54

موت سے نہ ڈرنے والی قوم – رمشا جاوید

میں نے Like ایپ ڈاؤن لوڈ کیا تھا اپنی ویڈیوز میں مختلف تبدیلیاں لانے کے لیے اور پھر مجھے معلوم ہوا کے مسلمان کن بیہودہ کاموں میں لگ کر اپنا ایمان اور وقت برباد کررہے ہیں۔ خاص کر نوجوان لڑکیاں۔ کتنا مشکل کام ہے۔ بننا سنورنا وقت لگا کر اپنی شکلوں میں بہتری لانا اور پھر چست کپڑے پہن کر خود کو “آزاد خیال” اور “ماڈرن” ثابت کرتے ہوئے چند منٹ کی ویڈیوز بنانا اور اسے عام کردینا۔

کیا خیال ہے کیا ایسی لڑکیاں یا عورتیں آزاد خیال ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟ اگر واقعی اسے آزاد خیالی سمجھا جارہا ہے تو یہ شعور کی حددرجہ کمی کی وجہ کر ہے۔ کیونکہ جن سے یہ متاثر ہورہی ہیں یا جنہیں متاثر کرنے کی کوششوں میں لگی ہیں وہاں کا ابتدائی اور بنیادی نظریہ یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں اور بدی کی جڑ ہے۔ مرد کے لیے مصیبت کی تحریک کا سرچشمہ اور جہنم کا دروازہ ہے۔ تمام انسانی مصائب کا آغاز اسی سے ہوا ہے۔ اس کو اپنے حسن و جمال پر شرمانا چاہیے کیونکہ وہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کو دائما کفارہ ادا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ وہ دنیا اور دنیا والوں پر لعنت اور مصیبت لائی ہے۔ ترتولیاں جو ابتدائی دور کے ائمہ مسیحیت میں سے تھا عورت کے متعلق مسیح تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کرتا ہے : ” وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لےجانے والی’ خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کی تصویر ‘ مرد کو غارت کرنے والی ہے۔” اور مغرب کی عورتوں کا جو حال ہے وہ سبھی کو نظر آرہا ہے۔ آئے دن جنسی تشدد کا نشانہ بن کر ان کی لاش ملتی ہے۔ وہ غیر محفوظ ہیں اور پناہ ڈھونڈتی ہیں ۔۔ جبکہ کرائی سوسٹم جو مسیحیت کے اولیا کبار میں شمار کیا جاتا ہے۔ عورت کے حق میں کہتا ہے۔” ایک ناگزیر برائی’ ایک پیدائشی وسوسہ’ ایک مرغوب آفت’ ایک خانگی خطرہ ‘ ایک غارت گرد لربائی’ایک آراستہ مصیبت۔” تو اتنے نایاب لقب کے بعد بھی اگر وہ ان جیسوں کی نقالی کرکے خود کو “ماڈرن” سمجھ رہی ہیں تو پھر ہم سوائے دعا اور برائی کے خاتمے کے لیے اپنے اپنے حصے کی لڑائی لڑنے کے اور کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ کیونکہ ہم بھی مسلمان ہیں ۔ بیشک یہ اللہ کا ہم پر خاص کرم ہے کے ہم ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور نبی مہرباںﷺ کی امت میں شامل ہوئے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کے ہم نبیﷺ کی امت اور انسانوں میں سب سے قابل لقب پانے والی قوم “مسلمانوں” کو دشمنان اسلام کی چالوں سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں۔ پھر وہ فیس بک ہو ، ٹک ٹاک ، لائیکی ، یوٹیوب ، یا اس جیسی ہزاروں ایپس ۔۔ ایک تحقیق کے مطابق ان تمام ایپس کو مسلم قوم زیادہ استعمال کررہی ہیں۔اور اس میں سب سے زیادہ تعداد مسلم خواتین کی ہے، مسلم خواتین بن سنور کر ایسے ایسے برہنہ کپڑے پہن کر سامنے آتی ہیں کہ جسکا مذہب اسلام میں دور دور تک بھی شائبہ نہیں پایا جاتا، اور دشمنان اسلام یہی چاہتے ہیں کہ قوم مسلم کو ننگا اور برہنہ کیا جائے،۔ نبی مہرباںﷺ نے بہت پہلے ہی فرما دیا تھا کہ؎

” اعمال صالح میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہوجائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہونگے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا نیز اپنے دین و مذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا .(صحیح مسلم) ”

اور پھر دشمنان اسلام کی اول روز سے یہی کوشش رہی ہے کے مسلمانوں کو اپنے دین سے دور کردیا جائے۔ چونکہ میدان جنگ میں وہ مسلمانوں کو شکست دینے میں ناکام ہیں اور ظاہر ہے جو قوم موت سے نا ڈرتی ہو اور شہادت پر فخر کرتی ہو اسے شکست دینا ناممکن ہی ہے۔ جبھی دشمنان اسلام نے مختلف حربے آزمائے اور ہشیاری کے ساتھ تباہی و بربادی کے شائستہ نام رکھ دیے گئے۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے قیامت کی جو علامات بتائی تھیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوگیا تھا کہ لوگ بہت سے گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب مہذب اور شائستہ ناموں سے کریں گے ، شراب نوشی کریں گے، مگر نام بدل دیں گے ، سود خوری کریں گے اوراس کو نام کچھ اور دے دیں گے۔ غور کیا جائے تو یہ برائی کی سب سے بد ترین صورت ہوتی ہے ، کیوں کہ یہاں نفس کی غلامی کی راہ ہموار کی جاتی ہے، اسلام جس وقت دنیا میں آیا اس وقت بھی کم وبیش یہی حالت تھی ، اہل عرب اپنے کو دین ابراہیمی کا پیروکار کہتے تھے، لیکن پوری طرح شرک میں ملوث تھے۔ اسی طرح آج مسلمان بیہودگی میں لگے ہیں اور اسے روشن خیالی کا نام دے کر بدی کو نیکی میں بدلنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ برا بھی نا لگے اور اپنے نفس کو لگام بھی نا دینی پڑے۔ ضمیر کی مار سے بھی بچ جائیں اور تھوڑا ناچ گانا بھی کرلیں ۔جبکہ قرآن کریم میں جا بجا”فحاشی“ کی مذمت اوراسے شیطان کا عمل قرار دیا گیا ہے۔ الله تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ إن الله یأمرکم بالعدل والاحسان وإیتاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی…﴾ اس آیت کریمہ میں الله تعالیٰ تین چیزوں سے بچنے کا حکم دے رہے ہیں: بے حیائی سے، منکر یعنی ناجائز کام سے۔ سرکشی سے۔” فحشاء، ہر اُس برے اور بے حیائی کے کام کو کہا جاتا ہے جس کی برائی انتہائی درجہ کو پہنچی ہوئی ہو اور عقل وفہم اور فطرت سلیمہ کے نزدیک بالکل واضح ہو اورمنکر کا اطلاق اُس قول وفعل پر ہوتا ہے جس کے حرام اورناجائز ہونے پر اہل شرع کا اتفاق ہو۔

ایک اور جگہ ارشاد باری ہے ﴿الشیٰطن یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء﴾ یعنی شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے ۔ (البقرة:268) ایک او رجگہ ارشاد باری ہے :﴿ ومن یتبع خطوات الشیطان فانہ یأمر بالفحشاء والمنکر﴾․ یعنی جو شیطان کے پیچھے چلے تو شیطان تو ہمیشہ بے حیائی اور ناجائز کاموں کی تلقین کرے گا۔ ( النور:21)

گزشتہ چند عرصہ سے ملک خداداد پاکستان میں فحاشی اور بے حیائی کا سیلاب جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ، یہ ایک افسوس ناک اور خطرناک صورت حال ہے، جس کا سد باب ضروری ہے، ورنہ فحاشی اور بے حیائی کا یہ سیلاب پورے ملک کو لے ڈوبے گا۔ کسی غیر اسلامی معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کا ہونا کوئی نئی بات نہیں، مگر کسی اسلامی ملک میں خصوصاً وہ ملک، جو نظریہ اسلام کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو وہاں فحاشی اور بے حیائی کا ابھرنا ایک لمحہ فکریہ ہے!!
جنسی اشتعال انگیزی پر مشتمل حیا باختہ عورتوں کی تصاویر بھی اس قدر عام ہو گئی ہیں کہ گھریلو استعمال کی عام اشیاء کو بھی ان سے آلودہ کر دیا گیا ہے، اخبارات ورسائل کے سرورق پر فلمی اور ماڈلنگ کی دنیا کی نیم عریاں تصویروں کا چھپنا ایک عام معمول ہے ، جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی وہ ان ایپس سے پوری کردیں ، فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والے برقی آلات گھر گھر عام کر دیے گئے ہیں ، انٹرنیٹ اورموبائل کمپنیوں کے نت نئے پیکچز اوراسکیمیں اس وبا کو عام کرنے میں مؤثر کردار ادا کر ر ہی ہیں اور یہ برقی آلات جس قدر کم قیمت پر پاکستان میں میسر ہیں پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں ، یہ مغربی قوتوں کا ایک خاص منصوبہ ہے، جس کے تحت یہ سب کچھ بڑھایا جارہا ہے۔ آپﷺ نے قیامت کی نشانیوں کا زکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ “شرم و حیا بالکل ختم ہوجائے گی، بدکاری و زناکاری عام ہوجائے گی، ناچنے اور گانے والی عورتیں عام اور گانے بجانے کے سامان اور آلات موسیقی بھی عام ہوجائیں گے۔”

آج ہم دنیا کا جائزہ لیں تو اس حدیث کا ایک ایک جملہ مذکورہ ایپ پر صادق آتا دکھائی دیتا ہے، مسلمان والدین کے لیے غور کرنے کا مقام ہے کہ ہماری لڑکیاں کہاں برباد ہو رہی ہیں؟ ہمیں ان جیسے بے حیائی کو فروغ دینے والی کمپنیوں سے کوئی شکوہ نہیں اور نہ کوئی سروکار ۔۔۔ ہمیں تو شکوہ ہے ان والدین سے جو اپنی اولاد کو اس طرح کی کھلی آزادی دیکر ان کے ہاتھوں میں جہنم میں لے جانے والے آلات خرید کر تھما رہے ہیں، جن کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل اپنے مستقبل کی پرواہ کیے بغیر تباہ و برباد ہورہی ہیں، سوچنے کا مقام ہے کہ اس طرح کے اخلاق باختہ ویڈیوز کے پھیلاؤ کے بعد اس قوم کا اخلاقی مستقبل کیا ہوگا؟ کیا انکے والدین کو ان لڑکیوں کی شادی کے بعد لڑکی کی نافرمانی امور خانہ داری سے ناواقفیت، بےحیائ اور دینداری سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے طلاق دئیے جانے کی دھمکیاں نہیں ملیں گی ؟ کیونکہ ان ہی چیزوں کی وجہ سے طلاق وغیرہ کی شرحیں بڑھ رہی ہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کے ذمہ دار اور خواتین اپنی لڑکے و لڑکیوں کی ایکٹیویٹی پر نظر رکھیں اور ان جیسے اپلیکیشنز کے نقصانات سے انہیں باخبر کریں۔ اور ہر کوئی اپنی طاقت کے مطابق برائی کو ختم کرنے کے لیے کوششوں میں لگ جائے تاکہ یہ ہمارے لیے بھی صدقہ جاریہ بنے۔

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں