95

“لائف از سو ہارڈ” – مسعود میر

اس سے زیادہ خوش نصیبی کیا ہوگی کہ قوم کے ننھے ننھے معماروں سے ملاقات ہو۔ قدرت کے یہ عظیم الشان شاہکار مجھ ناچیز کا انتظار کریں، اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے بنائے ہوئے خوش آمدیدی پیغام مجھے پیش کریں۔
وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا۔ روشن چہروں سے اور ان کی پر عزم باتوں سے تابناک مستقبل کی نوید سنائی دے رہی تھی۔ میں پانچویں کلاس میں ان حسین کلیوں سے ملاقات کررہا تھا، سب بچوں نے خوبصورتی سے کارڈز پر اپنے مشن اسٹیٹمنٹ لکھے ہوئے تھے، میں باری باری بڑے انہماک سے پڑھ رہا تھا کہ اچانک ٹھٹک کر رہ گیا،” ایک کارڈ پر لکھا تھا”آئی ہیو ٹو ورک ہارڈ، بی کاز لائف از سو ہارڈ۔۔۔۔۔”

“لائف از سو ہارڈ؟؟؟” کون ہے وہ جس نے یہ لکھا ہے؟
“جی میں نے لکھا ہے۔” ایک ننھی منی نے ہاتھ بلند کیا۔
“کیوں بیٹا، کس نے آپ کو کہا لائف از سو ہارڈ، کیوں آپ کو ایسا لگتا ہے؟” میں نے بے چینی سے پوچھا۔
خاموشی۔۔
” سر یہ بہت سوچتی رہتی ہے” ٹیچر نے خاموشی توڑی۔”شی از اے تھنکر”. شاید بچی کو حوصلہ دینے ایک اور ٹیچر نے کہا۔

“لائف از ناٹ ہارڈ میری بیٹی. یہ تو انجوائے کرنے والی چیز ہے۔ ہم نے اسے مشکل بنادیا ہے۔۔” اور بھی کچھ کہا سمجھانے کی کوشش کی۔
پتہ نہیں سمجھا پایا یا نہیں۔ وہ خاموش کھڑی سر ہلاتی رہی۔۔۔
مگر کیا فرق پڑتا ہے کہ ان معصوم ذہنوں کو سمجھ آتا ہے کہ نہیں کیونکہ جنھوں نے ان کو اسکول، ٹیوشن، ہوم ورک، ٹسٹ، موک، مڈٹرم، فائنلز۔۔۔۔ میں دوڑا دوڑا کر ہلکان کر دیا ہے اور ان کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے انھیں کون سمجھائے گا؟؟ انھیں کب سمجھ آئے گی؟؟

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں