99

رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور، مقدس مہینہ – طوبی انصاری

رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی سب کا یوں جلدی جلدی اپنے سارے کام نمٹا کر رات کو نماز اور تراویح کے لیے دوڑنا۔ایک ہی پکار پر سب کا یوں اکھٹا ہوجانا۔سلام کرنا،لوگوں سے مسکرا کر بات کرنا اور آگے بڑھ کر اپنے ساتھی کو نماز کے لیے جگہ دینا ، کچھ تو بات ہے میرے پیارے رب کے اس خوبصورت دین میں جو لوگوں کو اپنی طرف اس طرح سے کھینچ لیتی ہے کہ پھر انسان کو یکسر بدل کر رکھ دیتی ہے۔اگر اس مثبت تبدیلی سے اپنے لیے کچھ اس طرح سے ٹریننگ کر لی جائے کہ پھر باقی کہ گیارہ مہینے ان عادات کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنا لیا جائے تو معاشرہ خودبخود امن کا گہوارہ بن جائے گا ، معاشرہ خود سے ایک بہترین تبدیلی کی جانب گامزن ہوجائے گا۔
رمضان کا مہینہ آتے ہی خودبخود فضا میں ایک خوشگوار تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔سارے کاموں کا وقت پر ہونا،بھاگ بھاگ کر نماز کے لیے کھڑے ہونا۔قرآن کی تلاوت اور اس کے لیے وقت نکالنے کا سوچ کر فکرمند ہونا۔نیکیوں کی بہار ، غرض ہر شخض کسی نہ کسی طرح اس دوڑ میں شامل ہوتا ہے۔کتنے خوبصورت لمحات ہوتے ہیں یہ رمضان کے ، رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضورۖ نے فرمایا “جب رمضان المبارک آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔”(صحیح مسلم)
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص رمضان میں آنے والی اس خوشگوار تبدیلی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنالے۔اس کے ذریعے سے اپنی ٹریننگ کچھ اس طرح سے کرلے کہ پھر باقی پورا سال بھی اسی روٹین کے زریعے اپنی روزمرہ زندگی گزارے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآن سے جو تعلق رمضان میں قائم ہو اسے سارا سال کے لیے اتنا مظبوط بنا لیا جائے۔ ورنہ رمضان تو بہت آتے ہیں ہم سب کی زندگی میں، آتے ہیں اور چلے بھی جاتے ہیں، ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم نے کتنا قیمتی موقع گنوا دیا۔لہذا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم اس رمضان سے اتنا کچھ سمیٹنے والے ہوں جو ہماری بقیہ زندگی کو رمضان اور قرآن کے نور سے مزین کردے۔اور سب سے بڑھ کر اس رمضان ہم اللہ کے شکر گزار اور اس کی کبریائی بیان کرنے والے بندے بن جائیں۔ (آمین)

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں