90

شکر کی فریکوئنسی – جہانزیب راضی

ان خاتون کا پرس کہیں راستے میں گر گیا تھا، اس پرس میں ان کی رقم، ڈیبٹ، کریڈٹ، شناختی کارڈ اور کہیں زیادہ قیمتی معلومات بھی پرس میں موجود تھیں لیکن اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ وہ ابھی حال ہی میں بیرون ملک سے آئی تھیں، اس لیے اس پرس میں موجودہ جگہ کا کسی بھی قسم کا فون نمبر اور ایڈریس موجود نہیں تھا۔ ان کو یہ بھی اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ اصل میں پرس گرا کہاں ہے؟
انہوں نے وہ سارا راستہ چھان مارا جہاں ان کو گمان تھا کہ پرس گر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے راستے میں موجود کئی گھروں پر دستک دے کر معلوم بھی کیا اور انہیں آگاہ بھی کیا کہ اگر آپ کو وہ پرس ملے تو مجھے اس نمبر پر کال کریں لیکن ندارت! ان خاتون کے پاس دنیا کے ہر انسان کی طرح دو آپشنز تھے:
1) ایک یہ کہ وہ اپنی قسمت کو روتی رہیں، خود کو کوستی رہیں اور اپنے نصیب پر آنسو بہاتی رہیں۔ اس صورتحال میں وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو کر کسی بھی قسم کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوسکتی تھیں۔ وقت ضائع کر کے، صحت کو خطرے میں ڈال کر اور اپنی زبان خراب کرنے کے بعد بھی ان کا پرس بہرحال ان کو نہیں ملنا تھا۔
2) دوسرا راستہ برداشت کا تھا۔ ان کواپنے نصیب پر صبر آجاتا، وہ حالات کے دھارے پر خود کو چھوڑ دیتیں۔ جب جب اس پرس کے گرنے یا گم ہونے اور نہ ملنے کا ذکر نکلتا ان کے دل میں ایک ٹیس اٹھتی اور وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر بولتیں کہ خدا کو شاید یہی منظور تھا۔ ہم تو اس کی رضا پر راضی ہیں لیکن انہوں نے تیسرا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا اور یہ “شکر” کا راستہ تھا۔
دن بھر میں جب بھی ان کو خیال آتا کہ ان کا نہایت ہی قیمتی پرس گم ہو گیا ہے تو وہ کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ تعالی کا “شکر” ادا کرنے لگتیں آنکھیں بند کرکے سوچنے لگتیں کہ دروازے پر دستک ہوئی ہے اور کسی نے ان کا پرس ان کو واپس کردیا ہے۔ اب وہ اس پرس کو کھول کر دیکھ رہی ہیں اور اس میں سارا سامان جوں کا توں موجود ہے۔
اس طرح کرنے سے ان کی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی، امید کی کرن جل اٹھتی اور شکرگزاری کے جذبات دل میں موجزن ہو جاتے۔ ان کو یہ عمل کرتے ہوئے دو دن ہو گئے تھے۔ ان کی طبیعت اور مزاج میں خوشگواری کا احساس تھا۔ دل اور دماغ سے ہر قسم کی پریشانی، شکوہ اور شکایت ختم ہو چکی تھی کہ اچانک ان کے فون پر ایک انجان نمبر سے کال موصول ہوئی۔ فون اٹھایا تو دوسری طرف دیہاتی اندازمیں کوئی گفتگو کر رہا تھا اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس ایک پرس ہے اور اس نے بڑی مشکل سے پتہ لگایا ہے کہ شاید یہ آپ کا ہی ہے۔ خاتون نے پوچھا کہ آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟ دیہاتی نے جواب دیا کہ “آپ کے پرس میں سے کسی آدمی کے نام کی پرچی نکلی تھی، میں نے اس کے “Surname” کو آپ کے شناختی کارڈ پر موجود نام کے ساتھ ملاکر ٹیلی فون ڈائریکٹری سے نمبر نکلوایا تو معلوم ہوا کہ وہ آپ کے والد کا نمبر ہے ان سے بات ہوئی تو انہوں نے آپ کا نمبر دیا ہے اب میں یہ آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں”۔ وہ خاتون حیران و پریشان کبھی اپنے فون کو دیکھتیں اور کبھی اپنی قسمت کو ، یہ واقعہ سو فیصد سچ ہے اور یہ کوئی انوکھا واقعہ بھی نہیں ہے، ہم سب کے ساتھ زندگی میں کبھی نہ کبھی ، ایسے “معجزے” ہوتے رہتے ہیں لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی واقعہ “حادثاتی یا اتفاقی” نہیں ہوتا ہے بلکہ جو شخص دنیا میں شکر گزار ہوگا اللہ تعالی اس کے راستے آسان کر دے گا۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے شاگردوں کے ساتھ درس و تدریس میں مشغول تھے کہ اچانک ان کا ایک خادم پریشان حال کمرے میں داخل ہوا اور کہا کہ “حضرت! جس جہاز میں آپ کا تجارتی سامان آ رہا تھا وہ راستے میں ڈوب گیا ہے۔” امام صاحب مسکرائے، پورے اطمینان کے ساتھ فرمایا “الحمدللہ” اور دوبارہ درس و تدریس میں لگ گئے۔ کچھ دیر بعد وہ خادم دوبارہ اندر آیا اور کہنے لگا “حضرت! خبرجھوٹی تھی، جہاز بندرگاہ پر صحیح سلامت لنگر انداز ہو گیا ہے۔” امام صاحب مسکرائے “الحمدللہ” کہا اور پھر تعلیم و تعلم کا سلسلہ وہیں سے جوڑ دیا جہاں سے رُکا تھا۔ایک شاگرد نے حیرانی کے عالم میں دریافت کیا “امام صاحب! یہ کیا ماجرہ ہے؟ جہاز ڈوب گیا تو الحمدللہ، بچ گیا تو پھر الحمد للہ؟ آپ کی تو مسکراہٹ میں بھی کوئی فرق نہیں آیا؟” امام صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور بولے “بیٹے! وہ ڈوبا تھا تو اللہ کی مرضی تھی، اب بچ گیا ہے تو یہ بھی اللہ کی مرضی سے ہوا ہے، ہمیں تو ہر حال میں اس کا شکر گزار رہنا ہے۔”
اس دنیا میں ایک قانون موجود ہے اور اسکو “Law of attraction” (قانون کشش) کہتے ہیں۔ اس کی مثال بڑی سادہ ہے ہمارے اردگرد ہر جگہ “لہریں” موجود ہیں۔ یقین کرنا ہے تو ریڈیو آن کریں اور فریکوئنسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دیں، آپ کو کسی چینل پر کوئی “غمزدہ غزل” ملے گی۔ آپ کا اختیار ہے کہ آپ فریکوئنسی تبدیل کردیں کسی دوسرے چینل پر کوئی “خوشگوار گانا” دستیاب ہو جائے گا۔ آپ کا موڈ اور آپ کا مزاج بھی اس گانے اور غزل کے ساتھ ساتھ تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا ۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ “غمزدہ غزل” والی لہریں کمرے سے چلی گئی ہیں یا اس فریکوئنسی پر “غمزدہ غزل” موجود ہی نہیں رہی بلکہ آپ نے اپنی فریکوئنسی کو “خوشگوار گانے” کی طرف موڑ دیا ہے اسلئیے ہر طرف سے لہریں آپ کو “خوشگوار گانا” سنانے پر مجبور ہیں۔ بالکل یہی معاملہ “قانون کشش” کا ہے۔ جب آپ شکر گزار ہوتے ہیں تو پوری کائنات حرکت میں آجاتی ہے اللہ تعالی ہر چیز کو آپ کی سیٹ کی ہوئی فریکوئنسی پر لگا دیتے ہیں۔ انتخاب اور مرضی آپ کی اپنی ہے۔ آپ “شکر گزاری” کا چینل سیٹ کرتے ہیں یا خود کو “شکوے شکایتوں” کی فریکوئنسی پر ٹیون کرتے ہیں۔
آپ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جیسا بننا چاہتے ہیں، ویسا سوچنا شروع کر دیں۔ اگر آپ شکر گزار ہیں تو پھر آپ کو صبح سے شام تک شکر گزار لوگ ہی ٹکرائیں گے اور اگر کوئی ناشکرا مل بھی گیا تو آپ اس کے بھی شکر گزار ہو جائیں گے۔ واصف علی واصف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ “جو مقام شکوہ ہوتا ہے، وہی دراصل مقام شکر ہوتا ہے”۔
آپ بھی اپنی زندگی میں موجود چیزوں کی فہرست ترتیب دیں۔اپنے پیسے، رشتے، روزگار، بچے، بیوی تعلقات اور پڑوس وغیرہ ،جس چیز کی زیادتی آپ کی زندگی میں ہوگی اور آپ اس سے خوش ہوں گے تو دراصل اس کے بارے میں آپ زیادہ شکر گزار رہتے ہیں اور جس چیز میں کمی اور کوتاہی ہے دراصل وہ آپ کے” کم شکر گزار” ہونے یا “نا شکری” کا نتیجہ ہے۔
بلوں کے بروقت ادا ہوجانے، تنخواہ وقت پر مل جانے، بچوں کی فیسیں ادا ہو جانے، تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھا لینے، جسم پر صاف ستھرے کپڑے، ہاتھ میں موبائل، گھر میں خیال کرنے والی ماں، بیوی، بہن، بیٹی۔ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والے بچے اور نہ جانے کیا کیا نعمتیں ہیں جن پر آپ دن رات صبح شام شکر ادا کرنا شروع کر دیں تو بھی کم ہے۔
یاد رہے شکر دل سے ادا ہونا چاہئے۔آپ کے احساسات اور دل کی دھڑکنوں تک سے شکرگزاری کے جذبات پھوٹ رہے ہوں، آپ بات بات پر پورے خلوص دل کے ساتھ “الحمدللہ” کہہ رہے ہوں۔ صبح کوڑا لینے آنے والے سے لے کر شام کو گھر چھوڑنے والے ڈرائیور تک کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک دفعہ تھینکس، شکریہ، جزاک اللہ تو بول کر دیکھیں۔ نہ آپ کا انگ انگ جھوم اٹھے تو بات کریں۔ اللہ تعالی اس کائنات کو، اسکی ساری قوتوں کو آپ کی خدمت میں لگا دے گا۔
نہایت ہی کم ظرف اور ناشکرے ہیں ہم لوگ۔ سارا دن ہم اپنی فریکوئنسی کو “گلے شکوں” پر ٹکا کر رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہر طرف سے شکر گزاری کی لہریں آتی رہیں۔ اللہ تعالی قرآن میں واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ “اللہ کو کیا پڑی ہے، کہ تمھیں شکر گزار ہونے اور ایمان لے آنے کے بعد بھی عذاب دے؟ اللہ تو بڑا قدردان اور ہر چیز کا جاننے والا ہے”۔
اپنی زندگی کو اگر دنیا میں جنت بنانا چاہتے ہیں تو پھر ہر کسی کے لیے اپنے دل اور دماغ سے گلے، شکوے اور شکایتیں نکال کر پھینک دیں۔ ہر انسان کا، ہر چیز کا، اس کائنات کا اور اللہ تعالی کا ہر لمحہ شکر ادا کرتے رہیں۔ رسول اللہ سلم نے فرمایا “جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ دراصل اللہ تعالی کا شکر ادا نہیں کرتا”۔ایک دفعہ آپ “شکر” کو اپنی زندگی میں لے آئیں یہ کائنات آپ پر ایسے ایسے راز کھولے گی کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں