87

غزوہء بدر – ماہ رخ سعید

(17 رمضان سنہ2 ہجری مطابق 13 مارچ ء624)

بدر مدینہ منورہ سے تقریبا اسی میل پر وادی یلیل میں ایک بیضوی شکل کا ساڑھے پانچ میل لمبا اور ساڑھے چار میل چوڑا وسیع میدان ہےجو پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے ۔یمن تا شام کی تجارتی شاہراہیں اسی میدان سے ہوکر گزرتی تھی مکہ اور مدینہ جانے کے راستے بھی بدر ملتے تھے

غزوہ بدر کا سبب

ہجرت کے بعد ہی سے قریش اور مسلمان حالت جنگ کی کیفیت میں تھے مکہ سے مسلسل حملہ کی دھمکیاں مل رہی تھیں رجب دو ہجری میں مسلمانوں کے ہاتھوں عمرو بن حضرمی کا اتفاقیہ قتل اس غزوہ کاسبب بنا۔
قریش نے مدینہ پر حملہ کے مصارف کے لئے ایک تجارتی کارواں جس کی مالیت پچاس ہزار دینار تھی شام روانہ کیا جب یہ قافلہ شام سے واپس ا رہا تھا تو کفار نے مکہ میں یہ افواہ پھیلا دی کہ مسلمان اس قافلے پر حملہ کرنے والے ہیں امیر کارواں ابوسفیان کو بھی یہی ڈر تھا اس نے اپنی مدد کے لئے مکہ میں پیغام بھجوایا سرداران قریش نے دو تین دن ہی میں کارواں کو بچانے کے لیےایک ہزار کا لشکر ترتیب دیا جو فوراً مکہ سےچل پڑا ادھر ابوسفیان نے راستہ بدل کر کاروں کو ساحل کے ساتھ ساتھ لے چلا کارواں جب بدرکے نواح سےبچ نکلا تو ابوسفیان نے سرداروں کو پیام بھیجوایا کہ لوٹ آؤ ابوجہل نے اس سے ناراض ہو کر کہا *”مسلمان مقابلے پر آئیں تو انہیں پیس کررکھ دیں گے۔

مجاہدین بدر اورکفار کاعسکری سامان
کفار چھ سو زرہ پوش جنگ جو ٫سو اسلحہ بند شترسوار٫ دوسوہتھیاروں سے لیس گھڑسوار, پانچ سو پورے ہتھیاروں سے اور چھ سو نامکمل اسلحہ سے لیس پیدل جنگجو کے ساتھ حملے کے لیے تیار تھے *جبکہ*
مسلمانوں کے پاس کل ستر اونٹ اور دوگھوڑے تھے کسی کے پاس ڈھنگ کا اسلحہ نہیں تھا لشکر کی تعداد 313 تھی جس میں بیاسی مہاجرین ،بنی اوس کے اکسٹھ اور بنی خزرج کے ستر مجاہدین تھے۔ آٹھ مجاہد میدان جنگ میں حاضر نہیں تھے اور مختلف کاموں میں متعین کیے گئے تھے۔

حضور کا وادی بدر میں جگہ کا انتخاب

منزل پر اترتے ہی آپ نے حضرت ابوبکر اور دیگر کبار صحابہ کے ساتھ گردونواح کا جائزہ لیا حضرت حباب بن منذر نے عرض کیا اگر مناسب تصور فرمائیں توہم ایسے چشمے کا انتخاب کرتے ہیں جو قریش کے قریب ہو تاکہ دشمن پانی سے محروم رہیں اپ نے اپنے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا وہاں کی زمین ریتیلی تھی رات بارش ہوگی توریت میں پانی جذب ہوکر زمین سخت ہوگئی جبکہ کفار کی جگہ نرم مٹی کی وجہ سےکیچڑ بن گئی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی:

“اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا آج اسے پورا کر اگر یہ چند لوگ ختم ہو گئے تو پھر قیامت تک کوئی تیری بندگی نہ کرے گا”.

غزوہ بدر کا آغاز
عرب کے دستور کے مطابق مدمقابل لڑائی کا آغاز ہوا اس کے بعد عام جنگ شروع ہوئی سب سے پہلے لشکر قریش کے سردار عتبہ نے مقابلے کے لئے پکارا انصار اس کے مقابلے کو نکلے تو اس نے یہ کہہ کر لڑنے سے انکار کر دیا کہ یہ لوگ ہمارے جوڑ کے نہیں اب حضرت علی , حضرت حمزہ اور حضرت ابوعبیدہ میدان میں آئے.
“یا حی یا قیوم اور اللہ اکبر” کے نعرے سے جنگ کا آغاز کیا حضرت حمزہ نے عتبہ کو اور حضرت علی نے ولید اور شیبہ کو موت کے گھاٹ اتار ا اور حضرت زبیر کے مقابلے میں سعید بن العاص کا بیٹا آیا جبکہ ابوجہل جیسے دشمن اسلام کو دوبچوں معاذ اور معوذ نے قتل کیا امیہ بن خلف بھی مارا گیا غرض بدر کے میدان میں قریش کے بڑے بڑے جنگجو اور بہادر مارے گئے اور مسلمانوں کو اللہ کے کرم سے بدر کے معرکے میں پہلی اور شاندار کامیابی عطا کی۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا

“تم بے سروسامان تھے اللہ نے تم کو بدر میں فتح دی” (سورہ ال عمران 3)

بدر کی لڑائی میں چھ مہاجر اور آٹھ انصار شہید ہوئے قریش کے ستر آدمی مارے گئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔

غزوہ بدر کی فتح
مسلمانوں کا یہ پہلا غزوہ تھا جس میں قتال ہوا نتائج کے اعتبار سے بہت اہم معرکہ تھا اس کا شمار دنیا کے چندفیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے مسلمان ایک قوت بن کر ابھرے اور مدینہ کی مملکت مستحکم ہوئی اس نے مدینہ کے بسنے والے یہودیوں کو بھی اپنی مرعوب کردیا مسلمانوں کو جن کے لیے کوئی مرکزی مقام نہ تھا ایک اچھی جگہ مل گئی اس کے علاوہ مسلمانوں کو دعوت اسلام عام کرنے اور اپنا تمدن قائم کرنے کا موقع ملا۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں