76

ہم اور ہمارے تبصرے(حصہ اول) – ایمن طارق

یہ بھی آپ کا ہی بیٹا ہے لگتا نہیں ؟ کس پر چلا گیا ؟
*یہ آپ کی بیٹی کے بال بہت ہلکے ہیں تیل نہیں لگاتیں ؟
*بیٹا آپ دودھ پیا کرو بہت ہی چھوٹے سے لگتے ہو قد نہیں نکالا زرا بھی ۔۔
*یہ آپ نے بچی کے دانت ڈاکٹر سے چیک کراۓ بہت ہی ٹیڑھے ہیں ۔۔۔
*آپ کے بڑے والے کا وزن کافی زیادہ ہوگیا ہے اس کو زرا میٹھی چیزیں کم دیا کریں اور ایکسرسائز کروائیں ۔۔
*ارے بھئ اتنا دبلا تیلی جیسا ہے کیا کچھ کھلاتے پلاتے نہیں ہو اس کو ۔۔

یہ اور ایسے بہت سے جملے بہت سے ماں باپ دن رات سنتے ہیں ۔ اور کوفت اور بدمزگی کا شکار ہوکر دل ہی دل میں کُڑھ کر رہ جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم نے جب بھی مشاہدہ کیا یہ باتیں اور تبصرے جن بچوں کے بارے میں کیے جارہے ہوتے ہیں وہ بچے بھی سامنے ہی ہوتے ہیں . یعنی مجموعی طور پر ہم تبصرے کرنے کی عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی معصوم بچے یا بچی کا دل توڑنے کے احساس سے بالکل ہی لاعلم ہوتے ہیں ۔

عموماً زیادہ تر ماں باپ اپنے بچوں کے لیے حساس ہی ہوتے ہیں ۔ ہاں ماں باپ کی ایک قسم وہ بھی ہے جو اپنے ہی بچوں کی ایک دوسرے کے سامنے تذلیل کرتے رہتے ہیں یا یہ کہیے کہ ایک کو زیادہ چڑھاتے اور دوسرے کو احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں لیکن آج موضوع گفتگو وہ ماں باپ نہیں ۔۔حساس اورسمجھدار ماں باپ اپنے ایک کمزور یا کم خوبصورت یا کم تعلیم یافتہ یا نسبتا کم اعتماد والے بچے کو زیادہ چاہتے ہیں ، اس کو زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ اُس کی کمی یا کمزوری یا خامی کو ہائ لائیٹ نہیں کرتے تاکہ اُن کا بچہ خود کو کسی طرح کمتر محسوس نہ کرے لیکن انہی ماں باپ کا سخت امتحان جب ہوتا ہے جب وہ دوسروں سے اپنے بچے کے لیے اس قسم کی تبصرے سنیں اور ایک دم اپنے بچے برسوں کی محنت سے تعمیر شدہ پر اعتماد شخصیت کو ٹوٹتا دیکھیں یا کسی کے تبصرے پر اُس کے چہرے کو تاریک پڑتا دیکھیں ۔

مختلف کلچر اور خصوصا گوروں کے ساتھ رہ کر ایک بات کا مشاہدہ کیا کہ وہ دل میں کتنا تعصب رکھیں اور آپ کو خود کے برابر نہ سمجھیں لیکن عموماً اپنے تاثرات اور جملے کنٹرول رکھتے ہیں ۔ اسی طرح کسی کی کمی ، معذوری ، داغ دھبے ، ظاہری حلیے پر تبصرےنہیں کرتے ۔ اُن کے درمیان رہتے ہوے اکثر بھول جاتا ہے کہ کیا کمی ہے ۔ اسی طرح ہمارے خاندان میں جاپانی بہوئیں بھی آئیں تو اُن کا بھی یہی انداز دیکھا کہ دل میں یقیناً وہ بھی اچھا برا سمجھتی ہوں گی لیکن تاثرات اور تبصروں پر کنڑول ہوتا ۔

ہاکستانی کلچر اس سے تھوڑا مختلف ہے ۔ ہم اپنی تشویش کا اظہار بہت ہی تشویشناک انداز میں کرتے ہیں کہ دوسرا تڑپ کر رہ جاۓ۔ خصوسا دوسرے کے بچے کو دیکھ کر ہماری زبان ایک دم پھڑک جاتی ہے اور ہم جلدی سے تقابل کر ڈالتے ہیں ۔ حسن پرست بھی ہم ہیں اور کمی یا زیادتی کے بھی ہمارے اپنے معیارات ہیں جس پر ہماری زبان میں ایسی کھجلی ہوتی ہے کہ بولے بنا رہنا محال ۔۔

ہمیں یاد ہے کہ ایک دفعہ ترکی جانا ہوا ۔ سخت دھوپ اور گرم موسم تھا ۔ واپسی میں پاکستان گے تو ہیٹ ریش ہو گیا ۔ بچے گرمی سے سنولا گۓ اور منہ پر خشکی کے سفید دھبے پڑ گۓ ۔ تبصروں کے لیے زہنی طور پر تیار تھے لیکن یہ تو بہت ہی شاکنگ تھا کہ اتنے عرصے بعد بچوں سے مل کر لوگوں کی نظریں واضح طور پر بچوں کے چہرے ہر ہی مرتکز رہتیں ۔ کچھ تو فورا ہی سوال کرتے ارے ان کو کیا ہوگیا ؟ کچھ بڑے ترحم سے نظر ڈالتے ارے مچھلی کے بعد دودھ پی لیا ہوگا۔ کیلشیم کی کمی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ کچھ بڑے پیار سے ہر ملاقات میں سوال کرتے اچھا اب تک ٹھیک نہیں ہوے ۔ اور ہم ان تبصروں سے چکراتے بچوں کو بچاتے پھرتے ۔ بڑا بیٹا زیادہ حساس تھا وہ تو پھر پاکستان میں لوگوں سے ملنے سے ہی کترا نے لگا ۔ شکر ہے پہلے ہفتے میں ہی بچوں کے چہرے دوبارہ صاف ہو گے ورنہ ہمارا بس نہ چلتا اپنے بچوں کو کسی طرح سب کے سوالات سے بچا لیں ۔

ایسے ہی اپنے اردگرد بہت سے پیارے پیارے بچوں کو ُاداس ہوتے دیکھا ہے ، اُلجھتے دیکھا ہے اور ان سوالات اور تبصروں پر روہانسو ہوتے دیکھا پر یہ سمجھ نہ آیا کہ ہم اپنے رویے کب بدلیں گے؟؟بچے تو ہم سب کو پتا ہے پھول جیسے ہوتے ہیں ۔ معصوم فرشتوں جیسے ۔ نازک نازک دل والے ۔ کیا ہم بچوں پر تبصرے کرنے کی اپنی عادتوں کو بدل نہیں سکتے ؟ یا کم از کم بچوں کے سامنے اپنی زبان پر کنڑول رکھنا ۔ اپنے چہرے کے تاثرات کو قابو کرنا ، کچھ مختلف دیکھ کر کسی کے جسمانی ہیئیت یا چہرے پر نظریں گاڑ کر نہ بیٹھنا ، کوئ آنکھوں کو نہ بھی بھاے تو بھی اپنی ناپسندیدگی ظاہر نہ کرنا ۔۔
روئیے تبدیل کرنے سے ہمارا کچھ نہ بگڑے گا نہ کچھ کمی آۓ گی بلکہ دنیا میں خوبصورتی بڑھے گی اور ہمارے اردگرد کے پھول اور فرشتوں جیسے بچوں کی مسکراہٹیں مزید رنگ بکھیریں گی ۔۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے پیدائشئ ، معاشرتی ، خاندانی اور وراثتی رویے تبدیل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ امین
تنقید مقصد نہیں بلکہ توجہ دلانا مقصد ہے اللہ تعالئ مدد کریں ۔ امین

اس بلاگ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں