117

گراوٹ کا شکار ہم یا روپیہ؟ – عثمان ملک

‘نیچے جاکر دیکھو کیا ہوا ہے۔’ یہ وہ الفاظ تھے جن سے میری 6 فروری کی صبح ہوئی تھی۔ نعمان بھائی کی طبیعیت کافی عرصے سے خراب تھی، وہ نیچے چاچو کے گھر ہی رہ رہا تھا۔ نیچے گیا تو منظر پلٹا ہوا تھا۔ چاچی رو رہی تھیں اور والدہ صدمے میں تھیں۔ میری عمر اس وقت قریب 8 سال تھی تو مجھے کچھ زیادہ سمجھ نہیں آیا سوائے اس کے کہ نعمان بھائی اس دنیا فانی سے کوچ کرچکا ہے۔ نعمان بھائی کی سانسوں کی تسبیح کا آخری دانہ جب پھسلا اس وقت ہر طرف سے فجر کی آذان کی آواز آرہی تھی۔ کچھ ہی لمحوں میں رشتہ دار اور محلہ دار گھر پر جمع ہونا شروع ہوئے، تعزیت کا سلسلہ جاری رہا اور نعمان بھائی کو بوجھل قدموں اور ٹوٹے کندھوں کے ساتھ لحد میں اتار گیا تھا۔ اس وقت نعمان بھائی کی عمر 15 سال تھی۔
کچھ عرصے بعد ایک محفل میں بیٹھے ہوئے سماعتوں کو چیرتا ہوا ایک جملہ دل پر لگا، ‘انہوں نے کچھ غط کیا ہوگا اس لئے ان کے ساتھ ایسا ہوا۔’ کہنے والے کا کچھ نہیں جاتا، سہنے والا کمال کرتا ہے۔ پتا نہیں کیوں اور کیسے والد صاحب اس پر ضبط کا گھونٹ پی گئے۔ لیکن اس دن اندازہ ہوا کہ ہم اخلاقی طور پر کس حد تک اپنی بنیادوں کو کمزور کرچکے ہیں۔ ہم کس حد تک خود کو اپنے ہی ضمیر کی قبر میں دفن کرچکے ہیں کہ اپنی ذاتی عناد کی آگ میں سامنے والے کے دل کو چیرنے میں ایک وقت نہیں لگاتے۔ کیاہماری نمازیں، کیا ہمارے سجدے، کیا ہمارے روزے ہمیں بخشوا پائینگے؟ کیا ہمارے چہرے کی داڑھی پر شافع محشرؑ ہاتھ پھیرینگے یا فرشتے اسی داڑھی کو پکڑ کر جہنم واصل کرینگے؟ یہی وہ لوگ نہیں ہونگے جن کی نمازیں ان کے منہ پر دے ماری جائینگی؟ کیا یہ لفظوں کے تیر برسانے والے اپنی زبانوں پر سیسہ برداشت کرنے کو تیار ہیں؟ کیا لوگوں کے جگر کاٹنے والے پلِ صراط سے کٹ کر گرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم، جو خود کو مشرق میں رہنے کی وجہ سے عظیم اخلاقی برتری کا کاسہ پہناتے ہیں، اپنی اخلاق کے جنازے کو اپنے گلے کا طوق پہنا سکتے ہیں؟ یہ خیال، یہ تمام خیال اس وقت جنم لئے جب کل جناب سید قمرالزمان کائرہ صاحب کے صاحبزادے کے انتقال کی خبر آئی اور سوشل میڈیا پر الحمداللہ اس قوم کے پڑھے لکھے طبقے نے جہالت کے نشتر چلائے۔ اس کی موت کو مکافاتِ عمل قرار دیا۔ قمرالزمان کائرہ کے بوجھل قدموں میں مجھے اپنے والد کے لرزتے قدم دکھائی دئے تھے۔ میں سوچ رہا تھا یہ قوم جو اپنے اخلاق، اقدار، مذہب، تہذیب، ثقافت اور انسانی جذبے کی پستیوں پر ہے اسے بھلا روپیہ کی پستی کیوں ستا رہی ہے؟ اگر اقدار بلند ہوں تو پھر ایرانی ریال کے مقابلے میں ڈالر 42000 روپے کا ہی کیوں نہ ہو، مخالف کو آنکھیں دکھانے کا اہل ہوتا ہے۔ اخلاق کی کشتی درست سمت میں ہو تو سوڈان جیسا غریب ملک بھی کروڑوں کی امداد منہ پر مار کر اپنے ضمیر پر سودا کئے بغیر جمہوری نظام کی بحالی کا طمانچہ آمرانہ سوچ کے رخسار کی زینت بنا دیتی ہے۔
تو پھر یہ 150 کا ڈالر ہمیں کیوں پریشان کر رہا ہے؟ جب کہ ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت تو ان چیزوں کے لئے جو میں نے اوپر درج کی ہیں۔ خدارا کسی کی موت کو اپنی ذاتی رنجش کا حوالہ نہ بنائے ورنہ اولاد سب کی ہے اور لاٹھی صرف خدا کی ہے۔
’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ‘‘

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں