43

منگیتر کوئی رشتہ نہیں ہے – نئیر کاشف

گلستانِ جوہر کراچی میں موجود یہ چار منزلہ سادہ سی عمارت دراصل ایک سرکاری دفتر ہے، لیکن کوئی عام سرکاری دفتر نہیں، یہ ہے FIA NR3C Circle Sindh Zone، یہاں ایک نجی کام کے سلسلے میں اپنے صاحب کے ساتھ جانا ہوا، بیگز وغیرہ کی جانچ پڑتال سے گزر کر اندر داخل ہوئے تو خالی بڑا سا ہال اور اس میں بیٹھے دو رینجرز کے اہلکار ہم پر کوئی خاص تاثر قائم نہ کر سکے۔ ہمیں جن صاحب سے جان پہچان کی بنیاد پر ملنا تھا، ان کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ ہمیں خود ہی شکایت کے دفتر پہنچا دیا گیا۔ سادہ سا دفتر جس میں بس ضرورت کا فرنیچر موجود تھا اور میز کی دوسری جانب رکھی خالی کرسی۔

بات سنیں! کیا آپ بھی کمپلین کروانے آئی ہیں؟ ایک لڑکی کی آواز پہ میں نے پلٹ کے دیکھا، اعتماد اور گھبراہٹ کے سائے مل کر اس کے چہرے کو عجیب سا تاثر دے رہے تھے۔ میں نے اسے بغور دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ میرے کزنز نے میرے منگیتر کو الٹے سیدھے میسجز کر کے میری منگنی ختم کروا دی ہے۔ وہ اپنے ادھیڑ عمر باریش والد کے ساتھ تھی، میں اسے کیا کہتی! الفاظ ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ ہمیں متوجہ کر لیا گیا، وہ باپ بیٹی خاموشی سے ادھر ہی بیٹھے رہے۔ ہم ابھی اپنی بات کر رہے تھے کہ ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے، وہاں موجود ہر شخص کو سلام کیا اور خود ہی ان باپ بیٹی کی طرف متوجہ ہو گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبد الغفار صاحب ہیں۔ اس میز پر میں اپنی بات پوری کر چکی تھی کہ ڈائریکٹر صاحب کی آواز نے مجھے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ وہ بچی کے والد سے مخاطب تھے، “دیکھیں محترم ایک بات آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں؟ یہ فیانسی، منگیتر، کچھ نہیں ہوتا، کیوں اس طرح بچوں کو اجازتیں دے دی جاتی ہیں۔ منگنی کیا ہے؟ کچھ نہیں ہے منگنی۔ ان کے لہجے سے لگتا تھا کہ وہ کتنے اخلاص سے یہ بات کہہ رہے ہیں۔ پھر یہ کزنز، اور اس سے بڑھ کر اب یہ فرینڈز، ہمارے بچوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی “رشتے” نہیں ہیں۔ کتنا کرب تھا ان کی آوازمیں۔ میں سوچتی رہی کہ کتنی درست بات کر رہے ہیں یہ۔ اسی اثناء میں ہم بھی وہاں سے فارغ ہوئے اور وہ بھی ان باپ بیٹی کے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے، خود ہی ہمارے قریب آئے، ہماری بات مختصراً سنی اور اپنے ساتھ پہلی منزل پہ واقع اپنے دفتر میں لے گئے۔ راستے میں، ریسیپشنسٹ، آن ڈیوٹی رینجرز کے اہلکار، چپڑاسی، ہر شخص کے پاس رک کے مصافحہ کرتے اور اور خیر خیریت پوچھتے۔

ابھی ہم ان کے پیچھے پیچھے ان کے کمرے میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ان کے پاس کسی لڑکی کی کال آگئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے جب وہ فون پہ موجود لڑکی کو تفصیلات بتا رہے تھے کہ اسے بلیک میل کرنے والوں کے ساتھ کس طرح اس کا اپنا منگیتر ملا ہوا تھا۔ (مجھے یاد آیا کہ نیچے ان کا لہجہ لفظ منگیتر پہ کتنا تلخ ہوا تھا) کم عقلی، کم علمی، دین سے دوری، تربیت کا فقدان، جانے کیا چیز لڑکیوں کو اتنا کمزور کر ڈالتی ہے کہ وہ کسی “منگیتر” یا “دوست” پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں کیا کیا ان باکس کر ڈالتی ہیں۔ “بیٹا! آپ جتنا خود کو نہیں جانتیں نا، اس سے زیادہ ہم آپ کو جان گئے ہیں”، انھوں نے ہرگز دھمکی نہیں دی تھی بلکہ اسے متنبہ کیا تھا کہ وہ منگیتر کے دباؤ میں آکر کیس واپس نہ لے۔ ہم نے اپنا کام کیا اور واپسی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن وہ بچی جو کزنز کی شکایت لے کر آئی تھی، اپنے باپ کے ساتھ ابھی وہیں تھی، دل چاہا تھا کہ نام بھی پوچھوں اور رابطہ نمبر بھی لوں، لیکن یہ سب نہ کر سکی، البتہ چلتے چلتے اس کے پاس رک کر اسے گلے لگایا اور کامیابی اور عافیت کی دعا ضرور دی۔

ان انجان ، بےنام لڑکیوں کے بارے میں اس دن سے مستقل سوچ رہی ہوں۔ عبدالغفار صاحب کی بات ایسی ہے جس پہ معاشرے کے سنجیدہ طبقوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ منگنی ایک ایسا دروانیہ بنا دیا گیا ہے جس میں لڑکا اور لڑکی کے کھلے ڈلے تعلقات کسی کے لیے اچنبھے کی بات نہیں ہوتی۔ لڑکیوں کی شادیاں وقت پر کرنے کو تو پھر بھی اہمیت دی جاتی ہے، لیکن لڑکوں کے نکاح کو عام طور سے والدین ہر ممکن حد تک ٹالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ ایک ایسی دنیا ہے جس تک ہر ایک کی ہر وقت رسائی نہایت آسان ہے، ایک جانب موبائل کیمرہ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری جانب مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس کے ذریعے اجنبی افراد سے دوستی اور پھر اس کا قربت میں تبدیل ہو جانا۔ کہیں ہم ان روابط کے نتیجے میں کسی نو عمر بچے کا اغوا دیکھتے ہیں، تو کہیں غیر محتاط نامناسب تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے خودکشی کو آخری حل سمجھنے والی لڑکیوں کی کہانیاں سامنے آتی ہیں، کہیں ان روابط کی وجہ سے شادی جیسے مقدس بندھن کو ٹوٹتا دیکھتے ہیں، تو کہیں نوجوانوں کو جتھوں کی شکل میں ایک دوسروں پہ حملہ آور پاتے ہیں۔

اس ضمن میں سب سے اہم بات تربیت کا فقدان ہے، علم بھی موجود ہے اور مہارت بھی، لیکن صحیح اور غلط کا تصور، سچ اور جھوٹ کا فرق سکھانے والے ادارے جیسے عضوِ معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ تربیت کے بنیادی ادارے یعنی خاندان اور درس گاہ دونوں ہی کی گرفت فرد پر نہایت کمزور ہو چکی ہے۔ ایسے میں ذرائع ابلاغ کا کام بہت بڑھ جاتا ہے (جس کے حوالے سے مذکورہ بالا اداروں نے افراد کو کر رکھا ہے)، صحیح اور غلط کا فرق، احتیاطیں اور مشکل میں پڑ جانے کے بعد اس سے نکلنے کے لیے راستوں کی جانب رہنمائی کرنا اب میڈیا انڈسٹری کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرد اور معاشرے دونوں کو نظریاتی بنیادوں کی آبیاری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس معاملے میں آگاہی پھیلانے کی بہت ضرورت ہے، غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے، صیاد کا شکار کوئی بھی بن سکتا ہے، ایسے میں خود کو تنہا نہ سمجھیں، کسی قریبی فرد کو اعتماد میں لیتے ہوئے متعلقہ ادارے سے رجوع کیجیے۔ ایسی صورتحال میں گھر والوں اور بزرگوں کا کردار بھی بےحد اہم ہے، اولاد کو انسان ہونے کا مارجن دیتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ ان سے بھی غلطیاں اور گناہ ہو سکتے ہیں۔ انہیں اس بات کا اعتماد دیں کہ ان کی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے آپ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یاد رکھیں بچی یا بچہ کبھی بھی اپنی غلطی اور اس کے نتیجے میں اٹھائی جانے والی پریشانی کا اظہار آپ کے سامنے نہیں کر سکتا، اگر اسے آپ کی جانب سے مکمل اعتماد حاصل نہ ہو، اور یہ بھروسہ آپ اسی وقت جیت سکتے ہیں جب زندگی کے عام اور خاص ہر معاملے میں آپ ان کی غلطیوں سے درگزر کرتے ہوں۔

چلتے چلتے یہ ضرور کہوں گی کہ ایف آئی اے کا یہ ادارہ شہریوں کے لیے رحمت ہے۔ خدانخواستہ کبھی کسی قسم کے مسائل کا شکار ہوں تو بلا تامل اس ادارے سے رجوع کریں۔ میں نے یہاں ہر ایک کو کام میں مصروف دیکھا، شہریوں کے مسائل پہ پریشان دیکھا اور سب سے بڑھ کر ڈپٹی ڈائریکٹر صاحب کے چہرے پہ لڑکیوں کے مسائل سنتے اور حل کرتے وقت باپ جیسی شفقت دیکھی۔ االلہ اس ادارے میں کام کرنے والوں پہ اپنا سایہِ رحمت بنائے رکھے، اور ہماری نئی نسل کو ان تمام فتنوں سے محفوظ رکھے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں