے۔ان لوگوں کو کیٹیگرائز کریں:
باہر والوں کو پہلی فرصت میں ڈی کلٹّر کریں اور پھر بچتے ہیں آپ کے وہ اپنے جن کی موجودگی آپ کی زندگی میں لازمی ہے۔ جن کی اصلاح کرتے کرتے آپ کی کمر دوہری ہوچکی ہے لیکن امپرومنٹ کے آثار نہیں دکھائے پڑرہے ہوں تو پھر ۔۔۔۔اپنے آپ میں سمٹ جائیے کیونکہ آپ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں نہ کہ دوسروں کو۔ایسے لوگوں کی تمام باتوں پر رسپانڈ کرنے کی بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دینا چاہیے۔ جواب دینے کی اشد ضرورت ہو تو بھی (ہوں، ہاں، جی، اچھا!!! ) پر بات ختم کردینی چاہیے اور انھیں کھلنے اور پھیلنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔لیکن اگر آپ ان کی ہر بات کو دل پر لے کر ترکی بہ ترکی جواب دینے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں اور ان کی اصلاح کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد تسلیم کرلیتے ہیں تو میری رائے کے مطابق ایسا کرنا صرف اور صرف خود کو اذیت پہنچانا ہے۔ اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ نہ ہی یہ صبر کا مقام ہے اور نہ ہی تواضع و خاکساری کا پتلا بننے کا۔یہ شیطان کی بڑی آرزوں میں سے ہے کہ مومن کو غمزدہ کردے۔ اور بہت سے انسان شیطان کے اس مشن میں اس کے کارندے بنے ہوتے ہیں تو اس لیے بھی شیطان کی اس چال پر ہمیں جوابی کارروائی کرنی چاہیے۔اس لیے اٹھیے اور خود پر کڑھتے رہنے کی، اپنے آپ کو ناکارہ اور نکما سمجھنے کی روش چھوڑ دیں۔ اپنی ذات کو الزام دینا بند کریں، اپنے آپ میں سو عیب تلاش کرکے منہ بستر میں دے مارنے کی بجائے اٹھ کر اپنے آس پاس اور ساتھ رہنے بسنے والے منفی لوگوں اور منفی خیالات کو آرام سے رخصت کرکے واپس آجائیں۔بلکہ میری مانیں تو جنھیں زندگی سے رخصت کرنے کے امکان نہ دکھتے ہوں کم از کم انھیں اپنے مائنڈ سے ضرور رخصت کردیں کیونکہ دنیا کا بیشتر حصہ ایسے ہی لوگوں سے آباد ہے جو اپنے طنز و تشنیع سے دوسروں کا کلیجہ چیرنے کو خیر خواہی کا نام دیتے ہیں کہ ہم تو آپ کے بھلے کا ہی سوچتے ہیں اور صرف سوچتے نہیں ہیں بلکہ ہمت کے ساتھ آپ کے منہ پر آپ کے عیب گنوادیتے ہیں کیونکہ ہم دوسروں کی طرح منافق نہیں۔بھئی میں تو کہوں گی خاک ڈالو ایسے خیر خواہوں پر جو خیر خواہی کے نام پر ٹِپَّنی کے ہینڈ گرینیڈ ساتھ لے کر چلتے ہیں کہ جہاں موقع ملا ایک ہتھ گولہ فریق ثانی پر داغ دیا۔خیر خواہی جتاتے جتاتے آپ کو اس حد تک ذہنی مفلوج بنا چھوڑتے ہیں جہاں آپ کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ آپ کا وجود ہی اس دنیا پر بوجھ ہے اور آپ سے بدتر اور ناقص انسان اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا آسان نہیں ہوتا یہ آپ کی ساری توانائی اور پوزیٹیوٹی نچوڑ لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر ہماری اپنی ذات کمزور ہو اور ارتقا پر محنت کم ہو تو ہم بھی فورا خالی ہوکر منفی ہوجائیں گے۔دراصل منفی ذہن کے لوگ قابل رحم ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اصل جنگ آپ کے ساتھ نہیں بلکہ خود ان کے اپنے ساتھ ہوتی ہے۔ وہ اپنی ذات ہی میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں اور آپ ان کے فرسٹریشن کا بہترین مخرج ہوتے ہیں۔یہ اپنے آپ میں احساس کمتری کے شکار اور دوسروں کے تئیں شدید قسم کے انتقامی جذبے سے لبریز ہوتے ہیں۔ اپنے علاوہ دوسروں کی بے عزتی کرنے میں ان لوگوں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہوتی ہے۔ ان کی فر فر چلتی زبان پل بھر میں دوسروں کی عزت نفس کی دھجیاں بکھیرنے والی ہوتی ہے جو کسی بھی اعتبار سے نارمل بات نہیں ہے۔ ساتھ ہی کئی قسم کے نفسیاتی امراض کے بھی شکار ہوتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کی باتوں کو پرسنل لینے کی کوئی تک نہیں بنتی۔ ان سے ڈیل کرتے وقت Furious ہونے کے بجائے Curious ہوجائیں اور ان سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرلیں اور پھر واپس آکر کرنے کے کام یہ ہیں کہ ۔۔۔۔۔ آنکھیں میچ میچ کر منہ بسور بسور کر اپنی کمیاں تلاش کرتے کرتے جلدی سے اس ایک اچھائی کا پتہ لگائیں جو آپ کے اندر بچپن سے لے کر اب تک موجود ہو اور آپ کی اس کوالیٹی میں زمانے کے سردوگرم معمولی سی تبدیلی بھی نہ لاسکے ہوں۔اور اس ایک اچھائی کے ذریعے زندگی کو از سر نو جینا سیکھیں۔ خلوص و للہیت اور نیک نیتی کے ساتھ اس ایک نیکی کو سمیٹ کر مزید نیکیاں جمع کرنے میں جٹ جائیں۔ بے غرض خدمت خلق اور بے غرض نیکیاں اپنا ٹھکانہ عرش والے کے یہاں بناتی ہیں۔*مثبت رہنے کی تگ و دو کیوں ضروری ہے؟*
دنیا میں زندہ رہنے کے لیے مثبت انرجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثبت انرجی کا حامل ایک انسان پر جوش، پر امید، خوش باش و شائستہ اور تحمل مزاج انسان ہوتا ہے۔ وہ جذباتی طور پر پر سکون، مطمئن اور باضمیر ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں تجربات کرنا چاہتا ہے لیکن خود کو ان تجربات کے ہر طرح کے نتائج کے لیے تیار رکھتا ہے۔ ہارنا اس کی شکست نہیں اور جیتنا نقطہ ٹھہراؤ نہیں۔ ارادوں کی پختگی اور جیت کا کامل یقین اسے مثبت انرجی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ اس کی زندگی میں منفی قوتیں اس کا پیچھا نہیں کرتیں۔ لیکن وہ منفی قوتوں کا مقابلہ مثبت قوت پر اپنا مکمل دھیان لگا کر کرتا ہے۔اس لیے آپ بھی زندگی کو حقیقی معنوں میں جینا شروع کریں، بچوں کے ساتھ مل کر اس قدر ہنسیں کہ گزرا ہوا بچپن آپ کی پیاری سے ہنسی سن کر ہنستا ہوا لوٹ آئے اور آپ کے گلے کا ہار بن جائے۔ اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر اس طرح بیٹھ جائیں کہ ان کی بزرگی اور رشد آپ میں سرایت کر جائے۔ بزرگوں کے سایہ عاطفت میں زندگی کو دوبارہ ان کے اصولوں پر پرکھ کر دیکھنا شروع کریں۔ مجھے یقین ہے کہ معمولی اختلاف کے ساتھ آپ کو بہت ڈھیر سے سو فیصد مجرب نسخے بغیر بال سفید کیے مل جائیں گے۔زندگی انہی دو انتہاوں کا نام ہے یا تو بچپن یا بڑھاپا ۔۔۔گر آپ ان دو انتہاوں کے درمیان ہیں تو جلدی سے بھی جلدی بچپن والی ہنسی اور بڑھاپے والی سنجیدگی سے ہاتھ ملالیجئے زندگی یقینا ہنسی اور خوشی کا بہترین امتزاج ہوجائے گی۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں