29

سچی محبت – سعدیہ نوید

محبت ایک ایسا جزبہ ہے کہ جو انسان کے دل میں پیدا ہوجائے تو بس پھر کیا, جو دل کہے وہی کرنا ہے…
دل جہاں جانے کا کہتا ہے وہیں جانا ہوتا ہے, جو کہتا ہے وہی کرنا ہوتا ہے..پتہ ہے کیا انسان خوار ہوجاتا ہے اس محبت میں.. صبح شام بس اسی کو سوچنا, اسی کی باتیں کرنا, اسی کی پسند کو اپنانا اور کیا کچھ نہیں… بس جو محبوب کہے وہی کرنا ہے.. گویا کی اسی کے رنگ میں رنگ جانا ہے…. کبھی محبت کے پچھتاوے بھی ہوتے ہیں اور کبھی اس کی جدائی کے غم بھی.. کبھی اسکے چھوڑ جانے کا غم تو کبھی اسکی یادوں میں خوار ہونا…
لیکن ہر محبت ایسے ہی خوار کرتی ہے کیا..؟
نہیں… بلکہ کچھ محبتیں بہت بے لوث ہوتی ہیں, انتہا سے زیادہ, جو کبھی نہ ختم ہونے والی ہوتی ہیں…

محبتوں کے پیمانے بھی بھلا کبھی تولے جاسکتے ہیں؟؟
یہ جذبہ تو ایسا ہے کہ اسکی کوئی حد نہیں, محبت میں تو سب کچھ نچھاور… ارے یہ محبت ہی تو وہ جذبہ ہے کہ جسکی خاطر انسان کبھی سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا ہو تو کبھی آگ میں بھی خود جاتا ہے.. شرط صرف یہ ہے کہ محبوب راضی ہو…

ایک ہستی ایسی ہے کہ اس سے محبت ہو تو وہ محبت کم نہیں ہوتی.. وہ ہستی جو کبھی برے حالوں میں بھی اکیلا نہیں چھوڑتی, میرے پیارے رب سے محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی… لیکن اس سے محبّت کیسے پیدا کریں؟؟
اللہ سے محبّت کا احساس دنیا کا بہترین احساس ہے.. کبھی اللہ کی محبّت محسوس کی ہے؟؟ نہیں ؟؟
اللہ سے محبّت کرنی ہے نہ؟؟ اللہ کو پانا ہے نہ؟؟
اللہ سے محبّت اور اللہ کو پالینا ایک ایسا احساس ہے کہ اس کے بعد انسان کو کسی چیز کی چاہ نہیں رہتی..
اور پتہ ہے اللہ سے محبّت کیسے ہوتی ہے؟؟
اپنی ہر چیز میں اللہ کو ڈھونڈیں.. ہر بات میں اللہ کا ذکر کریں.. اللہ تعالٰی سے باتیں کریں.. ہر دم ہر پل اللہ کا شکر ادا کریں..
کبھی کچھ اچھا نہ لگ رہا ہو, کچھ سمجھ نہ اراہا ہو تب بھی اللہ سے بات کریں .. اللہ تعالٰی اس وقت آپکو ایسے تھامینگے کہ شاید اسکے بعد کسی سہارے کی ضرورت نہ پڑے..
کبھی بہت خوش ہوں, مطمئن ہوں تب بھی اللہ سے بات کریں, اللہ کو اپنی خوشی بتائیں.. شکر ادا کریں اللہ کا..

یقین مانیں اللہ تعالٰی آپ کے اور میرے ہی ہیں… وہ ہماری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں..
جیسا کہ اللہ نے فرمایا:
“اے نبی لوگوں سے کہہ دو کہ میں اُنکی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں”
اُنھیں سب پتہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں..ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے لیکن پھر بھی اللہ تعالٰی کہتے ہیں کہ:
“جب پکارنے والا پکارتا ہے تو میں اُسکی پکار سنتا ہوں”
بس اپنی پہلی اور آخری منزل اللہ کو بنالیں یقین کریں اسکے بعد کسی اور سہارے اور کسی اور محبّت کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی ..
سچی محبتیں ایسی ہی تو ہوتی ہیں..بےانتہا, بے لوث…
تیرے رب کی محبّت سمندر ہے وہ جسکی گہرائیوں کی کوئی حد نہیں
تیرنا چھوڑدے, ڈوبنا سیکھ جا, دل کو حبِّ نبی کا گرفتار کر..

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں