258

رویوں کی وراثت – جہانزیب راضی

اس ٹیچر کا کلاس میں آج آخری دن تھا۔ نئی ٹیچر بھی اسٹاف روم میں آچکی تھیں اور اگلے ہی دن سے کلاس کی تمام ذمہ داریاں ان کے ہی سپرد ہونے والی تھیں۔سابقہ ٹیچر کلاس سے فارغ ہوکر اسٹاف روم میں آئیں، بچوں کی فائلز اور ان سے متعلق تمام ضروری سازوسامان اور ہدایات نئی آنے والی ٹیچر کے حوالے کردیں۔
ان تما م کاروائیوں میں ان سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئ، اتفاقی طور پر کلاس میں نالائق ،کند ذہن، نکمے اور کام چور بچوں کے نام انھوں نے اس فائل میں لگادئیے جس پر “شائننگ اسٹارز” درج تھا۔ جبکہ کلاس کے ہونہار، ذہین، نمبرز اور پوزیشنز لینے والے تمام بچوں کے نام اس فائل میں لگ گئے جس پر “فیلیرز” لکھا تھا۔
یہ غلطی ہوئی تو پچھلی ٹیچر سے تھی لیکن اس کا “خمیازہ” نئی آنے والی مس نے بھگتا۔ انھوں نے ان تمام بچوں کے ساتھ سخت اور تحقیر آمیز رویہ اپنا لیا جو حقیقت میں کلاس کی “کریم” تھے جبکہ ان تما م بچوں کے ساتھ ان کا رویہ ہمدردانہ اور مشفقانہ ہوگیا جو کلاس کے “نالائق” بچے تھے۔ اگر کوئی “لائق” بچہ ہوم ورک نہ کرپاتا تو اسے طعنے پڑتےاور جب کوئی “نالائق” بچہ ایسا کرتا تو اس سے “درگذر” سے کام لیا جاتا۔ نتیجہ وہی نکلا جو فائل میں غلطی سے ہوگیا تھا،سال مکمل ہونے تک کلاس کی “کریم” نالائق بن چکی تھی اور نالائق بچے “فائق” بن چکے تھے۔
بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی بھی “لائق” اور “نالائق” نہیں ہوتا، بچے سارے ہی ذہین ہوتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ آپ کی “تعریف شدہ” ذہانت کے معیار پر پورا نہیں اترتے تو آپ کو نکمے لگنے لگتے ہیں۔ اگر آپ بچے کو لائق بنانا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ لائق والا سلوک اور رویہ رکھیں وہ لائق بن جائیگا اور اگر آپ اس کو نالائق بنانا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ نالائقوں والا سلوک کریں ، وہ عنقریب آپ کی “خواہشات” پر پورا اترے گا۔ شاید ہمیں احساس نہ ہو لیکن، ” انداز کا اثر الفاظ سے زیادہ ہوتا ہے”۔ آپ کی گفتگو بچے کی گفتگو کا تعین کریگی اور آپ کا رویہ بچے کا کردار متعین کریگا۔
ایک باپ جس کے دو بیٹے تھے اور وہ خود نشئی تھا، سارا دن نشہ کرتا، بیوی کو مارتا پیٹتا، گھر کا سامان بیچتا اور نڈحال ہوکر کہیں پڑا رہتا۔۔ بیٹے جوان ہوئے ایک نشئی بن گیا اور دوسرا پڑھ لکھ کر بڑا افسر لگ گیا۔ نشئی بھائی گرفتار ہوا تو دوسرا بھائی ضمانت کروانے تھانے پہنچا، ایس – ایچ – او بھائی کی شکل دیکھ کر حیران رہ گیا۔ لاک اپ کا دروازہ کھلوا کر اس کو ساتھ بٹھایا اور پوچھا ” تو نشئی کیسے بنا؟” لڑکے نے جواب دیا کیونکہ میرا باپ نشہ کرتا تھا، یہی سوال ایس – ایچ- او نے دوسرے بھائی سے پوچھا کہ “تم نے اتنی ترقی کیسے کرلی؟” اس نے جواب دیا کیونکہ “میرا باپ نشئی تھا” اور میں اس جیسا نہیں بننا چاہتا تھا۔
ہمارے لاشعور میں موجود غصہ، آپے سے باہر ہوجانا، اپنے پرائے کی تمیز بھول جانا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، مذاق اڑانا، بے ایمانی،دھوکہ دہی کرنا، کوڑا کرکٹ سڑک پر ڈال دینا، بے حس، لاپراوہ، سست اور کاہل ہونا یا پھر ان تما م خرابیوں کی الٹ خوبیوں کا موجود ہونا بہرحال ہمارے والدین، اساتذہ اور بڑوں سے ہی ہم تک منتقل ہوتا ہے۔ یہ رویوں کی وراثت، احساس کا ترکہ اور جذبات کی جائیداد ہم تک غیر محسوس انداز سے ہمارے بڑوں سے ہی ہم تک آتی ہے۔
کوشش کر کے اپنی اقدار کا تعین بھی کریں۔ بچے اپنی “ویلیوز” آپ ہی کو دیکھ کر طے کرتے ہیں، ان کو معلوم ہے کہ امی اور ابو روز صبح سے شام تک “پڑھائی، پڑھائی اور پڑھائی” بولتے رہتے ہیں اور کروا کر ہی چھوڑتے ہیں اس کے لئیے ٹیوٹر رکھتے ہیں اور خود بھی وقت دیتے ہیں، لیکن “قرآن” کے لئیے ان میں سختی نہیں پائی جاتی وہ پیپرز کے دوران قاری صاحب اور مدرسے کی چھٹی کرواتے ہیں، علم اور تقوے کے بجائے دنیا دار اور پیسے والے کو گھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسی جیسا بننے کی نصیحتیں ہوتی ہیں۔
سردی، گرمی، خزاں، بہار، ہیٹ ویوو یا برسات ہر حال میں صبح منہ اندھیرے اسکول بھیجا جاتا ہے لیکن فجر کی نماز پر امی کی”مامتا” جاگ جاتی ہے اور بچے کی نیند پر ترس آنے لگتا ہے۔ نمبرز ، پوزیشنز، گریڈز، امتحانات ، رزلٹس اور انگریزی کے حوالے سے امی اور ابو ہر وقت فکرمند رہتے ہیں، لیکن قربانی، ایثار، کردار، اخلاق، وقت کی پابندی، وعدے کا پاس، رشتوں اور رشتے داروں کا خیال، بڑوں کا احترام اور چلتی گاڑی میں سے بھنا کر کسی بڑی سی برانڈ کے برگر کا خالی ڈبہ یا سافٹ ڈرنک کی بوتل پھینکنے پر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔
جس ماں کے بیمار ہونے پر اللہ کے رسولﷺ صحابی کو جہاد جیسے فرض عمل سے روک دیتے ہیں، جس ماں کے قدموں تلے جنت ہے، جس کا درجہ باپ سے تین گنا زیادہ ہے اور جس کی خدمت نہ کرنے پر جہنم کی وعید ہے۔ اس ماں کی طبعیت خرابی اور بیمار ہونے پر فخر سے بتایا جاتا ہے کہ “یہ بچہ اپنی امی کے بیمار ہونے کے باوجود اسکول آیا ہے”، یہ فخر کا مقام ہے یا شرم کا؟ کہ بچے کو گھر میں بیمار ماں کا ہاتھ بٹانے کا کہنے کے بجائے اس پر فخر کیا جارہا ہے۔سال کے آخر میں اس کو ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے کہ “ماں کے بیمار ہونے کے باوجود یہ اسکول آئے”۔
دہلی کے ایک بہت بڑے اسکول کے پرنسپل کو یہ شکایت موصول ہوئی کہ بچے بار بار توجہ دلانے کے باوجود جوتوں پر پالش کئیے بغیر آتے ہیں، ان پر فائن بھی لگتا ہے مگر پھر بھی رویے جوں کے توں ہیں۔
نئے ہفتے کا آغاز اور پیر کا دن تھا۔ اسٹاف سمیت اساتذہ اور بچوں کے اوسان اس وقت خطا ہوگئے جب اسکول میں داخل ہوتے ہی پرنسپل صاحب ایک طرف چادر بچھائے ہاتھ میں شو پالش اور برش لئے بیٹھے تھے، وہ ہر آنے والے بچے کے جوتے چیک کرتے اور اگر کسی کے جوتے گندے ہوتے تو اس پر خود پالش کردیتے تھے۔
سینئر اسٹاف آکر کھڑا ہوگیا، ڈومیسٹک اسٹاف کی دوڑیں لگ گئیں کہ “سر! آپ ہمیں دے دیں ہم کرلیں گے”، جواب میں پرنسپل صاحب نے کہا “بس آپ مجھے دو دن یہاں بیٹھنے دیں ، تیسرے دن سے آپ کو پورے اسکول میں کوئی بچہ بھی بغیر پالش کے نظر نہیں آئیگا۔
بچے کا ہنسنا، رہنا، بولنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا ، چلنا اور سونا سب کچھ اپنے ماں باپ پر جاتا ہے۔ 80 فیصد بچوں کی ہنسی اپنی ماں پر جبکہ سونے کا انداز اپنے باپ پر جاتا ہے تو پھر آپ کی عادتیں ، رویے ، انداز و اطوار ، آپ کی ترجیحات، ویلیوز(اقدار) اور صیح غلط کے پیمانے وہ کیوں نہیں ہونگے جو آپ کے ہیں۔
اگر آپ واقعی اپنے طالبعلموں اور بچوں میں تبدیلی لانے کے خواہشمند ہیں تو ان پر نہیں خود پر کام کیجئیے،ان کو سمجھانے کے بجائے خود سمجھ جائیے۔ آپ کر کے دیکھ لیجئیے آپ کا وقت، صلاحیتیں اور گلا تینوں بچ جائینگے اور بچے بھی تبدیل ہوتے نظر آئینگے، تبدیلی کی کنجی صرف آپ کے ہی پاس ہے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں