150

دو نہیں ایک پاکستان – ڈاکٹر فیاض عالم

نعرہ بہت اچھا تھا لیکن عمل بہت ہی مشکل!
ایک بچے سے پوچھا کہ آپ کے اسکول کی ماہانہ فیس کتنی ہے؟
جواب ملا پچیس ہزار روپے ۔۔۔ بچہ کیمبرج سسٹم کے ایک نجی ادارے میں پڑھتا ہے جو مڈل کلاس آبادی والے علاقے گلشن اقبال میں واقع ہے-
آپ کے اور کتنے بہن بھائ ہیں؟ تین ۔۔ جواب ملا
کیا وہ بھی اسی اسکول میں پڑھتے ہیں؟
جی ہاں ۔۔۔ بچے نے جواب دیا
میں سوچنے لگا کہ ان بچوں کے والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر شائد اپنی ماہانہ آمدنی کا ستر فیصد حصہ خرچ کررہے ہوں گے
لیکن ایسے خوش حال لوگ ہمارے شہر یا صوبے یا پورے ملک میں کتنے فیصد ہیں؟
وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی نے نعرہ لگایا تھا
” دو نہیں ایک پاکستان”
یہ ایک خواب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ایک غریب اور امیر آدمی کے بچے کو یکساں معیار کی تعلیم فراہم کی جائے گی-
80 کی دہائ تک تو ملک میں ایک غریب آدمی بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلواسکتا تھا کیونکہ تعلیم کا اس وقت تک ایک بہت منافع بخش کاروبار کی شکل نہیں دی گئ تھی، لیکن پھر بڑے شہروں میں سرکاری اسکولوں کو ایک منظم منصوبے کے تحت سیاسی بھرتیوں کے ذریعہ برباد کیا گیا اور نجی اسکولوں اور کوچنگ سینٹروں کا میلہ سجایا گیا-
معیاری تعلیم غریب اور مڈل کلاس لوگوں کی دسترس سے عمومی طور پر باہر ہوچکی ہے-
یہ صورت حال نئ حکومت کو ورثہ میں ملی ہے اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ تعلیم اب صوبائ سبجیکٹ ہے-
لیکن پنجاب اور خیبرپختون خوا میں تو شعبہ تعلیم میں ایک پاکستان کے خواب کو تعبیر دی جاسکتی ہے-
کیا اس حوالے سے حکومت اور برسراقتدار جماعت کے پاس کوئ مڈ ٹرم پلان ہے؟ کیا ہم پانچ سال کے بعد اس شعبے میں کوئ واضح پیش رفت دیکھ سکیں گے؟

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں