77

لوگ کیا کہیں گے؟ کہنے دو! – لائبہ قیام

رات میں حسب معمول بجلی چلی جانے کے باعث وہ چھت پر سکون کی نیند تلاش کرنے اپنا تکیہ اٹھا کر چل دیا- زندگی کی پریشانیوں اور پانچ بیٹیوں کے ہونے کا سوچ سوچ کے بہر حال وہ کسی بھی رات سکون سے سو تو نہ پاتا تھا، مگر آج اس کی طبیعت میں کچھ الگ ہی بے چینی تھی- وہ چھت پر زمین پر لیٹا تاروں کو تکتا گہری سوچ میں مصروف تھا- بیٹی کا رشتہ تو طے کر دیا تھا مگر اب معاشرے میں عزت کو قائم و دائم رکھنے کے لیے جہیز کے نام پر جو سامان بیٹی کے ساتھ رخصت کرنا تھا وہ کہاں سے آئے گا؟ ایک معمولی سی دکان چلانے والا بھلا کیسے اپنی بیٹی کو رخصت کر پائے گا؟ جہیز نہ دیا تو بیٹی سسرال میں اپنا مقام کیسے بنا پائے گی؟ کیا اس کو وہ عزت مل جائے گی جو تمام بیٹیوں کو حاصل ہوتی ہے؟ نہ جانے کب صبح ہوگئی اور وہ نیند پوری کئے بغیر دکان روزگار تلاش کرنے چلا گیا—
آج ہم رسم و رواج کی پابندی کرنے میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ چیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مشکل کر بیٹھے ہیں- آج ہم امیر اور غریب کے فرق میں اتنا پڑ چکے ہیں کہ ایک دوسرے کے لئے زمین تنگ کر چکے ہیں- ہمارے معاشرے میں ماں باپ بچوں کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ان کی شادی کو سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتے ہیں جو کہ بلاشبہ ہے بھی- مگر میں کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہوں کہ شادی کے لیے خوبصورتی کا معیار آخر صرف گوری چمڑی ہی کیوں؟ کیوں ہمارے معاشرے میں اولین ترجیح یا یوں کہہ لیجئے کہ خوبصورتی کا معیار ذہانت و قابلیت نہیں ہوتا؟ کیوں ہم سلیقہ مند اور مناسب لوگ چھوڑ کر امیرو کبیر گھرانہ ڈھونڈتے ہیں؟ یقیناً ہم جیسے کتنے ہی باشعور لوگ اس پر سوچتے ضرور ہونگے! شادی ہمارے معاشرے میں آجکل اتنا بڑا کام بن چکی ہے کہ غریبوں کے لیے ایک بہت مشکل مرحلہ ثابت ہوتی ہے- پچھلے دنوں ہم نے اپنے ملک کے نامور اداکاروں کو “جہیز خوری بند کرو” کا شعور بیدار کرتے تو دیکھا مگر بہت کم اس پر عمل پیرا ہوتے نظر آئے- یقیناً سب کی اپنی اپنی مرضی ضرور ہے مگر کسی بھی ملک کے قلمکار,فنکار, موسیقار, سیاستدان اور ایسے کتنی باصلاحیت لوگ ہر جگہ اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور ملک کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لاتے ہیں-آج ہم بہترین سے بہترین شادی کرنے کی دوڑ میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ اِسے انتہائی مشکل مرحلہ بنا چکے ہیں یہاں ملک کے اہم لوگوں کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ان جیسا بننا چاہتے ہیں, ہم چاہتے ہیں جیسے ان کی زندگی ہے ویسے ہماری بھی ہو, جو یہ پہنتے ہیں وہی ہم بھی پہنیں,جو یہ کھاتے ہیں وہی ہم بھی کھائیں-
تو ایسے میں ہمارے اداکاروں اور سیاستدانوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سادگی کو فروغ دیں, شادی سادگی سے کریں اور کھانا مناسب رکھیں-مایوں، مہندی، ڈھولکی جسے فرسودہ رسم و رواج کو جڑ سے ختم کریں تاکہ ہمارے غریب طبقے کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہو سکیں –
پھر مزید اگر بات جہیز کی جائے تو یہ ایک بہت پرانا مسئلہ ہے- نہ جانے کتنی ہی بیٹیاں جہیز نہ ہونےکے باعث شادی جیسے بندھن میں بندھنے سے محروم رہ جاتے ہیں-اگر عقلمندی سے غور کریں تو جو چیزیں جہیز میں شامل ہوتی ہے ان میں یقیناً ٹی وی، فریج، برتن، مختلف قسم کے چمچ، بیڈ، صوفے، اوون، اے-سی، پنکھے وغیرہ ہوتے ہیں- مگر ذرا غور کیجئے کہ جس گھر میں بیٹی کو رخصت کیا جاتا ہے کیا وہاں پہلے سے فریج موجود نہیں ہوگی؟ کیا وہاں کھانے کے برتن موجود نہیں ہوں گے؟ کیا وہاں بیٹھنے کے لئے صوفے نہیں ہونگے؟ اور یقیناً کتنی ہی ایسی چیزیں دی جاتی ہیں صرف اس لیے کہ بیٹی کو سسرال میں سننا نہ پڑے! اور مزید ہمارے معاشرے میں مختلف ذاتوں کے بنائے ہوئے معیار بھی یقیناً بہت سے مسائل کی جڑ ہیں- ایک ایسی ذات موجود ہے جس میں والدین کو اپنی بیٹی کو جہیز بھی بھرپور دینا پڑتا ہے، شادی کے ایک مہینے بعد کا راشن بھی بھیجنا پڑتا ہے اور سسرال والوں کو اچھا خاصا سونا بھی تحفتاً پیش کرنا پڑتا ہے- جو صاحب استطاعت ہوں وہ تو شاید اس معیار پر پورا اتر جائیں مگر جو اس قابل نہیں کیا وہ کبھی بیٹیوں کی شادیاں نہیں کر پائیں گے؟
خدارا شادی جیسے خوبصورت مرحلے کو آسان بنانے کی کوشش کیجئے- جو صاحب استطاعت ہیں وہ سادگی اختیار کریں تاکہ لوگوں میں شعور و آگہی پیدا ہوسکے اور ہمارے معاشرے میں امیر و غریب کا کوئی فرق نہ رہے- کوئی باپ مجبوری میں اپنی بیٹیوں کو بیچ نہ ڈالے، یا کوئی بھی ماں، بیٹی کی پیدائش پر خود کو خوش قسمت سمجھے نہ کہ ﷲ کی اس رحمت کو اپنے لئے زحمت سمجھے! جب ہم سب انفرادی طور پر معاشرے کی برائیوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے تو یقیناً ترقی کی راہوں پر گامزن ہوں گے اور اس ملک کو پھلتا پھولتا دیکھ سکیں گے- اور”لوگ کیا کہیں گے” جیسی فکر سے آزاد ہونگے کیونکہ لوگوں کا کام ہے کہنا لوگوں کو کہنے دو!!

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں