84

کیمرے کی آنکھ کا دور – ملک جہانگیر اقبال

مغربی ممالک کے شہری اسلئے بھی “زیادہ بڑے”انسان دوست و رحم دل ہیں کہ انکی انسانیت پرستی کی مثالیں ہر جگہ کیمرے میں ریکارڈ ہو کر دھڑا دھڑ سوشل میڈیا پر پھیلی پڑی ہوتی ہیں . ابھی ایسی ہی اک ویڈیو دیکھی جہاں 70, 80 سالہ بزرگ شخص رستوران کی لائن میں کھڑا ہوتا ہے ۔ جب آرڈر دینے کے بعد پیسے دینے کی باری آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب پیسے گھر بھول آئے ہیں جس پر ساتھ کھڑا شخص پیسے دے دیتا ہے . مزے کی بات یہ کہ شروع سے آخر تک اک بندہ یہ سب کچھ ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے .
اب تک اس ویڈیو کو سوا کروڑ لوگ صرف اک پیج پر دیکھ چکے . اگر کم سے کم بھی اندازہ لگایا جائے تو 4 سے 5 کروڑ لوگ مختلف پلیٹ فارمز پر اسے دیکھ چکے ہونگے اور سب خی توصیفی کلمات سے بھی نواز رہے ہیں . یقیناً یہ ایک احسن عمل تھا پر مجھے یہ سب دیکھ کر کچھ خاص محسوس نہیں ہوا . یہ تو پاکستان میں اک نارمل بات ہے . اول تو ہم 70 , 80 سالہ بزرگ کو لائن میں کھڑے ہی نہیں ہونے دیتے اور ستر 80 سالہ بزرگ تو دور کی بات اگر عام جوان شخص بھی پیسے بھول جائے یا کم ہوں تو آس پاس کھڑا ہر دوسرا شخص پیسے دینے کیلئے بٹوہ نکال لیتا ہے .
کراچی کے بڑے ریستوران وغیرہ میں سے اکثریت میں ایسے ہیں جو شام کو کاروبار شروع کرنے سے قبل 20 , 30 ضرورتمند افراد میں روٹی سالن تقسیم کرتے ہیں .
کچھ عرصہ قبل ہمارے گھر میں موجود ناریل کے درخت میں کوا کسی پتنگ کے مانجھے سے الجھ گیا جسے ہم نے پڑوسی کی مدد سے دو گھنٹے کی محنت کے بعد آزاد کیا . اس دوران اک بار دیوار سے سلپ ہونے کیوجہ سے پڑوسی کا بازو بھی چھل گیا پر بالآخر کوے کو آزاد کروالیا ورنہ وہ وہیں مر جاتا . پر ہم نے اس سب کی ریکارڈنگ نہیں کی کہ یہ سب تو عام باتیں ہیں .
کچھ سال قبل میرا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا تو جب تک میں ہوش میں تھا یہی دیکھا کہ دو پولیس والے کتنی احتیاط سے مجھے اٹھا کر لیکر جارہے تھے جن میں سے اک روتے ہوئے درود شریف پڑھ کر مجھ پر پھونکتا جارہا تھا . جب ہوش آیا تو اسپتال کے بستر پر تھا . بعد میں معلوم ہوا کہ گھر والوں کو معلوم ہونے تک تین گھنٹے گزرچکے تھے تب تک خون سے لیکر انجیکشنز تک وہ خود خرید کر لاتے رہے .
ایسے انسانیت بھرے ہزاروں لاکھوں واقعات ہیں جو پاکستان کے ہر شہر میں روز وقوع پذیر ہوتے ہیں جو کوئی کیمرہ لیکر ریکارڈ نہیں کرتا کہ یہ معمولی کام ہیں جو محض اللہ کی خوشنودی کیلئے کئے جاتے ہیں .
پر افسوس تب ہوتا ہے جب کسی انگریز کا بطخ کے بچوں کو بچانا تو ہمیں یاد رہتا ہے پر یہ بھول جاتے ہیں اک نصراللہ شجیع نامی استاد بھی تھا جو اپنے ڈوبتے شاگردوں کو بچانے کی خاطر دریا کی موجوں میں خود کو قربان کر بیٹھا . ہمیں گاڑی کے بونٹ سے چیل کو باحفاظت نکالنے والا گورا تو بطور ہیرو یاد ہے پر گجرات کی وہ استانی سامعہ نورین بھول گئی جس نے آگ میں جلتی وین سے اپنے شاگردوں کو تو نکال لیا پر بدلے میں خود آگ کی بے رحم لپٹوں میں قربان ہوگئی .
کیا کیجئے جناب کہ یہ دور کیمرے کی آنکھ کا دور ہے ۔ جسے وہ ہیرو دکھائے فقط وہی انسانیت پرست ہیرو ہے . پر ہمارا دین اسلام ایسے عمل کو پسند ہی نہیں کرتا جس کی اس طرح تشہیر کیجائے . مغربی ممالک کے شہریوں کی انسانیت پسندی سر آنکھوں پہ ۔ پر جناب بلاوجہ کسی خبط میں مبتلا ہوکر اپنی قوم کو لتاڑنا محض آپکی احساس کمتری ہے اور کچھ بھی نہیں وگرنہ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو ایسی بہت سی مثالیں اپنے اردگرد روز ہی نظر آجانی ہیں !!

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں