103

سفاک تعلیمی ادارے اور نادان والدین – مسعود میر خان

“سر آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے، میں نے آپ سے ٹریننگ لی تھی۔۔۔”
جی فرمائیے۔
“وہ میری بچی بہت ڈپریشن میں مبتلا ہے” کیا آپ مل سکتے ہیں؟”
“جی مل لیتے ہیں، بچی کی عمر کیا ہے؟
“سیونتھ میں ہے”.

“بیٹی آپ کیوں پریشان ہیں؟” میرے سامنے ایک ذہین و فطین اور معصوم فرشتہ بیٹھا تھا اور ساتھ ماں کی شکل میں ایک دکھی چہرہ تھا۔
“میں نے ریپیٹ نہیں کرنا”
“کیا ریپیٹ نہیں کرنا؟” میں بالکل نہیں سمجھ سکا۔
“جی یہ کہتی ہے میں سیونتھ میں فیل ہوگئ تو کیا ہوگا؟ ماں نے سمجھانے کی کوشش کی۔ “اور اس کا خیال ہے کہ میں پاس نہیں ہو پاؤں گی اور میں نے دوبارہ سیونتھ میں بیٹھنا بھی نہیں ہے”.
“تو آپ فیل ہو جاؤ گی ایسا کیوں سوچتی ہو، آپ پاس لازمی ہوگی، اپنے میں کانفیڈنس پیدا کرو”.
“میرا کانفیڈنس ختم ہوگیا ہے”
“میری ٹیوشن والی ٹیچر نے بھی مجھے پڑھانے سے انکار کردیا ہے”.

“سر اس نے دوبار کلائیاں کاٹ کر سوسائیڈ اٹیمپٹ کی ہے”

میرا دماغ بھک سے اڑگیا۔ یا اللّٰہ کون ہے جو اس معصوم کو اس حد پر لے آیا۔

” یہ ویٹر ابھی تک آرڈر نہیں لایا” میں نے بات بدلنے کہا۔

“سر آپ نے آرڈر ہی نہیں دیا”۔ میرا دماغ واقعی گھوم چکا تھا

“بیٹا جی آپ کو پتہ ہے دنیا کے اکثر بڑے بڑے لوگ ان اسکولوں سے بیزار لوگ تھے؟ میں نے چند نام لئے۔ میں خود ایک سرکاری اسکول سے پڑھا ہوں، میرے سب سے اعلیٰ نمبر 70 فیصد تھے، اور بھی میں نے کیا کہا مجھے نہیں پتہ دماغ کا سوئچ آف آن ہو رہا تھا۔ اور وہ سپاٹ چہرے سے میری باتیں سن رہی تھی۔

ڈرنکس آنے پر میں نے اپنے لیپ ٹاپ پر ایک موٹیویشنل ویڈیو لگا کر بچی کو دی کہ اس کو زرا غور سے دیکھو میں بعد میں سوال کرونگا۔
اس کو ویڈیو میں مصروف کر کے میں نے ماں سے کہا:” کونسا اسکول ہے، ایک “بڑا” سا نام لیا گیا۔
“اسکول کو اس میں آپ کی مدد کرنی چاہئے، امتحان میں اگر نمبرز اچھے نہ آئیں تو اس کی ذہنی حالت دیکھ کر پاس ہی کردیں”.
“سرمیں نے یہ بات کی تھی پر وہ کہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی کی وجہ سے ہم اپنے اسٹینڈرڈ کو گرا نہیں سکتے”.
“چاہے اس کی جان چلی جائے؟؟ ٹیوٹر پڑھا نہیں سکتا کہ ایکسٹرا ٹائم دینا پڑیگا اور اسکول کو ریپوٹیشن کی پڑی ہے۔ اور یہ معصوم اپنی زندگی سے جارہی ہے تف ہے ایسی تعلیم پر”. میری آواز غصے سے تیز ہوگئی۔ میں بھی لگ رہا تھا ڈپریشن میں آگیا پوں۔
“اور اس کے بہن بھائی؟”
، جی ایک بھائی ہے ، وہ پڑھائی میں بہت اچھا ہے”.
یا اللّٰہ۔۔
“خدا کے لئے۔۔۔اس کے سامنے اس کے بھائی کی تعریفیں نہ کریں.”
“جی اس نے کبھی ایسا تنگ نہیں کیا”
” جب ہی تو وہ اپنے آپ سے بیزار ہے کہ وہ آپ کو تنگ کررہی ہے۔”
ان مہنگے اسکولوں میں موت کے خریدار بیٹھے ہیں اور والدین ان سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے مرے جارہے ہیں۔

میں نے بہت کوشش کی کہ اس کے چہرے پر ایک خفیف سی ہی سہی مسکراہٹ لے آؤں مگر وہ لگتا تھا بڑے عرصے سے نہیں مسکرائی۔۔بھول گئی تھی۔۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں