69

سفر حجاز، ماضی و حال – عصمت آرا

مکہ کی وادی میں گاڑی داخل ہوچکی تھی چاروں طرف سنگلاخ پہاڑوں کا سلسلہ ہمارے تعاقب میں تھا
نہ جانے کیوں ؟
آج ان کالے سیاہ پہاڑوں کو دیکھ کر ایک سیل رواں تھا جو آنکھوں سے جاری تھا !!!
جو چشمِ تصور سے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حنین وبدر کے لشکروں کو اترنے کا نظارہ

کر رہا تھا 10 ہزار سرفروشان اسلا م کا قافلہ بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سپہ سالاری میں اپنی شان وشوکت دکھاتے ہوے مکہ فتح کرنے کی غرض سے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا جو پہاڑوں کے دامن میں آلاؤ روشن کر کے اپنی کثرت تعداد کی دھاک دشمنان دین اور منافقین پر بٹھا رہا تھا ، جسے

دیکھ کر ابوسفیان جیسے شخص نے کلمہ لا الہ اللہ محمدرسول اللہ پڑھ لیا تھا !
سبحان اللہ قربان جاؤں نبیؐ کی سیاسی بصیرت پر کہ مکہ فتح کر کے ازلی اسلام دشمنوں کو زیر کرلیا تھا یہ سب مناظر گویا دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں مجھے گھیرے ہوئے تھے کہ !!!
لبیک اللہ ھمہ لبیک کی صداؤں کی گونج نے مجھے اس گود کے حصار میں دے دیا جو ستر ماؤں سے زیادہ محبت رکھتاہے اس حصار کے اندر قریب ہی فتح مکہ کے بعد طواف کرتا اپنی شان وشوکت دکھاتے قافلے کی چلت پھرت محسوس ہوئی اور ! بہتی آنکھوں تھر تھراتے لبوں سے قرآن کے الفاظ دعا بن کر نکلنے لگے
” ربنا لا تجعلنا فتنتة للقوم الظلمین ۸۵
ونجنا برحمتک من القوم الکفرین ۸۶ ”
اے میرے پروردگار آج تیرا دین پھر سے یرغمال ہے
تیرے بندوں کی کثرت تعداد دیکھ رہی ہوں ، اے اللہ ان میں ماند ہوتی ہوئی نبیؐ کی سنت جزبہ جہاد جگادے ،
اے اللہ ہم سب کو قرآن سے جوڑ دے ،
جو نازل ہوا ہے دشمنان اسلام کے کیدو مکر کا مقابلہ کرنے کے لئیے ، جھوٹے پروپیگنڈے اور شکوک وشبہات کا ازالہ کے لئیے،
جو دلوں اور قدموں کو ثبات دے ،
جو اس امت کا دستور ہے ، جو ارواح وافکار کو صحیح رخ دے ، جو امت مسلمہ کو دھوکہ دینے والے دشمن اور اس کے مکروفریب سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے پر فریب جالوں سے بچاتے ہوئے قدم بقدم اس کی راہنمائی کرے ۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں