55

سینٹرل کیمبرج مسجد – ایمن طارق

سرزمین برطانیہ پر بغرض مسجد پہلی عمارت (purpose built) شاہ جہاں مسجد یا ووکنگ مسجد تھی جو ۱۸۸۹ میں شروع ہوئ اور کسے معلوم تھا کہ اس سرزمین پر اسلام اور مسلمان اس تیزی سے پھیلیں گے کہ ایک مسافر کے طور اگر آپ برطانیہ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کریں تو اپ کو تمام بڑے شہروں میں بڑی اور چھوٹی کئ مساجد ملیں گئ ۔کیمبرج شہر میں حال ہی میں بننے والی سینٹرل مسجد کا وزٹ کرتے ہوے دل تشکر کی اسی کیفیت سے مسرور رہا کہ اللہ تعالی کی منصوبہ سازی انسان کی نظر سے اوجھل ہے لیکن انسانی منصوبوں پر بھاری ہے ۔ اللہ تعالی نے دنیا کے کس کس خطے کے انسانوں کی تقدیر کو اس سرزمین سے جوڑا اور کتنی ہی عبادت گاہیں آج یہاں دن کے پانچ وقت اللہ کی کبریائ بلند کرتی ہیں ۔ سینٹرل کیمبرج مسجد کے منصوبے کا آغاز 2008 میں ہوا اور پلاننگ اور تعمیر کے مختلف مراحل سے گزرتی ہوے اس کا افتتاح 24 اپریل 2019 کو کیا گیا جس کے بعد سے یہ نمازیوں کے لیے کھول دی گئ ۔

کیمبرج شہر کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے ۔ انگلینڈ کے کنٹری ٹاون کیمرج شائر میں واقع یونی ورسٹی کا شہر کیمبرج جسکی آبادی تقریباً سوا لاکھ ہے جسمیں تقریباً پچیس ہزار اسٹوڈنٹس ہیں ۔ یہاں تعلیم کی غرض سے آئیں یا رہائش اختیار کریں اسلام اور مسلمانوں سے جڑنا مشکل نہیں ۔کیمبرج میں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں ۔جسمیں برطانیہ اور پورئ دنیا سے آنے والے طالب علم اور مقامی مسلمان آباد ہیں ۔ نماز جمعہ میں یہاں کی مساجد میں تقریباً سات سو سے زائد نمازی موجود ہوتے ہیں ۔ کیمبرج میں چار مساجد پہلے سے موجود ہیں ۔
کیمبرج سینٹرل مسجد یہاں کی پہلی بڑی مسجد ہے جو purpose -built ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے کیے eco friendly بنائ گئ ہے ۔
یہ یورپ کی پہلی eco friendly مسجد ہے اور پہلی purpose -built ہے جو کیمبرج شہر میں تعمیر کی گی ۔ اس مسجد کو ڈیزائن Marks Barfield Architects نے کیا ہے جو اس سے پہلے کچھ منفرد تعمیراتی نمونوں کے ڈئیزائن کے لیے مشہور ہیں جیسے London Eye وغیرہ ۔ اس کی بنیادی فنڈنگ ترکی کی طرف سے کی گئ ہے اور اس کے علاوہ بھی مختلف ممالک کے ڈونرز اس کار خیر کے پیچھے موجود ہیں ۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مسجد کے افتتاح کے ایک ہفتے کے بعد ماہ رمضان کا آغاز تھا ۔ چونکہ مسجد کا کچن ابھی مکمل طور پر تیار نہ ہوا تھا اس کے باوجود ایڈمنسٹریشن، امام ، والینٹیرز نے دن رات انتھک محنت سے متوقع بڑئ تعداد میں آنے والے نمازیوں کے لیے بھرپور انتظامات کیے ۔ کھجور ، فروٹس اور پانی مسجد کی طرف سے فراہم کیا گیا اور اس کے علاوہ نمازیوں نے بھی مختلف کھانا ڈونیٹ کیا اور تروایح سے پہلے منظم انداز میں یہ سب سمیٹ دیا جاتا ۔
رمضان کی ایک خاص بات اس مسجد میں تقریباً 24 Syrian رفیوجی فیملیز کے لیے ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا جو کیمبرج میں مقیم ہیں ۔ ان فیملیز کو لینے کے لیے مسجد نے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا اور روایتی Syrian cuisine ان کے لیے تیار کیا گیا ۔
مسجد کے اس وقت دو امام ہیں ۔ ایک کا تعلق (kacuni )سینٹرل بوسنیا سے ہے جو پی ایچ ڈی اسلامک اسٹڈیز ہیں اور دوسرے کا تعلق کونیا(ترکی ) سے ہے اور وہ بھی ہارورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں یعنی امام کے انتخاب میں کیمبرج سٹی کے اعلی تعلیمی پس منظر کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔

ترکی سے تعلق رکھنے والے ماسٹر کیلئ گرافر حسین کتلو مسجد کے لیے منفرد خطاطی کے نمونوں پر کام کر رہے ہیں اور مسجد کی دیواروں میں اس کے لیے جگہ چھوڑی گئ ہے تاکہ اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جاسکے ۔ حسین کتلو اس سے پہلے ترکی ، روس اور البانیہ کی کئ بڑئ مساجد کے لیے مختلف ڈئیزائن کے نمونوں پر کام کر چکے ہیں ۔
ہارلو بیسڈ فرم کی معاونت سے سولر پینل نصب کیے گے ہیں اور یہ سولر پینل پاکستان میں تیار کیے گۓ ہیں ، یوروپین یونین کے معیار پر پورا اترتے ہیں اور مسجد کو عطیہ کئے گے ۔سی پی سی سعودیہ عرب مراکش اور دنیا کے مختلف حصوں میں شمسی توانائ تیار کرنے والی بڑی ارگنائیزشن میں شمار کی جاتی ہے ۔
مسجد کے ستون مختلف درختوں کی لکڑیوں سے تعمیر کیے گے ہیں اور وہ دیکھنے میں بھی درخت کی مانند نظر آتے ہیں ۔ بالخصوص مسجد کے مرکزی ہال میں نصب کیے گے یہ ستون ایک جنگل میں موجود بلند و بالا درختوں سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ یہ ستون اور مسجد کے مختلف حصوں میں موجود محرابیں اس طرح ڈئزائن کیے گے ہیں کہ زمین سے آسمان کی طرف پھیلتے نظر آتے ہیں اور اونچائ کی جانب جاتے ہوے آفاقیت اور خدا کی کبریائ کا مظہر محسوس ہوتے ہیں ۔

مسجد میں موجود جیومیٹری کے ڈیزائن ایک ماہر پروفیسر کیتھ کرکلو کے منتخب کردہ اور تخلیق کردہ ہیں ۔ یہ اسلامی آرٹ میں ایک منفرد اور خوبصورت اضافہ ہیں جو اس فن کے ذوق رکھنے والوں کو اپنے اندر مسحور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
ان میں سے سب زیادہ منفرد یہ آٹھ کونوں والا فن پارہ ہے جو “الفت کا جھونکا“ The Breath of Compassionate کہا جاتا ہے ۔ گویا یہ ایک تمثیل ہے جو خالق کائنات کی اسکی تخلیق میں یکسانیت ، قدرتی حسن اور اسکے ساتھ ساتھ فطرت میں ہر لمحہ جدت کا ایک اظہار ہے۔
یہ ڈیزائن دو مربعوں کے الحاق کا نتیجہ ہے۔ پہلے مربع کے چار کونے جو ایک تزکیر ہے کہ چاروں سمتوں میں موجود تمام تر اشیاء خالق کائنات کی تخلیق کا نتیجہ ہے۔ اور تمام مخلوقات اسکی حمد و ثناء میں مصروف ہیں ۔
اور دوسرا مربع خالق کائنات کے تخت کے چار کونوں کا اظہار ہے۔

مسجد میں نکاح اور جنازہ سروس کی سہولت ہے ، بہترین سہولیات سے آراستہ وضو خانے ، کیفے ٹیریا ، مسلم اور نان مسلم کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے میٹنگ ہال ، خوبصورت گارڈن ، انڈر گراونڈ پارکنگ ایریا ، مدَر اینڈ ٹوڈلر پرہیر ہال موجود ہیں ۔

دیگر مساجد کے برخلاف یہاں مسجد کے پورے احاطہ کی نیچے موجود وسیع وعریض زیر زمین پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتے ہوئے یہ شائبہ ہوتا کہ شاید آپ کسی سپر اسٹور کی پارکنگ میں آ گئے ہیں ۔

مسجد کی تعمیر اور سجاوٹ کے کئ مراحل ابھی باقی ہیں جن پر کام جاری ہے ۔ رنگوں کا انتخاب بہت منفرد اور نفیس ہے ۔یہ برطانیہ میں مسلم تاریخ اور ماڈرن فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہے ۔

نماز سے عین قبل امام مسجد کا تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہنا اور وہ مائیں جو چھوٹے بچے اپنے ساتھ لائی ہیں انکے لئے موجود “چھوٹے بجوں کے ساتھ نماز کی جگہ“ کے بارے میں اعلان کرنے نے ایک خوشگوار حیرت کو جنم دیا – اس مخصوص ہال میں نہ صرف نماز کی ادائیگی کی جا سکتی ہے بلکہ منبر کے مائیک سے پڑھی گئی انتہائ خوش الحانی سے کی گئی قرآن کی تلاوت سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

اللہ کی زمین پر لاکھوں مقامات ہیں جہاں اللہ سبحان و تعالی کی بڑائ کی گونج ہے اور انتہائ خوبصورت اور دیدہ زیب مساجد دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہیں ۔ اللہ تعالی ان مساجد کے زریعے مسلمانوں کو یکجہتی عطا کریں ، آپسمیں جوڑ دیں اور یہ محض نماز کی ادائیگئ کے وقت آباد نہ ہوں بلکہ مسلمانوں کے شاندار ماضی کی طرح علوم و فنون و امت کی زہنی نشونما کے مرکز بن جائیں ۔ امین

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں