72

رمضان مبارک ہو – جہانزیب راضی

شعبان دو ہجری میں پہلی دفعہ رمضان المبارک میں باقاعدہ روزے فرض کردئے گئے۔ اس سے پہلے مسلمان ہر مہینے صرف تین دن کے روزے رکھا کرتے تھے لیکن وہ نفلی روزے تھے ، رکھے تو ٹھیک، نہ رکھنے پر پکڑ کوئی نہیں تھی، لیکن رکھنا افضل سمجھے جاتے تھے۔ اس حکم میں جو 2 ہجری کو نازل ہوا مسلمانوں کے لیے گنجائش باقی چھوڑ دی گئی۔ مریض اور مسافر کے ساتھ ساتھ صحت مند لوگوں کو بھی رخصت دے دی گئی کہ اگر نہ رکھنا چاہیں تو کسی مسکین کو اس روزے کے دن کا کھانا کھلادیں۔
3 ہجری میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 184 نازل ہوئی جس میں مریض اور مسافر کے لیے شرائط جوں کی توں رہیں، لیکن صحت مند لوگوں کے لئے رخصت ختم کردی گئی اور کہا گیا کہ “اب سے جو اس مہینے کو پائے اس کو چاہیے کہ وہ روزے رکھے”۔ اس آیت کے نزول کے بعد پچھلی آیت عمل کے لیے منسوخ قرار پائی، لیکن تلاوت کے لیے موجود رکھی گئی۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2 ہجری میں ہی روزے کے حکم کے فورا بعد اگلے ہی مہینے عین رمضان میں غزوہ بدر آگئی۔ یعنی مسلمانوں کا پہلا رمضان اور پہلی جنگ دونوں کا حکم ساتھ ہی نازل ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک میں ہم نے دو جنگیں لڑی پہلی غزوہ بدر اور دوسری فتح مکہ اور دونوں موقعوں پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں روزہ رکھنے سے منع فرما دیا۔ اسی آیت کے آخر میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ “اللہ تمہارے لئے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے، مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا”۔
اب ہم آتے ہیں اصل بات کی طرف 2015 میں کراچی میں ایک شدید قسم کا “ہیٹ اسٹروک” آیا۔ یہ رمضان المبارک کا آغاز تھا گرمی نے لُو کے ساتھ شدت اختیار کرلی۔ کیونکہ کراچی کا موسم دنیا بھر میں خوشگوار موسم ہے۔ کراچی کا دن کتنا ہی گرم کیوں نہ ہو اسکی صبح اور شام دونوں ٹھنڈی ہوتی ہیں، لیکن پہلی دفعہ کراچی کی صبح اور شام دونوں نے ٹھنڈا ہونے سے انکار کردیا۔ جلتی پر تیل کا کام کے-الیکٹرک نے کیا اور شہر میں 1300 لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مرگئے۔ ایدھی اور چھیپا کی ایمبولینس کم پڑگئیں، اسپتالوں میں بیڈز ناپید ہوگئے، برف والوں سے برف کی سلیں خرید کر مریضوں کو اس پر لٹایا گیا۔ جسم کا پانی خشک ہونا شروع ہوگیا، جسم میں روزے کی وجہ سے پہلے ہی پانی نہیں تھا بجلی نہ ہونے کی وجہ سے باہر بھی پانی ختم ہو گیا، لیکن پسینے کی صورت میں جسم سے پانی کا اخراج شدت اختیار کرگیا۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد اگر اپنا روزہ توڑ دیتی اور پانی پی لیتی تو اس صورت حال پر قابو پا لیا جاتا، لیکن قرآن سے دوری اور شریعت سے ناواقفیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں نے روزے میں جان دے دی۔ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران کئی لوگوں سے حکماً روزہ تڑوایا۔ وجہ بالکل واضح تھی اللہ تعالی نے انسانی جان کو ایک بڑے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے یہ جان “روزے” میں قربان کرنے کے لیے نہیں دی گئی ہے۔
عربی زبان میں “صائم” اس گھوڑے کو بھی بولا جاتا ہے جو خاص جنگ کے لیے تیار کیا جائے۔ اسے بھوکا پیاسا رکھ کر سخت گرمی اور یخ سردی میں اس بات کے لئے تیار کیا جاتا ہے کہ وہ میدان جنگ میں کام آئے گا۔ آپ کا کرکٹ کے اس کھلاڑی کے متعلق کیا خیال ہے جو سارا دن “نیٹ پریکٹس” میں نکال دے اور میچ میں جانے سے انکاری ہو جائے۔ فٹبال کے اس کھلاڑی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو اپنا “اسٹیمنا” بڑھانے کے لئیے سخت مشقیں کرتا رہے لیکن میدان میں دوسری ٹیم کے مدمقابل جانے کے لیے تیار نہ ہو، اور صاحب عقل وشعور اس “کیڈٹ” کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے جو ساری ٹریننگ لینے کے بعد وردی پہن کر سرحد پر دشمن سے لڑنے سے انکاری ہو جائے؟
سید احمد شہید بریلوی نے جب “تحریک مجاہدین” شروع کی تو مجاہدین رات بھر نالہ ء نیم شبی میں لگاتے، رات بھر نوافل کا اہتمام ہوتا، گریہ وزاری ہوتی، مناجات اور اذکار کا دور چلتا جب کے دن میں سارے مجاہدین روزہ رکھتے۔ کچھ مہینوں کے بعد سید احمد شہید نے رات میں عبادت کا وقت مختصر کر دیا اور دن کے روزے ختم کروا کر اب نیزوں اور تلواروں کی مشقیں، گھڑسواری، جنگ کی تیاری اور یخ سردی میں دریائے کنہار میں تیراکی پر لگا دیا۔ آپ کی اپنی تیرا کی کا بھی حال یہ تھا کہ ہندوستان میں آپ دریائے گنگا میں غوطہ مارتے اور بغیر کسی وقفے کے دریائے جمنا پر نکلتے تھے۔
اس صورتحال سے پریشان ہوکر کچھ مجاہدین آپ کے پاس آئے اور فرمایا “حضرت نالہ نیم شبی اور رت جگوں میں جو مزا تھا وہ ان کاموں میں نہیں آتا”۔ احمد شہید نے جواب دیا “صاحبو! وہ رات کی عبادت اور دن کے روزے اسی کام کے لئے تو تھے، اصل کام تو یہ ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، ذکر اذکار، تہجد اورتلاوت اس اصل کام تک پہنچنے کے ذرائع ہیں۔ اقبال نے کہا تھا:
مست رکھو ذکروفکر و صبح گاہی میں اسے
پختہ ترکر دو مزاج خانقاہی میں اسے

اور فرمایا:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

اس سے بھی زیادہ کمال کی بات یہ ہے کہ نماز مسلمانوں پر 13 سال بعد فرض ہوئی، روزہ اور زکوۃ 15 سال بعد جب کہ حج 22 سال بعد فرض ہوا اور ان میں سے کسی بھی کام میں اللہ کو آپ کی جان مطلوب نہیں ہے۔ جس کام میں اللہ کو ہمارا خون، پسینہ درکار ہے ہم اس سے دامن بچا کر صاف نکل جاتے ہیں۔
جب تک یہ امت عزیمت کے بجائے رخصت کا راستہ اختیار کرتی رہے گی، عیش و عشرت میں مست رہے گی، طاوس و روباب میں مگن رہے گی، شہادت گہہ الفت سے راہ فرار اختیار کرے گی اور پتھروں پر چلنے کے بجائے کہکشاؤں کے متلاشی رہے گی۔ تو نتیجہ وہی نکلے گا جو نکل رہا ہے کیونکہ اپنے “کمفرٹ زون” کو چھوڑے بغیر تو دنیا میں کسی کو ڈھیلا نہیں ملا اور نہ کبھی ملے گا۔ اس لئے مجھے اور آپ کو حرمین کی ٹھنڈ میں، خوشبوؤں سے معطر لباسوں میں عمرے، روزے اور تراویح مبارک ہو، پیچھے رہ جانے والوں کو روح افزاء، چاٹ ،پکوڑے اور سموسوں کے ساتھ رمضان بہت بہت مبارک ہو اس دین کے غلبے کے بارے میں پھر کسی اور دن سوچیں گے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں