63

س م اور ش کی تکنیک – محمد اطیب

او یار کہاں تھے آپ اتنے دن سے؟ دفتر میں داخل ہوتے ہی اس آواز نے مجھے چونکا دیا۔میں نے پلٹ کے دیکھا تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرے دفتر کا خاکروب تھا۔ اُس نے نہایت گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے میری خیریت دریافت کی۔ میں نے بھی خوشگوار حیرت سے اُسے جواب دیا اور اُسے بتایا کہ کچھ دن سے ٹریننگ کی مصروفیات کی وجہ سے میرے آنے اور جانے کے اوقات تبدیل ہوگئے ہیں تبھی ہماری ملاقات نہیں ہوپائی۔ مزید خیریت اور سلام دعا کے بعد میں آگے بڑھ گیا لیکن اس ملاقات نے میرا پورا دن خوشگوار بنادیا۔
بات صرف یہ ہے کہ اللہ کے فضل سے روزگار کے لئے ایک نئے ادارے سے وابستہ ہوئے چند دن ہی گزرے ہیں۔ مسکرانے اور سلام کرنے کی عادت اتنی پختہ ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ہر خاص و عام سے شناسائی ہونے لگی ہے۔آپ یقین کریں کہ میں اس خاکروب کا نام تک نہیں جانتا مگر بس میری اس عادت نے اُس کے دل میں میری جگہ کچھ اس طرح سے پیدا کردی کہ روز صبح جب اُسے یہ سلام اور مسکراہٹ نہ ملی تو اُس نے باقاعدہ اس چیز کا احساس کیا۔ بنیادی طور پہ میرا تعلق ریٹیل سیکٹر میں نمایاں مقام رکھنے والے ادارے کے ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ سے ہے جہاں ہم سیلز اسٹاف کو مسکراہٹ اور سلام کی عادت ڈالنے کا درس دیتے ہیں مگر شاید پہلی بار مجھے اس عادت کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔
اس وقت پاکستانی معاشرے میں آئے دن ایسے عوارض اور مسائل جنم لے رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم آئے دن نت نئی بیماریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ امن و امان، مہنگائی، بےروزگاری، غربت اور اس طرح کے بنیادی مسائل نے ایک عام آدمی کو کچھ اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ہم سب کے چہروں سے مسکراہٹ جیسی نعمت معدوم ہوتی جارہی ہے۔ آپ سڑک پہ نکلیں آپکو ہر دوسری جگہ لڑائی کے مناظر نظرآئیں گے۔ آپ دفتروں میں جائیں آپکو حسد اور گروہ بندی کی بدترین مثالیں ملیں گی۔ آپ محلے میں نکلیں آپکو ٹوہ رکھنے والے اور سرگوشیاں کرنے والے سیکڑوں لوگ مل جائیں گے۔ آپ تعلیمی اداروں کا رُخ کریں آپکو طلبہ تنظیم کے کارکنان ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کی نظروں سے دیکھتے ہوئے ملیں گے۔ غرض کتنی ایسی امثال ہیں جہاں کرختگی نے ہمارے رویوں میں لچک کو ختم کردیا ہے۔

کہنے کو بات بہت چھوٹی سی ہے مگر ان سارے رویوں کو ختم کرنے کے لئے ہمیں چند عادتیں اپنانی ہوں گی۔ میں نے اپنے ذاتی مشاہدے سے ان عادتوں کے ذریعے سے تعلقات میں بہتری حاصل کی۔

سلام کریں : دین اسلام نے بھی گفتگو سے پہلے سلام کی تلقین فرمائی ہے اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ میں تمہیں ایسی تدبیر بتاتا ہوں جسے اختیار کرنے سے تمھارے مابین دوستی اور محبت بڑھ جائے گی، آپس میں کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کیا کرو۔اس سلام کو مخصوص نہ کریں۔ یہ سلام ہمارے دین کی خوبصورت روایت ہے۔ اس سلام کو فروغ دیں۔ ہر جانے اور انجانے شخص کو سلام کریں کیونکہ نبی ﷺ نے قیامت کی نشانی اس بات کو بھی قرار دیا ہے کہ لوگ مجالس میں لوگوں کو مخصوص کر کے سلام کرنے لگیں گے۔
مسکراہٹ کی عادت اپنائیے: یہ ایک ایسا فن ہے جو ہر ایک شخص کو آپکا گرویدہ بنادے گا۔ یہ ایک مفت عادت ہے جو فی الحال ٹیکس سے مستثنی ہے لہذا اس سے ہر لحظہ فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق مسکراہٹ ایک متعدی جذبہ ہے جو خود بخود پھیلتا چلا جاتا ہے۔ لندن کی لومالنڈا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق مسکراہٹ آپکے اسٹریس ہارمونز کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے یاداشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔غصہ اور منفی جذبات سے خصوصا بالغان میں سیکھنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

شکریہ کا استعمال : کہنے کو یہ ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن یہ جادوئی تاثیر کا حامل ہے۔ مشہور زمانہ سائیکوتھراپسٹ اور مصنفہ ایمی مورن اس حوالے سے اپنی مفصل تحقیق میں بیان کرتی ہیں کہ شکریہ کا استعمال آپکے لئے مزید تعلقات کی راہ استوار کرتا ہے، نفسیاتی اور جسمانی صحت بہتر ہوتی ہے نیز ایسے لوگوں میں منفی جذبات کبھی اپنی جگہ نہیں بنا پاتے۔ایسے لوگوں میں دوسروں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور حسد سے بچنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔وہ مزید لکھتی ہیں کہ شکرگزار لوگ چین و سکون کی نیند سوتے ہیں۔اس حوالے سے اُنکا کہنا ہے کہ آپ روزانہ سونے سے پہلے پندرہ منٹ شکرگزاری کے جذبات کے ساتھ گزاریں۔
یہ ساری چیزیں محض یاد دہانی کا ایک ذریعہ ہیں۔ س م اور ش کی یہ تکنیک )سلام کرنا، مسکرانا اور شکرگزاری کا جذبہ (ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے۔ آج سے عزم کیجئے کہ سلام کی عادت کو ہر جگہ فروغ دیں گے۔ اپنی نجی زندگی سے لیکر دفتری اُمور تک، خاندان سے محلے تک اور ہر چھوٹے سے بڑے تک اس عادت کی ترویج کریں گے۔ مسکرا کے ملنے سے سنت بھی پوری کریں گے اور شکرگزاری کے لمحات سے اللہ اور اُس کے بندوں کا قرب ضرور حاصل کریں گے۔ اس مختصر سی زندگی میں جل کڑھ کے اپنی صحت کو نقصان پہنچانے سے بہتر ہے کہ اس دنیا سے خیر سمیٹ کر رخصت ہوں۔ اس دنیا میں آپ خود تو روتے ہوئے آئے تھے مگر جب آپ رخصت ہوں تو ہر ایک آنکھ اشکبار ہو۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں