120

نفس کا تزکیہ – عالیہ ایمن

مفہوم ہے کہ : “انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جسکی وہ آرزو کرتا ہے اور اللہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا ہم گمان کرتے ہیں۔”
پورے سال میں اللہ تعالی ہمیں ایک ایسا مہینہ دیتے ہیں جو ہمارے لیے ذہنی، جسمانی، باطنی اور ظاہری طور پر ایک ٹرننگ پوائنٹ لیکر آتا ہے۔ یعنی ‘ تزکیہ’ کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہمیں ہمارا آپ جھنجھوڑنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم خود احتسابی کے عمل سے گزر سکیں۔
جیسے ہی رمضان کا آغاز ہوتا ہے ذہن میں خود بہ خود وقت کی ترتیب بننے لگتی ہے اور ہم اسی تسلسل سے روز و شب گزارنے لگتے ہیں اور 30 دن پلک جھپکتے آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ یہاں توجہ طلب بات یہ ہے کہ ان 30 دنوں میں ہم اپنی ذات کا تزکیہ کس حد تک کرتے ہیں؟ ہماری روٹین میں ہماری اپنی ذات کی اصلاح کہاں تک شامل ہوتی ہے؟ کیا ہم اپنی ذات کو باقی ماندہ سال سے کچھ الگ کر پاتے ہیں؟
روزے کی حالت میں خدا سے قریب انسان یوں بھی ہوتا ہے اور بندگی کے تمام رموز کو پورا کرنے کی سعی جاری رہتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی برکتوں والے اس مہینے کی شبوں کو سنوارنے کا بھی کوئی سلسلہ ضرور بنائیں اور یہ سلسلہ صرف اور صرف ” آپ ” کے لیے ہونا چاہیے۔
ایک مخصوص وقت کا تعین کریں جس میں آپ کا ذہن دنیا کے تمام پراگندہ ترغیبات، معمولات اور سوچوں سے پاک ہو۔ پھر خود کا موازنہ کیجیئے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں؟ اپنی عبادتوں میں، اذکار میں، عمل میں اور کچھ حاصل کرنے کی طلب میں۔۔
اپنا موازنہ کریں کہ اس بار کا رمضان آپکے ہاتھوں میں کوئی مشعل راہ تھما رہا ہے؟ کیا اس بابرکت مہینے سے پورا سال اپنی ذات کو دوسروں کے لیے بابرکت کس طرح بنایا جاسکتا ہے، یہ سیکھ ملتی ہے؟ اگر اس مہینے کی ہر رات کے کچھ لمحوں میں آپ یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ اپنی ذات کو سب کے لیے اور بالخصوص اپنے لیے مفید و تعمیراتی کیسے بنایا جائے تو یقین جانیے آپ کا سارا سال رمضان بن جائے گا اور آپ پورا سال ہی رمضان کی لذتیں محسوس کرتے رہیں گے۔
تزکیہ کا طریقہ کار مکمل طور پر آپ پر منحصر ہے کہ خدا کسے کس رمز سے نور بصیرت عطا کردے ہم نہیں جان سکتے۔ وہ پھر اللہ تعالی کی کتاب ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، اصحاب کی پیروی یا کوئی کتاب جو آپکے ذہن کے بند چوباروں میں روشنی ڈال دے اور آپکو بندگی کا حسن سیکھادے اور حقوق العباد برتنے کا سلیقہ۔
“لیکن یہ تزکیہ صرف خلوت میں ممکن ہے کیونکہ خلوت کی رجعت رب تعالی کو بیحد مقرب ہے۔”

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں