56

میں کا خول – یسری عرفان

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں سےنوازا ہے۔ انہی صلاحیتوں کی بدولت انسان نے پہلے ذرّہ (Atom) دریافت کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام کائنات کو تسخیر کرتا چلا گیا۔ آج انسان کی حکمرانی بحر وبر پر ہے اور دیگر مخلوقات بھی انسان کے تابع ہیں۔ بلاشبہ یہ انسان پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے مگر بعض اوقات انسان خود پستی کا انتخاب کرکے زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔

اپنی صلاحیتوں پر نازاں ہونے میں کوئی برائی نہیں لیکن اکثر انسان خوش فہمیوں، بدگمانیوں، تعریفوں، اعزازات اور شہرت کی ہوس کی صورت تہہ در تہہ ” میں کا خول ” اپنی ذات کے گرد چڑھاتا جاتا ہے۔ جس قدر یہ خول چڑھتا ہے اسی قدر انسان اس میں مقید ہوتا جاتا ہے اور پھر انسان میں سے دوسروں کے لئے مثبت جذبات اور سیکھنے کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔

سیکھنے کا جذبہ ختم ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ اب انسان کچھ نیا اور تعمیری نہ کر پائے گا بلکہ پہلے سے دریافت شدہ صلاحیتوں پر بھی گرہن لگ جائے گا، انسان میں حسد کا جذبہ جنم لے گا اور انسان تخریب کی طرف چلا جائے گا۔

” میں کا خول ” پہنا انسان معاشرے کے لئے تو کارآمد نہیں بلکہ یہ انسان کی اپنی ذات کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ ایسا انسان اپنے ذہن میں ہمہ وقت پنپنے والے حسد اور خود غرضی کے جذبے کی وجہ سے ذہنی آسودگی اور سکون کبھی حاصل نہیں کر پاتا۔ ایسے انسان اس عمارت کی طرح ہیں جو باہر سے توبہت عالیشان اور خوبصورت ہو مگر بنیاد مضبوط نہ ہو۔ اس خول نے ہمارے وجود کو تو بڑا کردیا ہے مگر ہماری ذات چھوٹی ہوگئی ہے۔

انسان کی ذات اس بیج کی مانند ہے جو مٹی تلے اندھیروں میں پڑا ہو، اس تک نہ پانی پہنچے نہ روشنی اور وہ صدیوں ایسے ہی بغیر پھوٹے، بغیر پھلے پھولے یوں ہی مٹی میں پڑا رہے یا ضائع ہوجائے لیکن اس بیج کو پھلنے پھولنے کو موقع اور مناسب ماحول مل جائے تویہ بیج توانا درخت بن کر ہر ایک کو بلا امتیاز سایہ اور پھل فراہم کرے، سب کی راحت کا سامان کرے۔

انسان جب تک اس خول کونہ توڑ دے تب تک وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ انسان کی کامیابی اس خول کے باہر ہے، جہاں وہ اپنا وجود اپنی پہچان قائم کر سکے ۔اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ بے کار بیج بن کر زندگی گزارے یا مفید و کارآمد درخت بننے کو ترجیح دے.

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں