129

طلبہ یونینز، وقت کی ضرورت – جہانزیب راضی

آپ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت دیکھ لیں، وہ آپ کو سیاسی طور پر بانجھ ملے گی۔ آپ کو کسی پارٹی کے اندر کوئی “وژنری لیڈر” نظر نہیں آئے گا۔ جس کو قوم وژنری سمجھتی تھی وہ بھی شاعر کے اس مصرعہ کی طرح نکلا کہ؛
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
تین تین دفعہ حکومت، ریاست اور اقتدار میں رہنے کے باوجود یہ پارٹیاں کوئی ایک بھی سیاسی طور پر قدآورانسان پیدا کرنے سے قاصر ہیں، 22 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں جہاں 65 فیصد نوجوان بستے ہیں کوئی نوجوان سیاسی رہنما ناپید ہے۔
جب بھی کوئی طالب علم کسی بھی سرکاری یا نجی جامعہ میں داخلہ لیتا ہے اسے ایک ایفیڈیوٹ بھرنا پڑتا ہے جو بعد ازاں ایک سترہویں گریڈ کے آفیسر سے دستخط بھی ہوتا ہے اور اس پر اس طالب علم کے باپ کے بھی دستخط لیے جاتے ہیں۔ اس حلف نامے میں واضح لکھا ہوتا ہے کہ “میں حلفیہ اقرار کرتا/کرتی ہوں کہ میں اس جامعہ میں صرف ڈگری کے حصول کے لیے داخل ہوا ہوں اور یہاں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمی سے میرا کوئی تعلق نہیں ھوگا، ورنہ دوسری صورت میں جامعہ میرا داخلہ تک منسوخ کرنے کی مجاز ہوگی”۔
آپ ایمانداری سے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں جس ملک کی یونیورسٹیز اپنے نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے بجائے ان کے سامنے سیاست کو ایک “گالی” کی طرح پیش کریں گی آپ کے خیال میں اس نوجوان کو ملک کے سیاسی معاملات سے کوئی دلچسپی ہوگی؟ جس نے زندگی بھر ووٹ نام کی “بے وقتس” چیز کی اہمیت ہی نہیں دیکھی وہ بھلا الیکشن کمیشن کے اشتہارات سے کیسے اس بات پر آمادہ ہوجائے گا کہ اچانک الیکشن ڈے پر جا کر اپنا ووٹ کاسٹ کر دے؟
جس طالبعلم نے اپنی یونیورسٹی اور کیمپس کی چاردیواری میں کبھی صحیح/غلط کی تمیز نہیں کی، جس نے کبھی سچی اور جھوٹی تقریروں کا فرق اور ان کے اثرات نہیں دیکھے، جس نے کبھی اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی رہنما کی طرف دیکھا ہی نہیں وہ تو یہی سمجھے گا نا کہ ملک بھی ایسے ہی چلتا ہے۔
آپ یہ سب بھی چھوڑیں۔ آپ کبھی این-ای-ڈی یونیورسٹی چلے جائیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمارے ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ آپ کو وہاں ٹیکنالوجی کی دھجیاں اڑ ہوتی ہوئی نظر آئیں گی، ایک ڈگری لینے کے لیے طالب علم کو چار سے پانچ بلڈنگز میں ذلیل اور رسوا ہونا پڑتا ہے، جس نے ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کیا ہوتا ہے وہ بھی اپنی “ڈاکٹریٹ” کی ڈگری کے حصول کے لیے ملک کی اتنی بڑی جامعہ کے اندر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوتا ہے اور جب بڑی تگ و دو اور مشقت کے بعد چوتھی عمارت کے آخری کونے میں بیٹھے پروفیسر صاحب سے بندہ دستخط کرواتا ہے تو وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ “مُہر” میرے چپڑاسی کے پاس ہے وہ نیچے گیا ہوا ہے آجائے گا تو لگوالینا۔ یہ ملک کی نامور ترین انجینئرنگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے کے ساتھ ہو رہا ہے لیکن شومئی قسمت کہ؛
ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے
نہ کوئی مسئلہ حل کرنے والا ہے اور نہ ہی کروانے والا، نہ کسی کو احساس ہے اور نہ ہی کوئی احساس دلانے والا اسی بےحسی کے رویے کے ساتھ یہ “پڑھا لکھا” طبقہ جب ملک کے اداروں میں جاتا ہے تو وہی حشر ہوتا ہے جو ہورہا ہے۔
دنیا کا کوئی ترقی یافتہ ملک ایسا نہیں ہے جہاں طلبہ یونینز نہ ہوں۔ امریکہ اور برطانیہ سے لے کر ہندودستان تک کی یونیورسٹیز اور کالجز تک میں طلبہ یونینز موجود ہیں۔ ان کے باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں، ان کا اپنا سیکریٹیریٹ ہوتا ہے، یونیورسٹی میں یونین کے لئے باقاعدہ بجٹ مختص کیا جاتا ہے، طلبہ و طالبات اپنی پریشانیاں اور مسائل یونین کی منتخب کردہ کمیٹی کے پاس لاتے ہیں طلبہ کے مسائل طلبہ خود حل کرتے ہیں اور انہیں بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر سال بھر کے اندر یہ مسائل حل نہ کروائے تو سال بھر بعد یہی طلبہ و طالبات اپنے ووٹ کے ذریعے ہمیں اٹھا کر پھینک دیں گے۔ کالج میں دو سال اور یونیورسٹیز میں کبھی چار اور چھ سال تک جب کوئی طالب علم پریکٹس دیکھتا ہے تو ملکی معاملات میں باشعور ہوتا چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں طلبہ یونین کے انتخابات پر پابندی 30 جنوری 1984 کو اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق صاحب نے لگائی۔ یہ پابندی سب سے پہلے 1979 میں سندھ میں لگی تاکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کا زور توڑا جاسکے اور آہستہ آہستہ اس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا دیا گیا۔ اس سے پہلے یہ پابندی صدر ایوب خان نے بھی لگائی تھی لیکن بعدازاں اس پابندی کو انھی کے جانشین یحییٰ خان نے ختم کروا دیا۔ طلبا اور طلبہ یونین کے قوت کیا ہوتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں گے پاکستان کے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زلفقارعلی بھٹو، شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور صاحب کو اسمبلی سے باہر پھینکوادیتے تھے، اسمبلی کے فلور پر اسمبلی ارکان کو ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دیتے تھے مگر جب اسلامی جمعیت طلبہ کا وفد جو اس وقت پورے پاکستان کی جامعات میں جیتی ہوئی تھی حتی لاڑکانہ کالج تک میں کلین سویپ کیا تھا تو بھٹو صاحب پوری عزت و احترام کے ساتھ ان سے ملاقات بھی کرتے تھے اور ان کی بات بھی سنتے تھے۔
تحریک ختم نبوت کو جلا بخشنے والی یہی طلبہ یونینز تھیں۔گلگت سے کراچی تک ہر کالج اور یونیورسٹی سے سینکڑوں طلبہ وطالبات نکلتے تھے حتی کہ 1977 میں بھٹو صاحب کو ہٹانے میں بھی بہت بڑا کردار ان طلبہ یونینز کا بھی تھا۔
پاکستان کے بے شمار اچھے اسکولز میں اب بھی بچوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے ہیڈ بوائز اور گرلز کے انتخابات ہوتے ہیں۔ امیدوار طلبہ و طالبات مختلف کلاسوں میں جاکر بچوں کو کنوینس کرتے ہیں اور اس طرح ان میں لیڈرشپ اسکلز پروان چڑھتی ہیں، بولنے کا حوصلہ ملتا ہے، کچھ کرنے اور کر گزرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ اس سلسلے کو بعدازاں کالج اور یونیورسٹی تک جانا چاہئے۔ ہر سال باقاعدہ طلبہ یونینز کے انتخابات وقت کی ضرورت ہیں، دوسری صورت میں آپ کو یہی سیاسی جماعتیں، ان کی اولادیں اور ان کی اولادوں کے چہرے اولاد نظر آتے رہیں گے، یہی وزیر اور مشیر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی اور دوسری سے پہلی میں آتے جاتے رہیں گے اور آپ “تبدیلی” کی لالی پاپ کا شکار رہیں گے۔
ملک کو نئے خون، نئے چہروں اور نئی توانائی کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ 30 جنوری 1984 یعنی طلبہ یونینز پر پابندی لگنے سے پہلے طلبہ تنظیموں میں کلیش کی وجہ سے کوئی ایک طالب علم بھی جان سے نہیں مارا گیا لیکن پابندی کے بعد سے آج تک ہزاروں طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ کبھی تعصب اور کبھی لسانیت کے نام پر ایک دوسرے کو قتل کر چکے ہیں کیونکہ اب تعلیمی اداروں میں تنظیموں کی موجودگی ووٹوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ “قوت اور طاقت” کی بنیاد پر ہوتی ہے، اور طاقت تو انسان سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں کی تجدید، حاضری میں اضافہ، عمارتوں کے ظاہری ماحول کی درستگی جبکہ طلبہ کے لئے درست رہنمائی اور ملک وقوم کے شعور میں اضافے کے لیے لیے طلبہ یونینز کی بحالی ناگزیر ہے۔ جب آپ نے اٹھارہ سال کی عمر سے ووٹ کا حق دے ہی دیا ہے تو ان کو یہ حق ان کے تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ معاملہ ویسے بھی صوبوں کے پاس ہے اس پر فوری قانون سازی کرنے اور تعلیمی اداروں میں انتخابات کروانے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء سمیت اس قوم کو بھی ان کے مستقبل کے رہنما اور حقیقی لیڈرز میسرآسکیں۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں