51

کھول آنکھ زمیں دیکھ – وجیح بن ناصر محمود

جب سے یہ دنیا بنی ہے ہزاروں انسان اس دنیا میں آئے، اپنی پہچان کے لئے مختلف قبیلوں، کنبوں اور اقوام
کا سہارا لیا، پھر یہ انسانی شاہراہ حیات کو صحیح راستے پر گامزن کرنے اور زندگی
کو پھولوں کی رعنائی عطا کرنے کی خاطر مختلف طریقوں پر عمل کرتے رہے، کبھی اپنی
عقل کے گھوڑوں سے زندگی کے چمن کو سیراب کرنے کے لئے دولت و عزت کے چشموں کا سامان
کرتے تو کبھی بھٹک کر اندھیر نگریوں میں گم ہو جاتے۔ لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اگر آج
تلک حضرتِ انسان کو زندگی میں پھولوں کی سیج سے آشنا ہونے کا موقع قدرت کی طرف سے
عطا ہوا ہے تو صرف ربِ کعبہ کے بھیجے گئے پیغمبروں اور انبیاء کرام کی بدولت عطا
ہوا ورنہ انسان ہر دور میں ظلم و استبداد کے علمبرداروں کے سامنے بے کس و بے بس ہو
کر فریادی بنا رہا۔ لیکن صرف اہلِ ایمان ہی آج تلک اُسے ظلم  کی چٹانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ عطا کرتے رہے۔

یہی
وجہ ہےکہ جب عرب کے ملاحوں کی کشتی ظلم،بربریت،وحشت زنا،چوری اور استبدادکے
طوفانوں میں اپنا راستہ بھول چکی تھی تو قدر ت نے ایک بار پھر کشتی کے بادبان کا
انتظام کردیا اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو تعمیرانسانیت اور طوفانوں کا رخ موڑنے کے
لیےمنتخب فرمالیاپھر تاریخ نے دیکھا کہ ایک 
پیغمبر کی پکار پر جمع ہونیوالےکبھی بدر کے میدان میں دشمن کے داںت کھٹے
کرتے تو کبھی احد کی پہاڑیوں پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑدیتے ،کبھی خندق کے اور
بھوکے شیروں کی طرح بڑے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کرتے تو کبھی حنین کی وادیوں کو
اپنے خون سے سیراب کرتے۔

اے قوم! تو جانتی ہےکہ یہ داستاں جن مجاہدوں کے خون نے تحریر کی ہے انہیں کس
نے اپنی عظمت و سربلندی کا اعتر اف کروانے پر مجبور کردیا تھا؟ کس چیز نے انہیں
تعدادمیں مٹھی بھر ہونے کے باوجودظلم و جبر کے طوفانون سے ٹکرانےکی ہمت عطا کردی
تھی؟

اے قوم! تو نہیں جانتی کیوں کہ آج تیری رگوں میں تیرے اسلاف کا خون دوڑتا ہے
مگر وہ جذبہ وہ حوصلہ، وہ ایمان کہ جس نے ایران و روم کی سلطنتوں کو اپنے سامنے سر
نِگوں ہونے پر مجبور کردیاتھا! تو آج اُس ایمان سے ناآشنا ہے، اُس ہمت و جرّت سے
بیزار ہوچکی ہے کہ جس نے 60000 کے مقابلے میں خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصرف
60  مجاہدین کے ساتھ لڑنے کا جگر عطا کردیا
تھا۔

اے قوم! تجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تو مسلمان ہے مگر کاش تو اپنی تاریخ
کو بھی اچھی طرح پہچانتی، تیرے بیٹوں کو آج ابراہام لنکن، نپولین بوناپارٹ اور
شیکسپیئراور ان جیسے اور مشہور انسانوں کے قصے پڑھائے جاتے ہیں مگر اُنھیں اسلاف
کے کارنامے یاد نہیں دلائے جاتے جو کبھی علم وعمل اورکبھی جنگ کے میدان میں اپنے
جوہر دکھایا کرتے تھے۔ تجھے اس بات پر ملال ہے کہ آج تو دنیا کی آبادی کے لحاظ سے
دوسری بڑی قوم ہے مگر ذلّت و رسوائی کے لحظ سے شاید پہلے نمبر پر ہے۔

اگر اجازت ہو تو اس حقیقت پر سے پردہ اُٹھادوں کہ جس نے آسمان کی بلندیوں سے
اُٹھا کر تجھے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک دیا۔تو اگر اپنے زوال کی وجوہات
سننا چاہتی ہے تو ذرا اپنی اسلاف کی داستان پر بھی نظر رکھ۔

عرب کے صحراؤں میں نغمہ توحید بلند ہونے کے بعد کسی کو یہ شک بھی نہ تھا کہ
اہلِ ایمان کو حکمرانی کا سورج ورب کے ریتیلے پہاڑوں پر طلوع ہو چکا ہےاور وقت نے
ثابت کردکھایا کہ تاریخ دانوں کا شک! ایک شک نہیں بلکہ یقین تھا اور پھر واقعی یہ
اہلِ ایمان ہزاروں برس سے دنیا میں پھیلے ہو ئے جبرواستبداد اور جہالت کے سیلاب کو
روکنے کے لئے عرب کی سر زمین سے آگے قیصر کسریٰ کے شاندار محلات نے ان کا استقبال
کیا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا کہ آخرکار آدھی دنیا پر مسلمان اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑنے
میں کامیاب ہوگئے۔

اے قوم! سمندر کی موجوں کو بھی سکون آجایا کرتا ہے۔ مسلمان بھی کچھ عرصے سو ئے
لیکن پھر آخر کار سندھ کی کشتیوں میں قیدی بنا کر لے جا ئے جانے والی لڑکی کی
پکارسرزمین حجازکے غیرتمند بیٹے محمد بن قاسم کے کانوں میں جا پہںچی اور وہ اپنی
مظلوم بہن کی دادرسی کرنے نکل کھڑا ہوا اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ اہل ایمان
نے  سندھ کے دروازوں پر دستک دی اورسندھ کو
ایشیاکے باب الاسلامک کا درجہ عطاکردیا۔

کچھ وقت پھر گزرااورایک طارق بن زیاد اسپین کے ساحلوں پر اسلام کی تلواریں
لیےکفر کا سر اڑا نیکی خواہش میں جاپہنچا۔ اس شیر خدا نے خداپر بھروسہ کیااور
کشتیاں جلا ڈالیں اسکے ساتھ ہی اسپین اور یورپ کی گلیاں اسلام کی روشنی سے منور
ھوگئیں۔

اے قوم! تاریخ میں کئی نام ہیں کہ جنہوں نے ذلت کے بجاےعزت کا راستہ نتخب کیا
اورعزت کی زندگی صرف اپنے رب سے وفادار رہنےوالوں کی مقدر میں لکھی تھی اور کئی
بار اس زندگی کے لےسرفروشوں کو موت کے دروازے پر دستک دینا پڑی۔

تجھے شکایت ہے کہ قدرت نے تیرے اندر کوئی آئن سٹاین،نیوٹن ،کوئی اڈیسن پیدا
نہیں کیا جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیری کامیابی کے پرچم بلند کرتا۔
مگر تیری یہ شکایت غلط ہے، ذرا تاریخ کی ورق گردانی کر کے دیکھ لے کہ سائنس کا
درسب سے پہلے مسلمان ہی تھے لیکن

اے قوم! قدرت اُس کشتی کو بادبان نہیں عطا کرتی جو خود ڈوبنے پر مُصر ہو، اُس
سفینے کو ساحل سے کوئی نہیں لگا سکتا جو خودکشی کا ارادہ کر چکا ہے تو نے خود اپنے
ہاتھوں سے اپنا گلا گھونٹا ہے، تو نے خود اپنی آزادی اور سر بلندی کے پر چم کو سرِ
نگوں کیا ہے۔ جب تک تیری محفلوں میں قرآن کا سرور تھا آسمان تیری عظمت کے گیت گاتا
رہا، جب تک تیرے سینوں میں شہادت کی تمنا تھی، دنیا تیری شجاعت و بہادری کی
داددیتی رہی مگر جب تیری رگوں کے اندر وہ خشک ہوگیا جس نے قیصروکسریٰ کے درودیوار
ہلا کر رکھ دئیے تھے تو تیری آزادی بھی چھن گئی۔ جب تیرے بیٹوں نے میر صادق، میر
جعفر اور ابوداؤد بن کر ٹیپو سلطان، محمدبن قاسم اور موسیٰ بن ابی غسّام جیسے شیر
دل رہنماؤں سے غدّاری کی تو پھر تیری ماؤں نے ایسے رہنما پیدا کرنا بند کرد ئیے۔

اے قوم! تیرا زوال قانونِ فطرت کے عین مطابق تھا کہ جو قوم اس دنیا کو بنانے
کے کام زیادہ کرتی ہے اور بگاڑنے کے کام کم کرتی ہے تو وہ قیادت کی اہل سمجھی جاتی
ہے اور جب وہی قوم زیادہ بگاڑنے لگتی ہے تو قدرت کو اسکی جگہ دوسری قوم کو لانے
میں دیر نہیں لگتی۔ تو وہ دہری مجرم ہے! تیرا پہلا جرم یہ ہے کہ تو نے اپنے اسلاف
کی روایت قرآنِ کریم کی حکایت اور اسلام کی حمایت سے منہ پھیر لیا اور دوسرا جرم
یہ ہے کہ غیروں کے نظاموں، غیروں کی حاکمیت اور غیروں کی غلامی کے آگے گھٹنے ٹیک د
یے۔ یہ دو جرم تجھے عظمت و سربلندی کے مناروں سے اُتار کر ذلّت و پستی کی گہرائیوں
میں پھینکنے کے لئے کافی تھے۔

اے قوم! یاد رکھنا کہ یہ دنیا صرف ایک خدا ئے واحد کی ہے اور تیرا اس پر ایمان
ہے۔ اس کے باوجود اگر تو اپنے رب کے احکامات سے صرفِ نظر کرتی رہے گی، غیروں کی
غلامی کرتی رہے گی اور غیروں کے طریقوں پر چلتی رہے گی تو پھر تیرا سفینہ رسوائی
کے سمندر میں ڈوبا رہےگا جب تک تو مغرب کے طرزِ زندگی کے مطابق اپنی راہِ متعین
کرتی رہے گی تو بھٹکنے کے سوا کچھ اور حاصل نہ کر سکے گی۔

کاش تو اپنے دشمن کو پہچان سکتی کہ جس نے آج تیری تباہی اور بربادی کا سامان
اپنے ہاتھوں سے کیا ہے۔ ایک ایسا دشمن کہ جس نے محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد
جیسے با غیرت مسلمانوں کے بیٹوں کے اخلاق اس حد تک تباہ کرد ئیے کہ زندوں کی عزت و
عصمت تو درکنار، قبر میں سونے والی حوّا کی بیٹیوں کے کفن بھی وحشت وبربریت کے
طوفان میں تارتار ہورہے ہیں۔ ایک ایسا دشمن جس نے تجھے دین سے ہٹا کر ان دنیا دار
لوگوں کی صف میں لاکھڑا کر دیا جو عزت و دولت کے لئے اپنی ماں تک کو بیچنے سے دریغ
نہیں کرتے۔

یہ دشمن کوئی اور نہیں تیرے اپنے وہ حکمران ہیں جو دن کی روشنی میں تو تیری
خدمت کا دم بھڑتے ہیں اور رات کو تاریکی میں تیری بیٹیوں کی عصمت اور تیرے بھوک سے
بلکتے ہو ئے بچوں کی جانوں کا سودا کرتے ہیں۔ یہی غدرانِ وطن کبھی میر صادق بن کر
تو کبھی میر جعفر بن کر عوام کو لوریاں دیا کرتے تھے کہ دشمن بڑا رحم دل ہے وہ
ہمیں فتح کے بعد کچھ نہیں کہے گا لیکن تاریخ نے دیکھا کہ محصور کی سر زمین ان
لاکھوں لڑکیوں، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے خون سے لالہ زار ہوگئی کہ جن کو درندہ
صفت بھیڑیوں نے کمزور شکار سمجھ کر مار گرایا تھا۔

اے قوم! یہ غدار دشمن سے زیادہ خطرناک ہوا کرتے ہیں اور آج یہ تیرے دشمن کے
اشارے پر تجھے تیری مظلومیت وکمزوری کا واسطہ دے کر ان دشمنوں کی پیٹھ ٹھونک رہے
ہیں۔ وقت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ایسے غداروں کے سر قلم کر دئیے جائیں لیکن ترجیحات
کچھ اور بھی ہیں۔ برسوں کی تاریخ یہ سبق دے چکی ہیں کہ جہاں جنگل کا قانون ہوتا ہے
وہاں فقط شیر کی گر ج سنی جاتی ہے، بھیڑوں اور بکریوں کی صدا پر کوئی کان نہیں
دھرتا۔

فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے شیر بن کر زندہ رہنا ہے یا بکریوں کی طرح کہ جسکے ریوڑ
کو ہانکنے کے لئے کمزور ترین حاکم منتخب کیا جاتا ہے اگر شیر کی طرح جینا ہے تو
تجھے سب سے پہلے اپنے جذبے ایمانی کو بیدار کرنا ہوگا، ایمانی قدروں کو زندہ کرنا
ہوگا، اخلاق درست کرنا ہونگے، مغرب کی تہذیب سے چھٹکاڑا حاصل کرنا ہوگا جو مردوں
کو تو لباس عطا کرتی ہے لیکن حوّا کی بیٹیوں کو برہنہ ہونے کا حکم دیتی ہے۔ ماناکہ
آج وقت بدل چکا ہے کہ دنیا صرف اُسے اہلِ قیادت گردانتی ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی
میں سب سے آگے ہو یاد رکھنا کہ اگر رب سے غافل ہوکر دنیا کے سامان کے حصول کے لئے
اسی کشتی میں اپنا سفر جاری رکھا تو ایک دن تباہی و بربادی کی چٹانوں سے ٹکراکر
پاش پاش ہو جاؤگے پہلے اپنے اندر خوفِ کو بیدار کرو جذبِ ایمانی کو متحرک کرو کہ
جو ایک مسلمان کے خون میں دوڑتا ہے تو روم و ایران کے سروں پر اسلام کا پرچم
لہرادیا کرتا ہے اخلاق کو درست کرو کیونکہ آج اصل جنگ اخلاق کی ہے۔ دشمن نے تجھے
فحاشی و عریانی کے دلدل میں پھنسا رکھا ہے۔ اُسے یقین ہے کہ جب تک اس قوم کے
نوجوان سُریلے گانوں اور فحش فلموں کے متلاشی رہیں گے وہ اپنا کام آسانی سے کرتا
رہے گا۔ لہٰذا اپنے اخلاق کو درست کرو۔ پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں جوہر
دکھانابائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اگر دشمن پھر بھی منہ نہ پھیرے تو یاد رکھنا!

  “بھیڑیا صرف شیر کے فولادی پنجے
کا احترام کیا کرتا ہے، بھیڑوں اور بکریوں کی دلیل پر کان نہیں دھرتا”

خدا تمھارا حامی و ناصر ہو(آمین)!

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں