41

ناچ میری قوم – طاہرہ فاروقی

”بھٸ پھرآپ ایساکریں ٹی وی دیکھنا چھوڑدیں!!!!“ رملہ نے چڑکر کہا
”پھریہ ہے کس لیے؟“ نور نے تیوری چڑھا کر کہا
”یا تو پھر جوبھی آئے دیکھتی رہیں اورمخالفت ناکریں۔۔۔“ رملہ لاپرواٸ سےبولی
” اگر ایسے پروگرام پیش کیےجاٸیں جو دیکھنےکے قابل ہوں تو کیوں مخالفت کی جاٸیگی ؟“ نور کا استدلال تھا
”اب اکیلے آپ کےلیےتوپروگرام بننے سےرہے۔۔۔۔“ رملہ نےاسکی اوقات جتاٸ
”اکیلی میں کیوں ہوٸ جس سے بات ہوتی ہےسب ہی کوفت کھا رہے ہوتے ہیں کل ہی جب پڑوس کی شادی میں گۓ تھے وہاں شادی کی رسموں کی غیرضروری طوالت لڑکیوں کی بےحیاٸ اورمہمانوں کی بوریت کاذکر نکل آیا تو سب عورتیں بیزار تھیں کہ سب نحوست میڈیا چینلز کی ہے ۔نت نٸ جدتیں گھَڑگھَڑ کہ لاتے ہیں اور لوگ نٸ ایکٹیوٹی کے پیچھے دوڑنے لگتےہیں۔۔۔ اب کسی کے پاس توکماٸ کا کھلاکھاتہ ہے وہ تواپنی دولت کی شو آف کرنے کا موقع پالیتا ہے ، اور جسکی محدود آمدنی ہے اسکے بچےضد کرتے ہیں کہ ہم بھی خوشی مناٸینگے۔ اب خوشی کاپیمانہ صرف ڈانس ہی رہ گیا ہے۔۔۔بس ۔۔ناچو۔۔ناچو۔۔اور۔ناچو انڈین فلموں کی دیکھادیکھی یہاں بھی ابا اماں دادا دادی سب ہی ناچنےلگےہیں اور جوان لڑکے لڑکیوں کوتو بس اب صبر ہی کرلو۔“ نور روہانسی ہوچلی تھی
”ہاں اپنے بچے کنٹرول نہیں ہوتے تو قصور ٹی وی کا۔۔۔!!! “ رملہ نور کی بےعزتی نہیں چاہتی تھی مگر وہ سمجھتی تھی کہ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے والی عورتیں دوسروں کے سرالزام دیتی ہونگی۔
”بھٸ ظاہر ہے اورکیایہ ناچ گانا ہم نے سکھایاہےکیا؟ ہماری دس پشتوں میں کوٸ نہ ناچا۔۔۔اب سارادن علاوہ ناچ اور گانےکے کوٸ چیزہی نہیں دکھانےکی، دوسرےملکوں میں معلوماتی پروگرام بھی ہوتے ہیں ، تعلیمی پروگرام بھی ہوتےہیں خبریں ہوتی ہیں تو ان میں خبریت ہوتی ہے یہاں تو خبر نامہ بھی ان ہی بے ہودگیوں سےبھراہوتا ہے۔یہ ہروقت کاناچ گانابےحیاٸ
قوم کوکہاں لے جاۓ گی مجھے تو لگتاہے اس قوم کو اجتماٸ خودکشی کے راستے پر ڈال دیا گیاہے۔۔۔ لڑکیوں کابس نہیں چلتا کہ جسم کا ہرہر رواں کھول دیں اب لڑکوں کے لباس بھی کم ہونےلگے ہیں پہلے سینہ کھلا پھر بازو پھر ٹانگیں بھی کھلنے لگی ہیں ان مختصر لباسوں میں جوان لڑکے لڑکیاں بے ہنگم مخلوط حیاسوز رقص کرینگے اور اب تو باقاٸدہ شراب نوشی کی پروموشن کی جارھی ہے۔۔۔ دل خون کے آنسو روتاہے کہ یہ تو برباد ہونے والی قوموں کے طریقے ہیں۔۔!!!
انڈونیشیا میں یہی کچھ ہورہا تھاجب سونامی آگیا تھا۔۔۔ امریکہ کی جس ریاست میں سیلاب آیاتھا وہ ہم جنسی اور خودلذتی کےلیے بدنام تھی۔۔۔
ابھی پچھلے دنوں ہی کسی ناٸٹ کلب میں کیساعذاب آیا ہے۔ کیلیفورنیا کی آگ، برما کی آتش بازی میں آتش زدگی کوٸ ایک دو ہوں توگناوں بھی مجھے ھروقت خوف آتاہےکہ ہمیں میڈیاکے ذریعے اللہ کے عذاب کے سپرد کیاجارہاہے اور ہماری خود سپردگی پر افسوس ہے اور حیرت بھی۔۔۔۔!!!

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں